• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہم مذاکرات کیلئے تیار، تاخیر دوسری جانب سے ہے، ترجمان افغان طالبان


کراچی(ٹی وی رپورٹ) ترجمان افغان طالبان (دوحہ قطر )ڈاکٹرمحمد نعیم نے کہا ہے کہ ہم مذاکرات کیلئے تیار ہیں لیکن دوسری جانب سے تاخیر ہورہی ہے، وہ جیو نیوز کے پروگرام ’’جرگہ میں بات چیت کررہے تھے، پروگرام میں صحافی طاہر خان اور سمیع یوسف زئی نے بھی گفتگو کی۔

پروگرام کے آغاز میں میزبان سلیم صافی نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ9/11 کے بعد امریکا اپنے نیٹو کے اتحادیوں کے ساتھ اس نعرے کے ساتھ افغانستان میں آیا تھاکہ وہاں سے القاعدہ اور طالبان کا خاتمہ کرکے اسے ایک جمہوری اور پر امن ملک بناکر رہے گا۔لیکن20 سالہ جنگ کے بعداب امریکا افغانستان کو اس حالت میں چھوڑ کر نکل رہا ہے کہ وہاں پر خانہ جنگی کا خطرہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ امریکا اور نیٹو اس انجام سے کیوں دوچار ہوئے اور اب عجلت میں کیوں بھاگ رہے ہیں۔

اصل ذمہ دار خود امریکا ہے جس نے اپنے ساتھ نیٹو ممالک کو بھی ہزیمت سے دوچار کیا۔ ترجمان افغان طالبان (دوحہ قطر) ڈاکٹرمحمد نعیم نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ عید کے دوسرے دن ہم نے اعلان کیا تھا کہ مذاکرات کے لئے تیار ہیں ہم نے مذاکراتی ٹیم تشکیل دے دی ہم ابھی بھی انتظار میں ہیں لیکن دوسری جانب سے تاخیر ہورہی ہے اور وہاں سے مذاکراتی وفد بھی مکمل نہیں ہو پارہا ہے۔کچھ دن قبل ان کی ٹیم کے سربراہ آئے تھے اور ہمارے مشیران سے بات چیت بھی ہوئی تھی۔ اس بات چیت میں اتفاق ہوا تھاکہ مذاکرات کو تیزی سے آگے بڑھایا جائے اس کے بعد ہم ابھی ان کی طرف دیکھ رہے ہیں ہماری طرف سے کوئی رکاوٹ کوئی مشکل نہیں۔ اماراتی اسلامی افغانستان کا یہ موقف ہے کہ تمام مسائل کا حل بات چیت میں ہے۔ جو افغان طالبان اور امریکا کے درمیان معاہدہ ہوا ہے اس میں جنگ بندی کے بارے میں طے ہوا ہے اس کے دوست ممالک اور سلامتی کونسل نے بھی تائید کی ہے۔جنگ کا آغاز ہماری طرف سے نہیں ہوا تھا۔سب سے پہلے ہماری یہی کوشش تھی کہ بیرونی قوتوں کو افغانستان سے نکالا جائے۔

ہم چاہتے ہیں کہ جو جھگڑا ابھی باقی رہ گیا ہے اس کا بات چیت سے حل نکالا جائے۔ کسی طرف سے بھی امن کی کوئی کوشش ہوئی ہے اس میں ہم شریک رہے ہیں۔ جب ترکی میں کانفرنس کے حوالے سے خبریں آنا شروع ہوئیں تو اس وقت ہمیں علم نہیں تھاکہ وہاں کیا ہورہا ہے ۔ جب ہم ترک حکومت کے عہدیداروں سے ملے اور ہمارے ساتھ معلومات کا تبادلہ کیا گیا ۔

ترکی میں کانفرنس کے حوالے سے جب کوئی حتمی بات سامنے آئے گی تو تب ہم اپنا موقف دیں گے۔ افغانستان میں سفارتخانوں، ہوائی اڈوں، اسپتالوں اور درسگاہوں کی حفاظت افغان خود کریں گے اس کے لئے کسی کی ضرورت نہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ اس خطے میں بیرونی افواج کی موجودگی کسی کے مفاد میں نہیں، بیرونی قوتوں کی موجودگی سے خطے میں مشکلات پیدا ہوں گی۔

صحافی طاہر خان نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طالبان اور افغان حکومت میں بہت جلد مفاہمت کا امکان نہیں ہے۔نو ماہ کے مذاکرات میں ایجنڈے پر بھی اتفاق نہیں ہوسکا ہے۔اس سے آپ اندازہ لگا لیں کہ مفاہمتی عمل کتنا مشکل ہوگا۔جنگ میں بہت شدت آگئی ہے ابھی جو اطلاعات آرہی ہیں طالبان روزانہ ایک دو اضلاع پر قبضہ کرتے ہیں۔اس وقت افغان لڑائی کا سب سے تلخ پہلو یہ ہے کہ دونوں جانب سے افغان مر رہے ہیں۔

دوحہ معاہدے کے بعد سے اب تک ایک غیر ملکی فوجی بھی ہلاک نہیں ہوا ہے۔پاکستان کے دو وفد افغانستان گئے ہیں۔طالبان کہہ رہے ہیں جنگ بندی اس وقت کریں گے جب موجودہ حکومت چلی جائے۔ صحافی سمیع یوسف زئی نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کا یہاں آنے کا ایک ہدف تھا۔20 سال یہاں ٹھہرے کچھ اہداف انہوں نے حاصل کئے مثلاً طالبان دور حکومت ختم ہوا۔

افغانستان میں امریکا کی دلچسپی ختم ہورہی ہے جس کے باعث طالبان کااثر و رسوخ، کنٹرول اور حملے بھی زیادہ ہورہے ہیں۔ گزشتہ چالیس سال میں افغانوں نے اپنی طرف سے کوئی سیاسی سیٹ اپ نہیں کیااگر ہوا بھی توپشاور کے گورنر ہاؤس یا اسلام آباد میں ہوا۔اس کا کوئی ٹریک ریکارڈ نہیں کہ افغانوں نے خود بیٹھ کر اس کا حل نکالا ہو۔اگر طالبان چاہتے ہیں کہ عالمی برادری کا فعال حصہ رہیں اور افغانستان کی حکومت میں بھی رہیں پھر تو کچھ بن سکتا ہے۔

اہم خبریں سے مزید