• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کورونا پینڈامک،برطانوی موت پر بات کرنے میں زیادہ آسانی محسوس کرتے ہیں

لندن (پی اے) ایک ریسرچ میں پتہ چلا ہے کہ کورونا وائرس کوویڈ 19پینڈامک کے بعد برطانوی موت کے بارے میں زیادہ کھلے انداز میں بات کر رہے ہیں اور اب تین چوتھائی ایڈلٹس اپنی فیونرل خواہشات کے بارے میں بات کرنے میں آرام محسوس کرتے ہیں۔ کوآپ فیونرل کیئر کی جانب سے کئے جانے والے ایک سروے میں 18 سے 24 سال عمر کے تقریباً 40 فیصد افراد پہلے ہی دنیا کو الوداع کہنے کے طریقے کے بارے میں سوچ چکے ہیں۔ سروے دی مائی وش مائی وے رپورٹ میں 2003 افراد سے سوالات پوچھے گئے تھے، جن میں سے تقریباً 69 فیصد کا کہنا تھا کہ مذہبی سیٹنگ میں ان کی فیونرل ہونا ان کیلئے اہم نہیں ہے جبکہ 22 فیصد یعنی پانچ میں سے ایک سے کچھ زائد کی خواہش ہے کہ وہ سوگواروں کے چمکیلے ڈریس پہننے کو ترجیح دیں گے۔ 2019 میں پرووائیڈر کی جانب سے اسی طرح کے ایک اور سروے میں، جو 4186 ایڈلٹس سے کیا گیا تھا، تقریباً نصف (49 فیصد) جواب دہندگان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی فیونرل کے بارے میں کچھ سوچا ہے جبکہ 45 فیصد نے جواب دیا تھا کہ انہوں نے کسی کے ساتھ بھی اپنی خواہشات کو شیئر کرنے کیلئے کچھ نہیں کیا، تاہم سال رواں جون میں کئے جانے والے پول میں 75 فیصد کا کہنا تھا کہ اب وہ اپنی پیاروں کے ساتھ اپنی آخری خواہشات پر بات کرنے میں زیادہ راحت اور آسانی محسوس کرتے ہیں۔ ایک تہائی سے زائد (37 فیصد) جواب دہندگان نے کہا کہ فیونرلز عام طور پر بہت ہی سوگوار اور غمگین ہوتی ہیں جبکہ 81 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ انکی فیونرل زندگی کی سیلیبریشن ہونی چاہئے۔ فیونرل پرووائیڈر، جو ایک دہائی سے زائد عرصے سے موت کے حوالے سے لوگوں کے رویوں کو ٹریک کر رہا ہے، کا کہنا ہے کہ گزشتہ 18 ماہ کے ایونٹس نے موت اور سوگ کے بارے میں قوم کے رویوں میں تبدیلی پیدا کر دی ہے۔ کوآپ فیونرل کیئر میں مینجنگ ڈائریکٹر سمانتھا ٹائیرر نے کہا کہ جیسا کہ ہم کورونا وائروس کوویڈ 19 پینڈامک میں رہ رہے ہیں اور اس دوران ہم نے انتہائی المناک واقعات دیکھے ہیں اور جانوں کا ناقابل تصور نقصان برداشت کیا ہے۔ اس صورت حال نے موت اور سوگ کے بارے میں قوم کے رویوں کو تبدیل کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب سوسائٹی میں آہستہ آہستہ موت کے بارے میں بات کرنے میں زیادہ آرام دہ معاملہ ہوتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا اب زیادہ تعداد میں لوگ یہ خواہش کریں گے کہ ان کی فیونرل زندگی کی منفرد سلیبریشن محسوس ہونی چاہئے۔
یورپ سے سے مزید