• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

ترقیاتی فنڈز نہ ملنے پر اپوزیشن سراپا احتجاج

جون کا مہینہ جہاں اپنی شدید گرمی کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے ، وہاں اب وفاقی اور صوبائی بجٹ کے حوالے سے بھی اس کی اپنی شہرت ہے، اس مہینے میں جہاں پورئے ملک میں گرمی عروج پر ہوتی ہے وہاں بجٹ کے حوالے سے بھی گرما گرمی بڑھ جاتی ہے ، عوام میں اس بجٹ کے دوران حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات ، مختلف اشیا کی قیمتوں میں کمی ، نئے ٹیکسز نہ لگائے جانے اور پرانے ٹیکسز مین کمی کی خواہش ہوتی ہے تو سرکاری ملازمین تنخواہوں میں اضافے کی امید لگائے بیٹھتے ہیں۔ 

چند سال قبل تک بلوچستان کی صوبائی حکومتوں کی نظریں وفاقی پی ایس ڈی پی میں بلوچستان کے منصوبوں کو شامل کیے جانے پر لگی رہتی تھیں مگر اب اس حوالے سے کچھ سالوں سے صوبائی حکومتوں کی وفاق سے گلے شکوئے کم نظر آرہے ہیں شائد اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ صوبے میں گزشتہ کچھ عرصے میں برسراقتدار آنے والی حکومتیں وفاق میں حکمران جماعتوں کے اتھادی رہے ہیں۔ 

لیکن دوسری جانب بلوچستان میں صورتحال کچھ مختلف ہے ، اگرچہ بلوچستان میں جب سے موجودہ صوبائی حکومت برسراقتدار آئی ہے تب سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بجٹ کے موضوع پر بحث کا سلسلہ سال کے مختلف اوقات میں جاری رہتی ہے، اپوزیشن صوبائی بجٹ عدالت میں بھی لے جاچکی ہے اور اب جبکہ ایک بار پھرجون کا مہنیہ شروع ہوچکا ہے تو سیاسی حلقوں کے ساتھ عوامی حلقوں میں بھی بجٹ کا موضوع زیر بحث ہے اور ایسے میں اگر بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ہو اور بجٹ پر بحث نہ ہو یہ ممکن نہیں حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں ایک بار پھر صوبائی بجٹ پر بحث ہوئی۔

بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کا مسلسل یہ موقف ہے کہ صوبائی حکومت بجٹ میں اپوزیشن کو مکمل طور پر نظر انداز کرتی اور حکومتی ارکان کو فنڈز کے حوالے سے نوازتی ہے جبکہ اپوزیشن کی جانب سے حکومت پر یہ الزام بھی مسلسل لگایا جاتا ہے کہ حکومت نہ صرف اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کے حلقوں کو نظر انداز کررہی ہے بلکہ ان کے حلقوں میں غیر منتخب افراد خاص طور گزشتہ انتخابات میں اپوزیشن ارکان کے مقابلے مین انتخابات میں ناکام رہنے والے حکومتی جماعت کے رہنماوں کے صوابدید پر زیادہ فنڈز مختص کرتی ہے جس کی حکومتی وزرا و دیگر عہدیداروں کی جانب سے مسلسل تردید کی جاتی ہے۔ 

اپوزیشن جماعتوں نے عندیہ دیا ہے کہ اگر ماضی کو ایک بار پھر دہراتے ہوئے صوبائی حکومت نے اپوزیشن ارکان کے حلقوں کو بجٹ مین نظر انداز کیا تو ایکی بار احتجاج کے تمام زرائع اختیار کرتے ہوئے گزشتہ دو سال کے مقابلے میں اس بار زیادہ سخت احتجاج کیا جائے گا جبکہ بعض حکومتی وزرا سمیت دیگر حکومتی عہدیدار یہ کہتے ہیں کہ اپوزیشن کے احتجاج کا مقصد زیادہ سے زیادہ فنڈز کے حصول کے لئے صوبائی حکمت پر دباو ڈالنا ہے جبکہ صوبائی حکومت عوام کی ضرورت اور سہولیات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقیاتی منصوبے بناتی ہے حکومتی موقف اپنی جگہ مگر سیاسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے سنجیدہ سیاسی حلقون کا کہنا ہے کہ اس بار بجٹ میں اپوزیشن کا موقف زیادہ سخت ہوسکتا ہے ۔

بلوچستان اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں صوبائی پی ایس ڈی پی کے فنڈز لیپس ہونے کے مسلے پر ایک بار حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان تند و تیز جملوں کا تبادلہ ہوا ، حکومتی ارکان کا موقف تھا کہ اپوزیشن کے کورٹ میں جانے سے چار ماہ گزرنے کے باعث فنڈز کے مکمل استعمال میں کامیاب نہ ہوئے جبکہ اپوزیشن نے موقف اختیار کیا کہ حکومت کو اپوزیشن نے پی ایس ڈی پی کے درست استعمال سے نہیں روکا بلکہ پی ایس ڈی پی کے غلط استعمال اور مخصوص لوگوں کو نوازنے کے خلاف عدالت میں گئے تھے۔

اپوزیشن ارکان نے چیلنج کیا کہ حکومت خود ایک کمیشن بنائے جو گزشتہ تین سال کی پی ایس ڈی پی کی تحقیقات کرائے کہ فنڈز کہاں استعمال ہوئے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا ۔ جبکہ حکومتی ارکان نے موقف اختیار کیا کہ صوبائی حکومت صرف کوئٹہ میں 26 ارب روپے کی لاگت سے کام کررہی ہے یہ فنڈز اپوزیشن کے ارکان کے حلقوں میں بھی استعمال ہورہے ہیں اپوزیشن ان منصوبوں کو روکنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ 

پی ایس ڈی پی میں رکھے جانے والے فنڈز مکمل استعمال نہ ہوے کے حوالے سے گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ نے کہا تھا کہ اپوزیشن کی جانب سے پی ایس ڈی پی کو عدالت میں چیلنج کیے جانے کی وجہ سے چند کام نہ کرسکے جس سے فنڈز مکمل استعمال نہ ہوسکے ۔دوسری جانب وزیر اعلیٰ جام کمال خان نےگزشتہ دنوں آئندہ مالی سال کے بجٹ کے کچھ خد وخال شیئر کیے ہیں۔ 

جس میں انہوں نے کہا کہ ہیلتھ انشورنس اسکیم کے لئے ساڑھے پانچ ارب بلوچستان انٹر پرائز ڈویلپمنٹ کے لئے دو ارب،معذور افراد کے لیے کمک سپورٹ فنڈ میں دو ارب ،سرکاری ملازمین کے لئے اپنا گھر ہاوسنگ فنڈ میں تین ارب، اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لئے فنڈ میں پچاس کروڑ روپے، وومن اکنامک امپاورمنٹ فنڈ میں پچاس کروڑ روپے، بلوچستان پنشن فنڈ میں تین ارب، بلوچستان عوامی انڈومنٹ فنڈ میں دو ارب روپے کے اضافہ ، چھوٹے کاروبار کے لئے بغیر سود کے قرض کی اسکیم متعارف کرائی جائے گی جس کے لئے دو ارب روپے،فوڈ سیکورٹی کے روالونگ فنڈ کے لئے ایک ارب روپے رکھے جائیں گے۔

یہ تو ہماری سیاست میں اب معمول بن چکا ہے کہ ہر حکومت اپنا بجٹ پیش کرتے ہوئے اسے تایخی قرار دیتی ہے لیکن اسی وقت اپوزیشن کی جانب سے بجٹ کو عوام دشمن قرار دئے کر مسترد کردیا جاتا ہے ، تاہم یہ بات واضح ہے کہ بلوچستان جیسا صوبہ جو نہ صرف دنیا بلکہ ملک کے دوسرئے صوبوں سے بھی ترقی کی دوڑ میں نہ صرف بہت پیچھے ہے بلکہ عوام کی ایک بڑی تعداد آج بھی جدید دور تو دور کی بات ہے بنیادی سہولیات سے بھی محرم ہے ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن صوبے کی ترقی اور عوام کو مسائل سے نجات دلانے اور صوبے کو ترقی کی دوڑ میں شامل کرنے کے لئے سیاست سے دور رہ کر مشترکہ کوششیں کریں۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید