• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بزرگ شہریوں کی فلاح، گھریلو تشدد سے تحفظ کا بل پیر تک موخر


بزرگ شہریوں کی فلاح اور گھریلو تشدد سے تحفظ کے بل پر قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی رپورٹ سینیٹ میں پیش کردی گئی۔

اپوزیشن کی شیری رحمٰن نے الزام لگایا کہ ان کا گھریلو تشدد کی ممانعت کا بل پہلے غائب ہوا، پھر حکومتی بل کی صورت میں آگیا۔

شیریں مزاری نے کہا کہ بل ڈیڑھ سال پہلے آیا، جس پر قائد ایوان نے دونوں بلز قومی اسمبلی واپس بھجوانے کی تجویز دے دی۔

چیئرمین سینیٹ کے مطابق دونوں بلوں کی منظوری پیر کو لی جائے گی۔

اپوزیشن سینٹرز کی مخالفت کے باعث حکومت نے گھریلو تشدد ممانعت اور بزرگ شہریوں کی فلاح کے بلز کی فوری منظوری پیر تک موخر کر دی۔

سینٹر شیری رحمان نے کہا کہ میرے انسانی حقوق سے متعلق دو بلز غائب ہیں، ہم محنت کرکے بلز لاتے ہیں لیکن وہ غائب ہو جاتے ہیں اور حکومت اس جیسے اپنے بلز لے آتی ہے۔

گھریلو تشدد ممانعت اور تحفظ کے بل اور بزرگ شہریوں کی فلاح کا بل پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کی رپورٹ پیش کی گئیں۔

سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ ان بلز کو ہمیں دیکھ لینے دیں، بلز کی منظوری ایک دن بعد دیکھ لیتے ہیں۔

سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ شیریں رحمٰن اپنا بل تو 5 منٹ میں منظور کروا لیتی ہیں، لیکن دوسرے بلز پر انھیں ایک دن درکار ہے۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ گھریلو تشدد کا شیری رحمٰن کا نجی بل بھی ایوان میں آیا تھا، رانا مقبول کا نجی بزرگ شہریوں کے تحفظ کا بل بھی پیش کیا گیا تھا۔

ہمیں ایک دن تو دے دیں کہ ہم بلز کو پڑھ تو لیں، بل پیر کو منظور ہو جائے گا۔

شیری رحمٰن نے کہا کہ ممبرز 5،5 سال کام کرکے نجی بلز لیکر آتے ہیں، لیکن نجی بلز غائب ہو جاتے ہیں، میرا گھریلو تشدد کی ممانعت کا بل غایب ہو گیا اور حکومتی بلز بن کر آ گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ نجی بلز سینیٹ میں آتے ہیں اور غائب ہو جاتے ہیں، میرے انسانی حقوق سے متعلق دو بلز غائب ہیں۔

شیری رحمٰن نے یہ بھی کہا کہ بچوں کی شادی ممانعت کا بل سینیٹ سے پاس ہو گیا لیکن قومی اسمبلی میں سامنے نہیں آرہا۔ بعد میں وہ حکومتی بلز بن کر آ جاتے ہیں۔

شیریں مزاری نے کہا کہ جس دن بچوں کی شادی کی ممانعت کا بل قومی اسمبلی میں آیا تو میں اس کی خود حمایت کروں گی ، بلکہ پیش بھی کر دوں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ شیری رحمٰن کا گھریلو تشدد کا بل، بچوں کی شادی کی ممانعت کا بل میں قومی اسمبلی میں چیک کرتی ہوں۔

چیئرمین سینیٹ نے گھریلو تشدد کی ممانعت اور بزرگ شہریوں کے تحفظ کے بلز کی منظوری پیر تک موخر کر دی۔

قومی خبریں سے مزید