• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ میں کچے کے جنگلات سے ڈاکو راج کے خاتمے کا حتمی فیصلہ کرلیا گیا ہے ۔ شکارپور، سکھر، کشمور کچے میں 280 کلو میٹر سڑکیں بنیں گی اور پولیس کو جدید گاڑیاں اور اسلحہ فراہم کردیا گیاہے۔ پاک فوج کی خدمات بھی حاصل کرلی گئی ہیں، شکارپور آپریشن کے نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں پولیس کی متعدد تجاویز حکومت نے منظور کرلیں دیگر پر غور جاری ہے۔ 

پیپلزپارٹی کی اعلی قیادت خاص طور پر پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلیٰ سندھ، سید مراد علی شاہ کو سندھ کے کچے کے جنگلات سے ڈاکوئوں کے خاتمے، مثالی امن کے قیام کو یقینی بنانے کے لئے پولیس کی قیادت کو مکمل سپورٹ اور ان کی ضروریات پوری کرنے کی ہدایات دے دی ہیں۔ 

وزیر اعلی سندھ، سید مراد علی شاہ نے آئی جی سندھ ،مشتاق احمد مہر کو حکومت کی جانب سے ہرممکن تعاون اور مکمل سپورٹ کرتے ہوئے آپریشن کے لئے فری ہینڈ دے دیا ہے جب کہ آئی جی سندھ مشتاق احمد مہر بھی اس حوالے سے بہت زیادہ متحرک ہوگئے ہیں اور قیام امن کو یقینی بنانے کے لئے شکارپور سمیت مختلف اضلاع میں پولیس افسران کے تبادلے اور پہلی مرتبہ ان افسران کی سابقہ کارکردگی اور انٹرویو کی بنیاد پر انہیں تعینات کیا گیا ہے جبکہ شکارپور اور کشمور سمیت دیگر اضلاع جہاں ڈاکوئوں کے خلاف آپریشن ہورہا ہے یا ہونا ہے وہاں جدید طرز کی اے پی سی گاڑیاں ، اسلحہ اور دیگر ساز و سامان فراہم کیا گیا ہے۔ 

پولیس کے لئے جدید طرز پر اے پی سی گاڑیاں تیار کی گئی ہیں اب ان گاڑیوں کے اندر سے پولیس جوان فائر نگ کرسکیں گے، سندھ میں شکارپور اور کشمور اضلاع اغوا برائے تاوان کی انڈسٹری بن چکے تھے اور خاص طور پر شکارپور بد امنی کی لپیٹ میں تھا،اغوا کی فزیکل وارداتیں معمول تھیں، پشاور سے کراچی جانے والی انڈس ہائی وے پر خان پور کے نزدیک روزانہ ڈکیتی، لوٹ مار کی وارداتیں رونما ہوتی تھیں لیکن ایس ایس پی، تنویر حسین تنیو جو پاکستان پولیس سروس میں سندھ کے وہ آفیسر ہیں جو اینٹی ڈکیٹ آپریشن کی مہارت کے باعث بہت زیادہ شہرت رکھتے ہیں اور سندھ کے مختلف اضلاع میں جہاں بھی وہ تعینات رہے وہاں مثالی امن قائم کیا، جن میں سکھر، شہید بینظیر آباد، دادو، لاڑکانہ سمیت دیگر اضلاع شامل ہیں۔ 

اگر انہیں پولیس کا ایک ’’اینٹی بائیوٹک‘‘ آفیسر کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کیونکہ سنگین جرائم سے لے کر عام معاشرتی برائیوں تک ان کی برداشت کا پیمانہ زیرو ہے۔ صرف ایک ماہ میں شکارپور میں کرائم کا تناسب 50 سے 70 فیصد تک کم ہوا ہے ۔شکارپور سندھ کا وہ ضلع ہے جہاں پولیس نے ڈاکوئوں کے خلاف جو بھی آپریشن کئے وہ نہ صرف ناکام ہوئے بلکہ پولیس کو ہر مرتبہ افسران اور جوانوں کی لاشیں ملیں ۔

ایک ماہ قبل بھی ڈاکوئوں نے ایک اے پی سی چین گاڑی پر حملہ کرکے دو پولیس اہلکاروں کو شہید اور متعدد کو زخمی کرکےیرغمال بنا لیا ۔ڈاکوئوں نے جشن مناتے ہوئے پولیس کی بکتر بند اڑی پر چڑھ کر فائرنگ کی، اور پولیس کو للکارتے ہوئے یہ الٹی میٹم دیا کہ جب آئو گے ایسا ہی ہوگا۔ یہ وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد حکومتی ایوانوں میں ہلچل مچ گئی، وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ اور آئی جی سندھ مشتاق احمد مہر نے فوری طور پر شکارپور کی آپریشن کمانڈ تبدیل کرتے ہوئے تنویر حسین تنیو کو ایس ایس پی شکارپور تعینات کیا ۔ 

عام تاثر یہ تھا کہ اب تنویر حسین تنیو آگئے ہیں اور وہ پولیس فورس کے ساتھ کچے میں گھس جائیں گے لیکن انہوں نے ماضی کے تمام پولیس آپریشن کے برعکس اپنی پالیسی کے تحت آپریشن کا آغاز کیا اور آپریشن کو ٹارگیٹڈ آپریشن کا نام دیتے ہوئے اسے مختلف فیزز میں تقسیم کیا۔ 

کچھ چیزیں انہوں نے میڈیا سے شئیر کیں کچھ ان کیمرا ہیں۔ سب سے پہلے آپریشن کمانڈر تنویر حسین تنیو نے اپنا کیمپ کچے کے علاقے گڑھی تیغو میں قائم کیا اور وہاں بیٹھ کر اپنی ٹیم کے ساتھ نقشوں ڈرون، نائٹ وژن کیمروں اور دیگر جدید آلات کے ذریعے آپریشن کی حکمت عملی مرتب کی جس میں ڈاکوئوں کی سپلائی لائن کو توڑتے ہوئے ان کی رسد کو ختم کرنا، ڈاکوئوں کی گزر گاہوں پر مستقل پولیس چوکیوں کا قیام، کچے کے تمام راستے جہاں سے ڈاکو فرار ہوسکتے ہیں وہ سیل کرتے ہوئے ان کے گرد گھیرا تنگ، ڈاکوئوں کے کچے پکے کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی سمیت متعدد ایسے اقدامات ہیں جو اس آپریشن کو کامیاب بنانے کے لئے کئے گئے ہیں۔

اینٹی ڈکیٹ آپریشن کے ماہر تنویر حسین تنیو نے شکارپور کچے میں ٹارگیٹڈ آپریشن میں فوری اور بڑی کامیابی حاصل کی اور پولیس مقابلے میں بدنام ڈاکو جھرکی تیغانی اور عبدالجبار تیغانی مارے گئے، جو ان کی آمد کا روایتی پیغام اور اعلان تھا جس کے بعد میڈیا،سوشل میڈیا و دیگر حلقوں میں شکارپور پولیس کی کارگردگی کو سراہا گیا، آپریشن کمانڈر ایس ایس پی تنویر حسین تنیو صبح ناشتے سے لے کر رات کے کھانے تک اپنا زیادہ وقت کچے میں پولیس جوانوں کے ساتھ گزارتے ہیں اور دن میں ایک وقت روزانہ عوام سے آفس میں ملاقات کے لئے مختص ہے جہاں جا کر وہ عوام کے مسائل سن کر انہیں ترجیحی بنیادوں پر حل کرتے ہیں اور اگر خود پہنچنا ممکن نہ ہو تو کسی افسر کی ذمہ داری لگاتے ہیں تاکہ دفتر آنے والے لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ 

اس وقت شکارپور کچے کے علاقوں اور جنگلات میں خاموشی کا عالم ہے، اور پولیس آپریشن کے لئے مستقل اور عارضی مورچے قائم کرنے میں مصروف ہے ۔ ڈاکوئوں کے خلاف آپریشن کے حوالے سے آپریشن کمانڈر تنویر حسین تنیو نے جنگ سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکوئوں کی مکمل سرکوبی کے لئے آئی جی سندھ مشتاق احمد مہر نے سندھ بھر خاص طور پر شکارپور، کشمور اور دیگر اضلاع کو فوکس کیا ہوا ہے وہ ہماری مکمل رہنمائی کررہے ہیں۔ 

انہوں نے بتایا کہ حکومت کا بھی پولیس کو ہرممکن تعاون حاصل ہے اور حکومت نے اس سال بجٹ میں شکارپور کشمور اور سکھر کچے کے تین اضلاع میں 280 کلو میٹر پکی سڑکیں تعمیر کرانے کا منصوبہ رکھا ہے، ان سڑکوں کی تعمیر سے کچے کے علاقوں میں صحت تعلیم کے شعبے میں بہتری کے ساتھ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے۔ 

ان علاقوں میں مکمل طور پر پولیس کی رسائی ہوگی، جرائم میں کمی آئے گی اور ڈاکو کلچر کا بھی خاتمہ ہوگا، انہوں نے کہا کہ شکارپور ضلع بد امنی کی لپیٹ میں تھا جہاں اغوا برائے تاوان، چوری، ڈکیتی ، لوٹ مار اور قبائلی جھگڑوں کے باعث امن و امان کی صورتحال خراب تھی اور اس ضلع میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن اور امن قائم کرنا پولیس کے لیے کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں ہے ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ہو یا قبائلی جھگڑوں کے باعث قیمتی انسانی جانوں کو بچانا، جرائم پیشہ عناصر اور معاشرتی برائیوں کا خاتمہ اور عوام و پولیس میں دوریاں ختم کرکے پولیس اور عوام کے درمیان روابط کو مضبوط و مستحکم بنانے سمیت جرائم سے پاک معاشرے اور عوام دوست پولیسنگ سمیت وہ ان تمام چیزوں کو سامنے رکھ کر کام کررہے ہیں جس سے اس ضلع میں پولیس پر عوام کا اعتماد بحال ہو اور ڈاکوئوں، جرائم پیشہ عناصر اور قبائلی تنازعات کو ختم کیا جائے۔ 

قبائلی تنازعات کی یہ صورتحال ہے کہ پولیس نے ضلع شکارپور کے 8 ہزار اشتہاریوں کی فہرست مرتب کی ہے جو قبائلی جھگڑوں کے اشتہاری ہیں ان کی گرفتاری کو یقینی بنایا جائے گا۔ قبائلی جھگڑوں سے نا صرف امن و امان کی صورتحال خراب ہوتی ہے بلکہ کچے کے علاقوں کے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

جن علاقوں میں قبائلی جھگڑے ہیں وہاں بچے تعلیم حاصل نہیں کرسکتے یہ بچے ہمارا مستقبل ہیں کچے کے رہائشی بچوں میں بہت زیادہ ٹیلنٹ ہے لیکن تعلیم سڑکیں روڈ راستے نہ ہونے اسکول بند ہونے کی وجہ سے یہ ضائع ہورہا ہے کیونکہ بدامنی کے باعث کہیں اسکول بند ہیں تو کہیں اسکول کھلے ہیں لیکن اساتذہ اور بچے خوف کے باعث نہیں آتے ہیں۔ 

میں کچے کے متعدد علاقوں میں گیا ہوں بچے بہت ٹیلینٹڈ ہیں وہ پڑھنا بھی چاہتے ہیں والدین پڑھانا چاہتے ہیں لیکن قبائلی تنازعات کے باعث وہ علم کے زیور سے محروم ہیں ہمیں ان چیزوں کو درست کرنا ہوگا اور یہ خوشی کی بات ہے کہ پولیس نے جو تجاویز حکومت کو دیں اس کو مثبت انداز میں لیا گیا اور ان پر کام ہورہا ہے حکومت کی جانب سے ہر سال بجٹ میں اگر کچے کے علاقوں میں سڑکیں تعمیر کرنے کا منصوبہ شامل ہوگا تو اس سے بڑی مثبت تبدیلی آئے گی۔ 

مجھے شکارپور تعینات کیا گیا اور آئی جی سندھ کی جانب سے مکمل فری ہینڈ دیا گیا ہے۔ میرا بھی ڈاکوئوں اور جرائم پیشہ عناصر کے لئے یہ "پیغام امن" ہے جہاں تک پہنچے کہ ڈاکو اور جرائم پیشہ عناصر اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کردیں ان سے کوئی زیادتی نہیں ہوگی اور انہیں جیل منتقل کیا جائے گا وہ اپنے مقدمات کا سامنا کریں پولیس سرنڈر کرنے والے ڈاکووں و جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ تعاون کرے گی وہ جیل جائیں اور اصلاح کرکے ایک اچھا شہری بن کر باہر نکلیں اور کچے کے جنگلات میں روپوش رہنے کے بجائے آزادفضا میں سانس لیں اپنے بچوں کو تعلیم دلائیں تاکہ پڑھ لکھ کر یہ بچے کل مختلف شعبوں میں جاکر ملک و قوم کی خدمت کریں اور کچے کے علاقوں میں خوشحالی آئے۔ 

یہ میرا پیغام ہے جو میں چاہتا ہوں، لیکن اگر ڈاکو اور جرائم پیشہ عناصر لڑنا چاہتے ہیں تو بھی انہیں بھرپور جواب دیا جائے گا پولیس پوری طرح تیار ہے اور یہ آپریشن ذرا مختلف ہے اسے سمجھنے میں ٹائم لگے گا، تب تک گاڑی نکل چکی ہوگی اس لئے پولیس نے سندھ حکومت کی مکمل حمایت کے ساتھ ڈاکوئوں کی سرکوبی اور ڈاکوئوں سے کئی ارب روپے مالیت کی ڈیڑھ لاکھ ایکڑ اراضی واگزار کرانے کے لئے حتمی فیصلہ کرلیا گاڑیاں ، جدید اسلحہ، ٹیکنالوجی پولیس کمانڈوز بھی موجود ہیں اور پاک فوج کی مدد بھی حاصل ہے اب ہم ڈاکوئوں کی مکمل سرکوبی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ 

ہم چاہتے ہیں کہ اس آپریشن سے وقتی نہیں مستقل امن قائم ہو، انہوں نے کہا کہ ماضی میں شکارپور میں آپریشن نہیں کارروائیاں ہوئی ہیں جو غیر موثر ثابت ہوئیں اور ہر بار پولیس کو معمولی نہیں بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہمیں اپنے شہداء پر فخر ہے اور شہدائے پولیس کی قربانیاں ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔ 

پولیس صبح یا دوپہر کچے میں جائے اور شام کو واپس آجائے یہ آپریشن نہیں کاروائی ہوتی ہے آپریشن کا مقصد ہے پولیس کچے میں جائے اور کیمپ قائم کرکے بیٹھ جائے جب تک ڈاکوئوں کا خاتمہ نہ ہو اور پولیس اپنا ہدف حاصل نہ کرلے وہ کچے سے واپس نہ آئیں اس طرح کے آپریشن کامیاب بھی ہوتے ہیں میں نے پہلے دن سے آپریشن شروع کیا ہے لیکن مسلسل حکمت عملی اور ٹارگٹ کے ساتھ تاکہ ہم اپنا ہدف بھی حاصل کریں اور ہماری پولیس بھی محفوظ رہے مجھ پر ابتدا میں تنقید کی گئی کہ آپریشن بند کردیاہے اور مختلف باتیں کیں لیکن میں تجویز پر توجہ اور تنقید کو نظرانداز کرکے اپنے کام پر فوکس رکھتا ہوں۔

میں نے شکارپور میں ہونے والے ماضی کے تمام آپریشنز کا جائزہ لیا اور اس میں حصہ لینے والے افسران اور اہلکاروں سے معلومات لیں اس کو سامنے رکھ کر میں نے آپریشن کی پالیسی بنائی اور اس حکمت عملی کو وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ اور آئی جی سندھ مشتاق احمد مہر نے ایک بہتر حکمت عملی قرار دیا اور اس کے تحت آپریشن کی ہدایات دیں ایک ماہ میں کافی کام کیا ہے اور ہم کچے کے آپریشن میں مسلسل آگے کی طرف بڑھ رہے ہیں اور ڈاکوئوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جارہا ہے، اب وقت قریب ہے جب ڈاکوئوں کو راستہ نہیں ملے گا اس صورتحال میں وہ مزاحمت کریں گے۔ ایس ایس پی تنویر حسین تنیو نے کہا کہ ہر سال کچے میں پانی آنے سے ڈاکو فائدہ اٹھاتے ہیں اور پولیس آپریشن نہیں کرپاتی اس بار پانی آنے کا فائدہ بھی پولیس کو ہوگا اور اب یہ آپریشن کچے میں پانی کی سطح بلند ہونے تک بھی جاری رہے گا۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید