• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مرتب: محمّد ہمایوں ظفر

میرے شوہر ایک بینک میں اچھے عہدے پر فائز ہیں۔2010ء میں انہیں اعلیٰ کارکردگی پر انعام کی صُورت کچھ نقد رقم ملی۔ بچّے اور میں بہت خوش تھے۔ انعام کی رقم ملنے پر میں نے یوں ہی ازراہِ مذاق اُن سے کہا کہ ’’مجھے کیا لے کر دیں گے؟‘‘ وہ جواباً مسکرائے اور کہا کہ ’’بیگم! آج میں بہت خوش ہوں، مانگو، جو مانگنا ہے۔‘‘ میں نے ایک لمحہ ضایع کیے بغیر کہا کہ ’’مجھے عُمرے پر لے جائیں۔ ایک عرصے سے دل میں اللہ کا گھر دیکھنے کی حسرت، روضۂ رسولؐ پر جانے کی تمنّا ہے۔‘‘ یہ سنتے ہی انہوں نے جھٹ کہا ’’آپ نے تو میرے منہ کی بات چھین لی۔ اِن شاء اللہ تعالیٰ ہمارا رب ہمیں ضرور اپنے گھر میں حاضری کے لیے بلائے گا۔‘‘ پھر کچھ ہی دن بعد تمام کارروائی مکمل کر کے انہوں نے عُمرے پر جانے کی خوش خبری سنائی، تو میں ہکّا بکا رہ گئی اور خوشی سے سر بہ سجود ہوگئی۔

دو ہفتے بعد جب ہم حرم پاک پہنچے، تو خوشی و مسّرت سے میرے دل کی عجب کیفیت ہورہی تھی، دل سے شوہر کے لیے بہت سی دعائیں نکلیں۔ حرم پاک پہنچ کر سب سے پہلے عُمرے کی سعادت حاصل کی۔ پھر تین دن کے بعد مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہوگئے۔ وہاں ہمیں 8دن قیام کرنا تھا۔ خوب سیر ہو کے روضۂ پاکؐ کی زیارت کی۔ واپسی سے قبل باجماعت نمازوں کی گنتی کی، تو وہ 39 بن رہی تھیں۔ ہماری بس، نمازِ عصر سے پہلے روانہ ہونے والی تھی اور ہم اس کا پیشگی کرایہ ادا کر چکے تھے۔

 کہتے ہیں کہ جس نے مدینے میں 40نمازیں باجماعت ادا کیں، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں، یہ سوچ کر ہم نے آپس میں صلاح مشورہ کیا اور بس والوں کو آگاہ کردیا کہ روانگی سے چند منٹ قبل آجائیں گے۔ پھر ہم نے صحنِ مدینہ میں 40 نمازیں پوری کیں، اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی کا بے حد شکر ادا کیا اور پھر روضۂ پاکؐ کی الوداعی زیارت کے بعد کھانا کھایا، تو تازہ دَم ہوگئے۔ دل کو جیسے قرار سا آگیا۔

مکّہ پہنچے، تو دوسرے دن نمازِ ظہر کی ادائیگی کے لیے مَیں وضو خانے گئی۔ وضو سے فارغ ہوکر حرمِ پاک کے احاطے میں داخل ہونے لگی، تو پتا چلا کہ میرا بیگ وضو خانے ہی میں رہ گیا ہے۔ پریشانی کے عالم میں بھاگتے ہوئے وضو خانے گئی، سب جگہ تلاش کیا، مگر بے سود۔ میرے بیگ میں پاکستانی کرنسی، ریال، پاسپورٹ اور شناختی کارڈز سمیت تمام ضروری کاغذات تھے۔ یہ سوچ کر دل ہولنے لگا کہ دوسرے دن پاکستان واپسی ہے۔سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں، آخر بے قراری کے عالم میں اِدھر سے اُدھر بھاگتے ہوئے اچانک سجدے میں گر کر اللہ پاک سے گڑگڑا کر دُعا کرنے لگی کہ’’اے اللہ! ہم تیرے مہمان ہیں۔ 

تُو نے ہی ہمیں اپنے گھر بلایا ہے اور اب تُو ہی ہمیں اس مشکل گھڑی سے نکالے گا۔‘‘ دل کو محکم یقین تھا کہ اللہ ضرور مدد فرمائے گا۔ مَیں بار بار وضو خانے کے چکّر کاٹ رہی تھی، تو دل میں خیال آیا کہ اسی طرح حضرت امّاں حاجرہؑ نے بھی بیٹے کے لیے پانی کی تلاش میں چکّر لگائے تھے اور اُس وقت انہوں نے اللہ سے جو دعا مانگی، رب نے قبول کی۔ یہ سوچ کر سچّے دل اور پورے یقین کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی کہ’’ اے اللہ! اس دُعا کے صدقے میری گریہ و زاری اپنی بارگاہ میں قبول فرما اور مجھے اس پریشانی سے نجات دلادے۔‘‘ پورے یقین اور تیقّن سے دُعا مانگنے کے بعدبیگ کی تلاش میں دوبارہ وضو خانے گئی۔ طائرانہ نظروں سے وضو خانے کے اِردگرد دیکھ رہی تھی کہ وہاں ایک دفتر نظر آیا، تو یہ سوچ کر اندر چلی گئی کہ شاید یہاں سے بیگ کا معلوم ہوسکے۔ 

مگر وہ خالی تھا۔ پھر دوبارہ اِدھر اُدھر چکر کاٹنے لگی اور مسلسل آیتِ کریمہ کا ورد کرتے ہوئے دوبارہ دفتر کے اندر گئی، تو کونے میں ایک برائون کلر کا بیگ نظر آیا، جھٹ اٹھایا اور دیکھا، تو وہ میرا ہی تھا۔ مجھے دیکھ کر ایک خادمہ دوڑتی ہوئی قریب آئی اور مجھ سے استفسار کیا، تو مَیں نے فوراً اپنا شناختی کارڈ نکال کر اسے دکھایا اور بتایا کہ یہ میرا ہی بیگ ہے۔ اس نے چند سوالات پوچھ کر بیگ لے جانے کی اجازت دے دی۔ بیگ ملنے کی خوشی سے میرے آنسو نکل آئے۔ حرم پاک پہنچ کر باجماعت نماز ادا کی اور پریشانی سے نجات ملنے پر اللہ ربّ العزت کا لاکھ لاکھ شُکر ادا کیا۔ واقعی اللہ بڑا رحیم و کریم ہے۔ وہ سچّے دل سے مانگی ہوئی دُعا کبھی رَد نہیں کرتا۔ (نازیہ ارشاد وارث، سرگودھا)

سُنیے…آپ سے کچھ کہنا ہے…!!

اگر آپ کے ذہن میں کوئی ایسا واقعہ محفوظ ہے، جو کسی کردار کی انفرادیت، پُراسراریت یا واقعاتی انوکھے پن کی بِنا پر قارئین کے لیے دل چسپی کا باعث معلوم ہو، تو فوراً قلم اٹھائیے اور اس صفحے کا حصّہ بن جائیے۔ یہ واقعات قارئین کے شعور و آگہی میں اضافے کے ساتھ اُن کے لیے زندگی کا سفر آسان کرنے میں بھی ممدومعاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ واقعات بھیجنے کے لیے تحریر کا پختہ ہونا ضروری نہیں، صرف سچّا ہونا لازم ہے۔ نیز، اپنا نام و پتا بھی لکھیے تاکہ رابطے کی ضرورت محسوس ہو، تو رابطہ کیا جاسکے۔ ہمیں اپنی تحریریں اس پتے پر بھیجیں۔

ایڈیٹر،سنڈے میگزین صفحہ ’’ناقابلِ فراموش‘‘، روزنامہ جنگ، شعبہ میگزین، اخبار منزل، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی۔

تازہ ترین