• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’ماہی گیری کی صنعت‘‘ زبوں حالی کا شکار ہے

سندھ کا شہر، سانگھڑ جہاں زراعت کے شعبے میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتا ہے وہاں ماہی گیری کی صنعت میں بھیاس کا نمایاں مقام ہے۔ نارا کینال سمیت ضلع سانگھڑ سے 18کلومیٹر دور جنوب میں واقع چٹیاریوں ڈیم سمیت کئی لاکھ ایکڑ رقبے پر پھیلی ہوئی میٹھے پانی کی قدرتی جھیلیں ہیں۔ ماضی میں ان کی تعداد پچاس سے بھی زیادہ تھی، 45کے لگ بھگ جھیلیں چٹیاریوں ڈیم کی تعمیر کی نذر ہوگئیں باقی ماندہ جھیلیں جن میں بقار جھیل، سرن واری، لونگر اور چمڑائو ایریا جھیل کا سلسلہ ضلع نواب شاہ اور ضلع خیرپور کی سرحد سے جاملتا ہے۔ ان میں ہزاروں اقسام کی مچھلیاں موجود ہیں جن میں کرڑا مچھلی (جسے اردو زبان میں روہو مچھلی کہا جاتا ہے) مورکھا، تھیل، سنگھاڑا، لاچی، شاکر، ڈائی، سریا اور فوجی کھگاہ شامل ہیں۔ 

یہ مچھلیاں پہلے بہ کثرت دستیاب تھیں تاہم کچھ عشرے قبل ٹھیکیداری نظام نے اس صنعت کو تباہ کردیا ۔ ٹھیکیداروں نے نہ تومحکمہ فشریز کے مروجہ اصولوں کی پاسداری کی اور نہ ہی شکار پر پابندی کے دنوں کی پروا کی۔ سال کے بارہ مہینے مچھلیوں کے شکار کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں ان جھیلوں میں مچھلی کی پیداوار میں کمی ہوگئی۔ ماہی گیروں کے مطابق مچھلیوں کی اس بری طرح نسل کشی کی گئی کہ اس پیشے سے وابستہ غریب خاندان روزی روٹی کے محتاج ہوگئے۔

ماضی میں ان جھیلوں میں یومیہ سیکڑوں من مچھلی کا شکار ہوتا تھا جن میں اکثر 20کلوگرام اور اس سے زیادہ وزن کی ہوتی تھیں۔ آج صورت حال یہ ہے کہ چار سے پانچ کلو گرام وزن کی بھی مچھلی شاذ و نادرہی جال میں پھنستی ہے۔ ماہی گیروں کے مطابق ’’ماضی میں جب مچھلی کےنرخ مارکیٹ میں انتہائی کم ہوا کرتے تھے مچھلیوں کی یومیہ پیداوار چار سے پانچ لاکھ روپے سے ہرگز کم نہ تھی جبکہ آج صورت حال یہ ہے کہ اب پیداوار ایک لاکھ روپے سے کم ہوگئی ہے‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ ٹھیکیداری نظام سرکاری ٹیکس کی مد میں تقریباً ستر سے 80لاکھ روپے سالانہ ادائیگی کی جاتی تھی۔ اور سالانہ آمدن 14سے پندرہ کروڑ روپے سے تجاوز تھی۔ 

اس کاروبار پر سیاسی اثر و رسوخ کے حامل افراد کا قبضہ رہا جس کی وجہ سے عام ماہی گیروں کو معاشی طور سے نقصان پہنچا۔ بکار جھیل اب تفریحی مقام بن گئی ہے چٹیارو ڈیم کی سیر کے لئے آنے والے سیاح بکار جھیل کی سیر کرنے ضرور آتے ہیں۔ وہ کشتیوں میں بیٹھ کر مچھلیوں کے شکار سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور مشہور ڈش ’’بکار ڈش‘‘ بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ 

واضح رہے کہ اس مرتبہ حکومت سندھ کے محکمہ سیاحت سندھ ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ایس ٹی ڈی سی) کی جانب سے سال 2020ء کے آخری سورج کو الوداع اور نئے سال 2021ء کو ویلکم کرنے کے لئے ضلعی ہیڈکوارٹر سانگھڑ میں مشہور جھیل بقار پر نیو ائیر 2021ء فیسٹیول منعقد کیا گیا جس میں مقامی افراد کے علاوہ ملک کے دیگر علاقوں سے بھی سیاحوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی تھی۔