• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

عید الاضحیٰ... رُخ پہ احباب کے پھر رنگِ مسرت آئے

تحریر: نرجس ملک

ماڈل : مشعل، سعدیہ، نور، قاسم، محمّد بلال، محمد دانیال، زرنش عاصم، مہ روش عاصم

ملبوسات: شاہ پوش

زیورات : زیور کلیکشن

آرایش: دیوا بیوٹی سیلون

عکّاسی: عرفان نجمی

لے آؤٹ: نوید رشید

ہم ’’عہدِ کورونا‘‘ میں یہ لگاتار چوتھی عید منانے جارہے ہیں۔ عید کے لغوی معنی تو یہی ہیں کہ ’’جو بار بار آئے‘‘ تو عیدیں تو رہتی دنیا تک لوٹ کےآتی ہی رہیں گی، لیکن اللہ نہ کرے کہ ہمیں پانچویں عید بھی اس عالم گیر وبا کورونا کےسائے میں منانی پڑے۔ وہ ساغر صدیقی نے کہا تھا ناں کہ ؎ لےکےحالات کےصحرائوں میں آجاتا ہے…آج بھی خلد کی رنگین فضا عید کا چاند…تلخیاں بڑھ گئیں جب زیست کے پیمانے میں…گھول کے درد کے ماروں نے پیاعیدکاچاند۔ توجانےکتنے مساکین و غرباء، مفلسوں، ناداروں کے سال بھر کے سب ارمان، خواہشیں، تمنّائیں، آرزوئیں اِن ہی دو تہواروں سے منسوب و مشروط ہوتی ہیں کہ ’’عید آئے گی تو نئے کپڑے، جوتےلیں گے، ’’عید آئے گی، تو گوشت پکے گا، بریانی کھائیں گے‘‘ اور ’’عید آئے گی تو گھومنے جائیں گے، جھولوں پہ بیٹھیں گے‘‘۔ 

خاص طور پر وہ، جو ؎ بھوک چہروں پہ لیے چاند سے پیارے بچّے…بیچتے پِھرتے ہیں گلیوں میں غبارے بچّے۔ اور ؎ آج پھر ماں مجھے مارے گی بہت رونے پر.....آج پھر گائوں میں آیا ہے کھلونے والا۔ تو ان معصوموں کی تو اَن گنت چھوٹی چھوٹی خوشیاں، ننّھی ننّھی خواہشات اِن ہی عید تیوہاروں کی مرہونِ منّت ہوتی ہیں، اُن کی عید پر بھی نہ عید ہوئی، تو یہ تو بڑا المیہ ہوا ناں!! یوں بھی اس کورونا کے عفریت نے جہاں بہتوں کو نگل لیا، وہاں کتنے ہی اِس کے ہاتھوں زندہ درگور بھی ہوگئے کہ ایک تو ویسے ہی بھوک ننگ، غربت و افلاس نے چہار سُو ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں، اُس پر اِس وَبا، اور پھر ہوش رُبا منہگائی نے بھی جانے کتنوں کے روزگار چھین لیے، کتنے گھروں کے چولھے ٹھنڈے کردیئے ہیں۔ جب کہ اسی جہاں میں ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں کہ جن کی بقول حیدر علی آتش ؎ ہر شب شبِ برات ہے، ہر روز، روزِ عید۔

عیدین کے اصل معنی و مفہوم، مطلب و مقصد کو پیشِ نگاہ رکھیں تو دو لفظوں ’’اجتماعیت و درد مندی، ایثار و قربانی‘‘ سے بھی باآسانی وضاحت ممکن ہے۔ اللہ ربّ العزت نے سورۃ الحج کی آیت نمبر37میں واضح طور پر فرمادیا ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ کو نہ تو قربانی کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون بلکہ اُسےتمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔‘‘ اسی طرح قربانی کی دُعا کا ترجمہ ہے، ’’مَیں نے متوجّہ کیا اپنے منہ کو اُسی کی طرف، جس نے بنائے آسمان اور زمین یک سُو ہوکر اور مَیں نہیں ہوں شرک کرنے والوں میں سے۔ بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور مرنا اللہ ہی کے لیے ہے، جو سارے جہاں کا پالن ہار ہے۔‘‘ جب کہ قربانی کے بعد مانگی جانے والی دُعا کا ترجمہ اس طرح ہے، ’’اےاللہ! اس قربانی کو مجھ سے قبول فرما، جیسے کہ آپ نے قبول کیا، اپنے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اور اپنے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام سے۔‘‘ تو ہمارے تو یہ اجتماعی تہوار بھی، دنیا بھر کی اقوام و مِلل، ادیان و مذاہب سے یک سر جداگانہ ہیں۔ 

یہ محض خوشی و مسّرت کے دو مواقع، دنیاوی رنگینیوں، رعنائیوں سے لُطف اندوز ہونے کے سامان نہیں، ان کے پیچھے بہت گہرا فلسفہ، بڑا عظیم مقصد اور درس پوشیدہ و پنہاں ہے۔ بقول مفتی منیب الرحمٰن ’’روح کی لطافت، قلب کے تزکیے، بدن و لباس کی طہارت اور مجموعی شخصیت کی نفاست کے ساتھ انتہائی عجز و انکسار، خشوع و خضوع اور اسلامی اتحادو اخوّت کےجذبے سےسرشار ہوکرتمام مسلمانوں کا اللہ ربّ العزّت کی بارگاہ میں سجدئہ بندگی اور نذرانہ شُکر بجا لانا ہی ’’عید‘‘ ہے‘‘۔ اور سالِ گزشتہ سے تو یہ عیدیں جن حالات میں آرہی ہیں، اُن میں تو اِن کی حقیقی رُوح پر عمل پیرا ہونے کی اہمیت دوچند ہوگئی ہے۔ تو خدارا!اِس عید الاضحی، جانور کے ساتھ اپنی ’’مَیں مَیں‘‘ اور لالچ کی بھی قربانی کرتے ہوئے اُن مساکین و غرباء کا ضرور خیال رکھیے گا کہ جن کی جُھکی کمر اس کورونا نے بالکل توڑ کے رکھ دی ہے۔ بقول سردار محمد شمیم ؎ عرض کی اِک عالمِ دیں سے ’’مہربانی کریں …کیا کروں اس عید پر، کچھ راز افشانی کریں‘‘ …مُسکرا کر پیار سے حضرت نے مجھ سے یوں کہا …’’گوشت کی تقسیم میں لالچ کی قربانی کریں‘‘۔

رنگوں، خوشبوئوں، خوشیوں، مسّرتوں، نعمتوں، راحتوں، تحفوں، عنایتوں پر اِک ہمارا ہی حقِ فائق نہیں۔ یہ ساری کائنات اور کُل مخلوق جس خالق و مالک کی تخلیق ہے، احکامات بھی اُسی کے نافذ ہوں گے۔ اور اُس نے اِن تہواروں کو منانے کے سب طور طریقے بھی پوری صراحت و فصاحت سے بیان کردیئے ہیں اور پھر خوش بخت امّتِ مسلمہ کے لیے تو نبی آخرالزّماں حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوئہ حسنہ کی صُورت اِک اِک حکمِ ربّی کی عملی تفسیر بھی موجود ہے۔ سو، کم از کم یہ عیدالاضحی تو اس عہد کی تجدید کے ساتھ ہی منائی جائے کہ ؎ رُونما جس کی بدولت جلوئہ اُمید ہو…دُور ظلمت ہو دِلوں سے، اور گھر گھر عید ہو۔

ہماری طرف سے اس رنگا رنگ، ’’عید بزم‘‘ کے تحفے اور بہت سی پُرخلوص دعائوں کے ساتھ ’’عید الاضحی‘‘ کی پیشگی مبارک باد قبول فرمائیے۔ اللہ کرے کہ یہ عید سب کو راس آئے۔

سنڈے میگزین سے مزید
جنگ فیشن سے مزید