• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

پانی اور گیس کی قلت: سندھ کے ہزاروں کسان اور مزدور بیروزگار

سندھ سمبلی نے مالی سال 2020 -21 کا بجٹ کی اپوزیشن کے شور شرابے میں چند لمحوں میں منظوری دیدی ،قائد ایوان اور وزیر اعلیٰ سندھ نے جن کے پا س وزارت خزانہ کا قلمدان بھی ہے ایوان میں ضمنی مطالبات زر پیش کئے انہیں بھی منظور کرلیا گیا۔ اپوزیشن ایوان میں موجود تھی وہ احتجاج اورنعرے بازی کرتی رہ گئی لیکن اس کی کسی نے نہیں سنی۔اسپیکر آغا سراج درانی کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپوزیشن کو بہت سمجھانے کی کوشش کی لیکن کسی نے ان کی بات نہیں مانی ۔ 

ایم کیو ایم پاکستان کے ارکان اجلاس کے آغاز میں ہی اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ لے کر کھڑے ہوگئے جن پر مختلف احتجاجی نعرے درج تھے۔اپوزیشن ارکان نے ایوان میں نعرے بازی کا سلسلہ بھی شروع کردیا۔شور شرابے کے دوران اسپیکر نے قائد ایوان سید مراد علی شاہ کو ایوان میں ضمنی بجٹ پیش کرنے کی اجازت دیدی۔وزیر اعلیٰ سندھ نے مالی سال 2020-21ءکے لئے 95 ارب 34 کروڑ روپے مالیت کے مطالبات زر ایوان میں پیش کئے ایوان نے آج ان مطالبات زر پر مشتمل ضمنی بجٹ کی بھی منظوری دے دی ۔

اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی کوئی تحریک پیش نہیں کی ، حکمراں پیپلزپارٹی نے سندھ اسمبلی سے بجٹ منظور کرانے کے لئے جو حکمت عملی طے کی تھی وہ کامیاب رہی اور سندھ اسمبلی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ بجٹ پر قائد حزب اختلاف اورقائد ایوان دونوں کو بجٹ کی منظوری سے قبل پارلیمانی روایت کے مطابق تقریرکرنے کا موقع نہیں ملا کئی پارلیمانی لیڈر اور وزراءبھی اظہار خیال کرنے سے محروم رہے۔سندھ اسمبلی کی منقسم اپوزیشن کے سبب پیپلزپارٹی کا کام آسان ہوگیا اور اس نے بلاکسی رکاوٹ کے چند لمحوں میں بجٹ پاس کرالیا ۔ 

سندھ اسمبلی میں منقسم اپوزیشن کے باعث پیپلز پارٹی کوواک اوور مل گیا۔ایم کیوایم سمیت کسی اپوزیشن رکن نے بجٹ تجاویز پر ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔جبکہ پی ٹی آئی کے رکن سندھ اسمبلی ارسلان تاج نے الزام لگایا ہے کہ پیپلز پارٹی نےغیر جمہوری طریقے سے بجٹ منظور کرواکر بدترین تاریخ رقم کی۔ اجلاس کے بعدسندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈرکنور نوید جمیل اور جی ڈی اے کے پارلیمانی لیڈر بیرسٹر حسنین مرزا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی ، اپوزیشن رہنماؤں نے عندیہ دیا کہ اس معاملے پر ہم خاموش نہیں رہیں گے۔ 

کنور نوید جمیل نے کہا کہ اس بجٹ میں بھی ماضی کی طرح شہری علاقوں کیلئے کوئی تر قیاتی اسکیم نہیں رکھی گئی ہے ۔ ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر نے کہا کہ حلیم عادل شیخ کو ہمارے احتجاج میں شامل ہونا چاہیئے تھا مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ڈنکے کی چوٹ پر احتجاج کیا اپوزیشن لیڈر اکیلے جا کر اسپیکر سے ملتے رہےانہوں نے کہا کہ ان کا کہنا تھا کہ ہم سندھ حکومت کے بجٹ اخراجات کو غلط سمجھتے ہیں اورہم اب احتجاج کو اسمبلی سے باہر سڑکوں پر لے جائیں گے۔

اس موقع پر جی ڈی اے کے پارلیمانی لیڈر حسنین مرزا نے کہا کہ پیپلزپارٹی جب اپوزیشن میں تھی تو اس نے بجٹ کتابوں کو آگ لگائی تھی ۔سندھ میں سویلین ڈکٹیٹر شپ قائم ہے۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی جب سندھ اسمبلی میں اپوزیشن میں تھی تو ڈپٹی اسپیکر کے روسٹرم پر چڑھ کر اس کاتقدس پامال کیاتھا۔حسنین مرزا نے کہا کہ ایوان میں آواز بند کی گئی تو سندھ کے گلی کوچے میں جائیں گے۔

جبکہ صوبائی وزرا ناصر حسین شاہ ،سعید غنی اور مرتضی وہاب نے پریس کانفرنس میں کہا کہ اپوزیشن ارکان کو بجٹ اجلاس میں پورا پورا موقع دیا گیا مگر وہ شور شرابہ کرتے رہے کراچی میں اکیس کالجز بن رہے ہیں اپوزیشن سندھ سے مخلص ہے تو پانی گیس ،بجلی ،مردم شماری پر احتجاج کرے سندھ اسبلی میں اپوزیشن کی تقسیم اور نا تجربہ کاری کا پی پی پی نے بھر پور فائدہ اٹھایا کہا جا رہا ہے کہ اپوزیشن آنے والے دنوں میں مزید منقسم نظر آئی گی جبکہ کنٹونمنٹ کے آنے وانے بلدیاتی انتخابات میں اپوزیشن ایک دوسرے کی سخت حریف بھی ہو گی۔ 

دوسری جانب ایم کیو ایم بھی کھل کر سندھ حکومت کے خلاف کھڑی ہو گئی ہے ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ 3جو لا ئی ہم سندھ حکومت کو سڑک پر پہلا نو ٹس دینے جا رہے ہیں اس ریلی میں صرف کا رکنان ہو نگے آپ نے عوام کو یہ پیغام دینا ہے کہ ہم سڑ ک پر آچکے ہیں عوام نے ہر اچھے برے وقت میں آپ کا ساتھ دیا ہے پاکستان کی حرمت کو بچانے کیلئے ہم 14اگست کو اپنا دن سمجھیں گے اور ہم یوم آزادی نہیں بلکہ ما ہ آزادی منا ئیں گے ابھی کچھ عرصہ قبل کلچر ڈے کے حوالے سے بحث ہو رہی تھی تو ہماری ثقافت، ہماری تہذیب برصغیر کی سب سے ترقی یافتہ تہذیب ہے ایم کیو ایم پاکستان آئندہ ستمبر میں ایام ہجرت منائے گی جس میں ہجرت کی تاریخ اور مہاجر ثقافت کو اجاگر کیا جائیگا۔ 

ادھر وفاق اور سندھ کے درمیان ایک کے بعد ایک اختلافی ایشوز پیدا ہو رہے ہیں صوبائی وزرا ناصر حسین شاہ اور سعید غنی نے پر یس کانفرنس میں کہا کہ ایک کروڑ نوکریاں دینے کا دعویٰ کرنے والوں نے سندھ کا پانی اور گیس بند کر کے ہزاروں کسانوں اور مزدوروں کو بے روزگار کردیا ہے۔ صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ پاکستان کا اٹوٹ حصہ ہے، خدارا سندھ کے عوام سے زیادتیاں بند کریں۔

سندھ کے عوام کے دل جیتنے کے لیے آگ کے دریا سے گذرنا پڑتا ہےایک طرف پانی، گیس اور بجلی کی بندش کر کے عوام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے دوسری جانب وفاقی حکومت نے سندھ کو ترقیاتی منصوبوں میں مکمل طور پر نظر انداز کر دیا ہے کئی سال سےرینی کینال ، گاج ڈیم ، جامشورو -سہون ہائی وے سمیت کئی اہم منصوبوں پر کئی سالوں سے کام مکمل نہیں ہو ا۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید