• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا کی انتظامیہ کے ذہن میں یہ خیال پوری طرح راسخ ہوچکا ہے کہ اگر چین کا راستہ نہیں روکا گیا تو وہ بہت جلد امریکا سے اس کی عالمی چوہدراہٹ چھین لے گا ۔ عالمی امور پر نظر رکھنے والوں کے لیے یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ ظاہر ہے کہ امریکا کے پاس ہر شعبے کے چوٹی کے ماہرین ہیں اور اس کی انٹیلی جینس کی صلاحیت اور ذرایع دنیا بھر سے کہیں زیادہ ہیں۔ لہذا اُسے ہر جگہ سے ہر پل کی خبریں ملتی رہتی ہیں جس کی بنیاد پر اہم فیصلے کیے جاتے ہیں۔

پھر چین کی حیران کن ترقی تودنیا دیکھ رہی ہے،تو امریکا اُس سے کیسے صرفِ نظر کرسکتا ہے۔چین نےپچّیس تیس برسوں میں جس طرح اپنے اندرونی مسائل پر قابو پاکر پہلے اپنی اقتصادی حالت بہتر بنائی اور پھر عالمی اقتصادیات میں اپنا قد و کاٹھ بلند کیا اُس نے عالمی نظام کے بہت سےسکّہ بندکھلاڑیوںکوپہلے ششدر کیا اور اب خوف میں مبتلا کر دیاہے۔اب یہ ملک جس تیزی سے جدید سائنس اورٹیکنالوجی،بالخصوص ہائی ٹیک انڈسٹری میں اپنے قدم جمارہا ہے اور جس طرح دفاعی اور حربی میدان میں پیش رفت کررہا ہے اس نےامریکا اور یورپ کو طرح طرح کے خوف اور خدشات میں مبتلا کردیا ہے۔

پہلے امریکیوں کو سب سے زیادہ خطرہ روس سے تھا،لیکن اب وہ چین کو اس سے بھی بڑا خطرہ سمجھنے لگے ہیں۔چناں چہ اب انہوں نے روس کے ساتھ چین کے خلاف بھی سرد جنگ شروع کردی ہے۔وہ دیکھ رہے ہیں کہ روس اورچین پینگیں بڑھارہے ہیں اور دونوں ممالک مل کر امریکاکے نئے ورلڈ آڈرکو چیلنج کررہے ہیں۔اور ایسا ہوناکوئی انوکھی بات نہیں ہے کیوں کہ یہ دونوں ممالک اچھی طرح جانتے ہیں کہ امریکا بہادران کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے کے ساتھ ان کے داخلی معاملات میں مداخلت بھی کررہا ہے۔ اس تناظر میں حال ہی میں روس کے صدر ولادی میر پوٹن اوران کے امریکی ہم منصب، جو بائیڈن کے درمیان جنیوامیں ہونے والی ملاقات پر دنیا بھر کی نظریں لگی ہوئی تھیں۔

اس موقعے پر بعض سیاسی تجزیہ نگار روس اور امریکا کے درمیان موجود ماضی اور حال کی تلخیوں کا تذکرہ کررہے تھے تو بعض امریکا اور روس کی آئندہ کی حکمتِ عملیوںپر بحث کررہے تھے۔ بعض کا خیال تھا کہ امریکا روس کو اپنے قریب لاکر اسے چین سے دُور کرنے کی کوشش کرے گا تو بعض کا کہنا تھا کہ جو بائیڈن سخت لب و لہجہ اختیار کرنے کے بجائےسفارت کاری کے جوہر دکھائیں گےاور پوٹن کو امریکا کے طے شدہ میدان میں کھیلنے پر مجبور کردیں گے۔

لیکن ہوا ایسا کچھ بھی نہیں۔یہاں تک کہ اس اہم ملاقات سے پہلے دونوں ممالک کے حکام بات چیت کے ایجنڈے تک پر متفق نہیں ہوسکےتھےجو چھوٹےسے چھوٹے ممالک کے سربراہان کی ملاقات کے ضمن میں بھی لازمی تصور کیا جاتا ہے۔ہاں اتنا ہوا کہ بات چیت کے ممکنہ اہم نکات جاری کردیے گئے تھے۔ پھر یہ کہ ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیہ بھی جاری نہیں ہوا۔

یہ ملاقات ایسے موقعے پرہوئی جب جی سیون کے رکن ممالک کے کارنوال میں حالیہ اجلاس اور اس کے بعد برسلز میں امریکا، یورپی یونین اورنیٹو کے سربراہی اجلاس میں کچھ پیغامات یا اشارے دیے گئےتھےجو دراصل روس اور چین کے لیے تھے۔ اپنے اس دورے میں امریکاکے صدر بیجنگ اور ماسکو پر یہ واضح کرنےکی کوشش کرتے نظرآئے کہ یورپی ممالک اگرکسی کے ساتھ ہیں تو وہ صرف امریکا ہے۔

اس ملاقات کے بعد جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ انہوں نے پوٹن کے ساتھ ملاقات میں انسانی حقوق،سائبر حملوں، مشرقی یورپ میں اتحادیوں کے تحفظات سمیت اہم معاملات پر تفصیل سے گفتگو کی ۔دوسری جانب پوٹن نے بائیڈن کو ایک تعمیری رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اچھے ماحول میں کئی ایک اختلافی معاملات پر تبادلہ خیال کیا اور دونوں رہنماؤں نے اپنے سفیروں کو ایک دوسرے کے ملکوں میں واپس بھجوانے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ ملاقات اگرچہ چارگھنٹے تک جاری رہی،لیکن جو بائیڈن کے مشیروں نے اس کی طوالت کے ضمن میں جن توقعات کا اظہارکیا تھا، وہ پوری نہیں ہو سکیں۔

یادرہے کہ امریکانے2020کے صدارتی انتخاب میں مبینہ مداخلت اور امریکا کے وفاقی اداروں پر سائبر حملوں کو بنیاد بناکرروس پر پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔ روس ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کر چکا ہے۔رواں برس اپریل کے مہینے میں صدر بائیڈن نے روس کے دس سفارت کاروں کو ملک سے نکالنے کا حکم دیا اور روس کی کئی کمپنیز پر پابندی بھی عاید کر دی تھی۔

جواب میں روس نے بھی امریکی سفارت کاروں کو ملک سےنکالنے کا اعلان کیا تھا۔روسی سفیر کی وطن واپسی کا اعلان امریکی صدر جوبائیڈن کے اے بی سی ٹیلی ویژن پرمارچ کے مہینے میں نشر ہونے والے انٹرویو کے بعد سامنے آیاتھا۔ 

اس انٹرویو میں صدر بائیڈن نے کہا تھا کہ روسی صدر ولادی میر پوٹن کو اپنے بدخواہانہ اقدامات کی قیمت چکانی پڑے گی۔جوبائیڈن کے بہ قول انہوں نے روسی ہم منصب سےکہا تھا کہ میرے خیال سے آپ میں احساس نہیں ہے، جس پر ان کے بہ قول روسی صدر نے جواب دیا تھا کہ ہم ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔مذکورہ انٹرویو کے دوران جب صدر بائیڈن سے پوچھا گیاکہ آیا وہ سمجھتے ہیں کہ پوٹن قاتل ہیں، تو انہوں نےجواب میں کہا تھا کہ میں ایسا ہی سمجھتا ہوں۔ دوسری جانب امریکی تھنک ٹینک رینڈ کارپوریشن سے منسلک ایک سینئر فیلو، ولیم کورٹنی کے مطابق یہ بہت کم ہوتا ہے کہ امریکی صدرکسی حریف ملک کےسربراہ کوقاتل سے تشبیہ دے۔

جنیوا میں ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر بائیڈن نے کہا کہ انہوں نے روس میں انسانی حقوق کی صورتِ حال بہ شمول امریکا کے دو شہریوں کی گرفتاری کے معاملے پر زور دیا۔ بائیڈن کے بہ قول امریکی شہریوں کو ناجائز طور پر روس میں قید رکھا گیا ہے ۔ 

ان کا کہنا تھا کہ وہ روس میں حزب اختلاف کے رہنما ، الیکسی ناوالنی کے معاملے پر اپنے تحفظات کا اظہار جاری رکھیں گے اورروس میں بنیادی انسانی حقوق کے بارے میں خدشات کا اظہار کرتے رہیں گے۔ جوبائیڈن نے ایک بریفنگ میں کہا کہ وہ اورمسٹر پوٹن کچھ عرصے سے سائبرسیکیورٹی کے معاملے پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ بائیڈن کے بہ قول انہوںنے واضح کر دیا کہ امریکا ان اقدامات کاجواب دے گا جوامریکا اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کو زک پہنچاتے ہوں۔

اس سے قبل روس کے صدرولادی میرپوٹن نے سربراہ اجلاس کے بعد صحافیوں کو بریف کیا۔ انہوں نے جوبائیڈن کی تعمیری سوچ اوران کے انتہائی تجربہ کار رہنماہونے کی تعریف کی۔نیوز کانفرنس میں پوٹن نے کہا کہ ان کے خیال میں جو بائیڈن اور وہ خود ایک ہی زبان بول رہے تھے، باوجود اس کےکہ کئی معاملات پرکافی اختلافات موجودتھے۔ انہوں نےکہا کہ جوبائیڈن تعمیری ، متوازن اور انتہائی تجربہ کار ہیں۔ پوٹن سے جب سوال کیا گیاکہ جو بائیڈن نےتو ایک حالیہ انٹرویو میں انہیںقاتل قرار دیاہے، تو انہوں نے کہا کہ مسٹر بائیڈن نے اس بارے میں ان کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو میں اپنا موقف بیان کر دیا تھا۔ روسی صدر نے کہا کہ ہمیں ایک دوسرے کی آنکھوں اور دل میں جھانکنے کی ضرورت نہیں۔ 

ہم دونوں اپنے ملکوں اور عوام کے مفادات کا دفاع کر رہے ہیں اور ہمارے تعلقات عملیت پسندی پر مبنی ہیں۔اڑسٹھ سالہ صدرپوٹن نےملاقات ختم ہونےکےبعد پہلے صحافیوں کو بریفنگ دی اورکہاکہ امریکی ہم منصب کے ساتھ ان کی ملاقات سود مند رہی ہے۔ ملاقات دوستانہ ماحول میں ہوئی، جس میں ان کے بہ قول، دونوں راہ نماوں کی جانب سے ایک دوسرے کو سمجھنے کی خواہش ظاہر ہوتی ہے۔ پوٹن نے یہ بھی کہا کہ روس اور امریکا جوہری معاملات میں استحکام کی مشترکہ ذمہ داری رکھتےہیں اور جوہری اسلحے کو محدود کرنے کے نئے ’’اسٹارٹ‘‘ معاہدے میں حالیہ توسیع کے حوالے سے ممکنہ تبدیلیوں پر مذاکرات کریں گے۔

اس ملاقات سے قبل صدر بائیڈن نیٹو سربراہی اجلاس میں پہلی بار شرکت کے لیے اس اعلان کے ساتھ برسلز پہنچے تھےکہ امریکا ایک بار پھر اس مغربی اتحاد میں واپس آ گیا ہے۔ نیٹو کے سیکریٹری جنرل اسٹولٹن برگ کے ساتھ ملاقات میں صدر بائیڈن نے کہاتھا کہ میں تمام یورپی ملکوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ امریکا اب یہاں موجود ہے۔

اس ملاقات میں اسٹولٹن برگ نے کہاتھا کہ وہ بائیڈن سے چین اور روس کی جانب سے بڑھتے ہوئے خطرے کے سدباب کے بارے میں مشاورت کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ بلقان کی ریاستوں سےافریقاتک چین کی عسکری موجودگی میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ نیٹو کو تیار رہنا چاہیے۔چین ہمارے قریب آتا جا رہا ہے،چاہے وہ سائبراسپیس ہویا افریقا ۔ اور اس کے ساتھ چین ہمارے اہم انفراسٹرکچر پر بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

برسلز کانفرنس سے ایک روز پہلے نیٹو کے رکن ممالک کے اکثر راہ نما کورنوال، برطانیا، میں جی سیون سربراہی اجلاس میں ایک دوسرے سے مل چکے تھے۔ اس اجلاس میں چین سے کہا گیاتھا کہ وہ اپنے انسانی حقوق کے معاملات درست کرے۔ اس کے جواب میں چین نے کہاتھا کہ یہ گروپ اپنی شہرت داغ دار کر رہا ہے۔

برسلز میں ہونے والی نیٹو سربراہ کانفرس کے راہ نماؤں نے چین کو ایک مسلسل خطرہ اور روس کی بعض فوجی سرگرمیوں کوجارحانہ قرار دیاتھا۔ نیٹو سربراہ کانفرنس کے ایک بیان میں اتحاد کے راہ نماؤں نےکہا کہ چین کے عزائم اور جارحانہ رویہ قوانین اور ضابطوں کی بنیاد پر قائم بین الاقوامی نظام اور نیٹو اتحاد کی سکیورٹی سے متعلق شعبوں کے لیے باقاعدہ مشکلات پیدا کر رہا ہے۔

تیس ملکوں کے سربراہوں اور حکومتوں نے اگرچہ چین کو دشمن کہنے سے احتراز کیا ،تاہم انہوں نے چین کی بعض پالیسیزپر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ مبہم انداز میں اپنی مسلح افواج کو جدید بنانے اور غلط معلومات پھیلانے کی پالیسیزجاری رکھے ہوئے ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیغام جو بائیڈن کے عالمی راہ نماؤں سے چین کی اقتصادی،عسکری اور انسانی حقوق سے متعلق سرگرمیوں کے خلاف اظہار خیال کرنے کے مطالبے کے مطابق ہے۔

نیٹو کے رکن ممالک کے راہ نماوں نے اپنے اعلامیے میں نیٹو اتحاد میں شامل ملکوں کی سرحدوں پر روس کی عسکری سرگرمیوں اور روسی طیاروں کی جانب سے ان ملکوں کی فضائی حدود کی بار بار خلاف ورزیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

ان کا کہنا تھاکہ روس نے نیٹو اتحاد میں شامل ملکوں کے خلاف کئی اقسام کےاقدامات اٹھائے ہیں، جن میں ان کے انتخابی عمل میں مداخلت کی کوششیں، سیاسی اور اقتصادی دباو میں اضافہ، ڈس انفارمیشن کی مہمات اور سائبر حملے شامل ہیں۔ اور جب تک روس بین الاقوامی قوانین کی مکمل پاس داری کےلیے اپنی ذمے داری پوری نہیں کرتا، اس کےساتھ معاملات معمول پر نہیں آسکتے ۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے صدر بائیڈن سے اپنی بین الاقوامی ذمے داریوں سے وابستہ رہنے اور سنجیدگی سے عمل کرنے کی اپیل کی تھی۔

اس سے قبل رواں برس مارچ کے مہینے میں امریکا اور چین کے حکام کے درمیان منعقد ہونے والے اعلیٰ سطح کے ایک اجلاس کے دوران دونوں ممالک کےوفود کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور الزامات کا تبادلہ ہوا تھا۔ان مذاکرات کے دوران چینی سفیر نے کہاتھا کہ امریکا کو اس خوش فہمی کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں کہ چین کسی معاملے پر کوئی سمجھوتا کرے گا۔

اب یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی ہےکہ امریکا چین کو مستقبل کے بڑے خطرے کے طورپر دیکھ رہا ہے۔ چناں چہ چینی حکام سے ملاقات سے قبل امریکی وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن کا ایشیاکا دورہ اور دیگر اتحادیوں سے رابطہ اس جانب اشارہ تھاکہ امریکا چین کےخلاف اپنا اتحاد مضبوط کر رہا ہے۔

رواں ماہ میں امریکا سے چین مخالف تین اہم خبریں آچکی ہیں۔جون کے ابتدائی ایّام میں یہ خبر آئی کہ جوبائیڈن نے ایک نئے حکم نامے پردست خط کر دیے ہیںجس کے تحت چین کی اٹھائیس کمپنیز پر امریکا میں سرمایہ کاری کرنےپر پابندی عاید کردی گئی ہے۔ یہ حکم نامہ سابق صدر کے دور کے حکم نامے کا تسلسل ہے جس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اکتّیس کمپنیز پر پابندی عاید کی تھی۔ 

تیرہ جون کو یہ خبر آئی کہ امریکا کے جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل مارک ملی نے چین کی بڑھتی ہوئی فوجی صلاحیتوں کے بارے میں متنبہ کیا ہے؎ملی نے آرمڈ سروسز سے متعلق امریکی سینیٹ کی کمیٹی کی سماعت سے قبل اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہمیں یقینی بنانا چاہیےکہ ہم اپنی مسابقتی اور تیکنیکی برتری برقرار رکھیں۔چینی فوج اپنی صلاحیتیں انتہائی سنجیدہ اورپائےدار شرح سے بڑھارہی ہے۔

یاد رہےکہ واشنگٹن نےکئی سالوں سے قومی سلامتی کی پالیسی میں اپنے مدمقابل بیجنگ کو پیش پیش رکھا ہے۔ دونوں ممالک تجارت اور تائیوان کے معاملے سےلےکر چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت تک کے معاملات پراختلاف رکھتے ہیں۔ امریکی صدرجوبائیڈن اور ان کے سکریٹری برائے دفاع لائیڈ آسٹن، چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت اور پوری دنیا میں چین کےاثر و رسوخ کے بارے میں یک ساں خدشات ظاہرکرچکے ہیں۔

اس کے جواب میں اسی ماہ چین کی پارلیمانی کمیٹی برائے امور خارجہ نے چین کو ایک خیالی دشمن کے طور پر پیش کرنے کی امریکی کوششوں پر تنقید کی تھی اور امریکی سینیٹ کے ذریعے چینی معیشت کو ناکام بنانے کے مقصد سے ایک وسیع صنعتی پالیسی بل کی منظوری کے جواب میں چین کے قانون سازوں نے امریکی ہم منصبوں کو بے وقوف اور دھوکے بازکہا تھا۔ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ یہ بل چین کی ٹیکنالوجی اور اقتصادی میدانوں میں ترقی کے جائز حق پر اعتراض ہے۔

چین کا راستہ روکنے کی امریکی کوششوں کے ضمن میں رواں ماہ یہ خبر بھی آئی کہ جو بائیڈن کی انتظامیہ چین کے روڈ اینڈ بیلٹ پروجیکٹ کا متبادل لانا چاہتی ہے۔جو بائیڈن کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ امریکا غریب اور ترقی پزیر ممالک میں انفراسٹرکچر بہتر بنانے کے لیے مالی طور پر ایسے منصوبے سامنے لائے گا جو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا مقابلہ کر سکیں۔

مذکورہ خبروں،جوبائیڈن کےحالیہ دوروں، ملاقاتوں اورحالات و واقعات کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ اب امریکا ان دونوں ممالک کے خلاف مختلف محاذوں پر تیزی سے کام کرنا چاہتا ہےجس سے کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔