مرتب: محمّد ہمایوں ظفر
11اپریل 1971ء کی صبح کا سورج ہم پر قیامت بن کر طلوع ہواکہ نصف صدی سے زائد عرصہ گزرجانے کے باوجود آج بھی اُس کے زخم تازہ ہیں۔ اُن دنوں ہم ڈھاکا کے ایک نواحی علاقے ’’پکسی‘‘ میں مقیم تھے۔ اُس چھوٹے سے خُوب صُورت ٹائون کے اِردگرد ایک دریا بہتا ہے، جس پر ایشیا کا مشہور ہارڈنگ برج بھی ہے۔ دریا کی چوڑائی اتنی زیادہ ہے کہ دوسرا کنارا نظر نہیں آتا۔ میرا بچپن، اسی جنّت نظیر علاقے میں گزرا، جہاں مختلف قسم کے پھلوں کے درخت تقریباً ہر گھر میں تھے۔ سڑک کنارے سبز مخملیں گھاس ہر طرف بچھی نظر آتی۔
اس خُوب صُورت، دل کش علاقے میں قیامِ پاکستان کے بعد آنے والے مہاجر اور مقامی باشندے امن و محبّت اور بھائی چارے کی فضا میں سکون و عافیت کی زندگی گزارتے تھے۔ پھر تعصّب اور نفرت کی ایسی آندھی چلی کہ ہماری مسرّت بھری زندگی بھی لسانی عصبیت کی نذر ہوگئی۔ میرے والد ریلوے کے چیف آفیسر تھے، ہمیں ریلوے کا کوارٹر مِلا ہوا تھا، جو تین کمروں، برآمدے، صحن اور باورچی خانے پر مشتمل تھا۔ ساتھ ہی ایک بڑا سا آنگن تھا، جہاں مختلف پھولوں اور پھلوں کے درخت تھے۔ وہاں زرد ڈنڈیوں والے سفید پھولوں کا ایک بڑا سا درخت بھی تھا، جس کے آدھے پھول آنگن میں اور آدھے سڑک پر گرتے تھے۔ اسکول جاتے وقت صبح کا یہ حسین منظر میری نظروں میں آج تک تروتازہ ہے۔71ء میں کلاس II میں میرا داخلہ ہوا، تو ان ہی دنوں حالات خراب ہونا شروع ہوگئے۔
علیحدگی پسند جتّھے سرِشام جلوس نکالتے ہوئے ’’جئے بنگلا‘‘ کے نعرے لگاتےاور ہم آنے والے حالات سے بے خبر معصومیت سے اپنے گھر کی کھڑکیوں سے یہ منظر دیکھتے، میں اس وقت کم سِن تھی، حالات کی سنگینی کا احساس نہ تھا۔ پھر فسادات کے باعث ہنگامے اتنے بڑھے کہ روز و شب کرفیو لگنے لگا۔ مجھے یاد ہے، کرفیو میں وقفے کے دوران میرے والد بازار جاتے، تو لسانی عصبیت کے شکار شرپسند لڑکے پوچھتے ’’آپ کہاں جارہے ہیں؟‘‘ وہ راتوں کو آواز دے کر میرے بھائیوں کے بارے میں پوچھتے کہ وہ گھر میں ہیں یا نہیں؟ والد صاحب انہیں حیرت سے دیکھتے ہوئے کہتے کہ ’’تم کیوں پوچھ رہے ہو؟‘‘ تو جواباً وہ کہتے ’’بس، ایسے ہی پوچھ رہے ہیں۔‘‘ پھر حالات ایسے ہوئے کہ اچانک وہ شرپسند گھر خالی کرکے وہاں سے جانا شروع ہوگئے۔
بس چند مہاجر خاندان اور چند شرپسند اوباش لڑکے ہی باقی رہ گئے۔ راتوں کو گیدڑ اور بلّیوں کے رونے کی آواز آتی، تو میں ڈر جاتی۔ والدہ کہتیں،’’ جب کہیں خوں ریزی ہوتی ہے، تو جانور روتے ہیں۔‘‘ مجھے ان باتوں کی سمجھ نہیں آتی تھی۔ میں بڑی بہن (باجی) کے بچّوں کے ساتھ کھیل میں مگن رہتی، کیا معلوم تھا، میری خوشیوں کی بگیا نفرت، تعصّب اور قوم پرستی کی آگ میں جھلسنے والی ہے۔ اُن دنوں بڑی بہن اپنے بچّوں کے ساتھ ہمارے گھر آئی ہوئی تھیں کہ حالات مزید خراب ہوگئے۔ ریل کی پٹریاں اکھاڑ دی گئیں۔ یہ دوسرے شہروں سے رابطے کا واحد ذریعہ تھا۔ میرے بڑے بھیّا تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے 1970ء ہی میں کراچی جاچکے تھے اور کراچی یونی ورسٹی میں زیر تعلیم تھے۔
اُن سے چھوٹے دو بھائی فرّخ حسین میٹرک میں اور سلطان بھائی آٹھویں جماعت میں زیرِتعلیم تھے۔ اپیا تینوں بھائیوں سے بڑی اور باجی سب بہن بھائیوں سے بڑی تھیں۔ میں سب سے چھوٹی ہونے کی وجہ سے گھر بھرکی لاڈلی، تتلی کی مانند پورے گھر میں گھومتی پھرتی رہتی تھی۔اُن دنوں گھر میں اکثر یہ باتیں کانوں میں پڑتیں کہ حالات ٹھیک نہیں ہیں، لیکن مَیں ناسمجھی کی وجہ سے ایسی باتیں نظر انداز کردیتی، کیوں کہ مَیں تو اپنے پیاروں کے درمیان مزے سے تھی۔ اچانک ایک دن خبر آئی کہ ابّا کے دفتر کے ایک ساتھی کو، جو اپنے گھر والوں کے ساتھ علاقہ چھوڑ کر جارہے تھے، بچّوں سمیت گولیاں مار کر شہید کردیا گیا۔ اس واقعے سے مَیں کافی سہم گئی۔ اب ہمارے گھر میں بھی سنجیدگی سے اس بارے میں سوچا جانے لگا کہ ہمیں کسی محفوظ مقام پر چلے جانا چاہیے۔ پھر ایک روز اپیا اور بھائی جلدی جلدی سامان پیک کرنے لگے۔ مَیں نے پوچھا، تو اپیا نے بتایا کہ کل ہم لوگ قریبی اسکول کی عمارت میں چلے جائیں گے۔
11اپریل 1971ء کو صبح سے دھماکوں کی آوازیں آرہی تھیں۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔ دوسری جانب رات کے اندھیرے میں گھر چھوڑنے کا فیصلہ ہوچکا تھا۔ صبح گیارہ بجے دودھ والا آیا، تو اس نے کہا ’’صاحب آپ لوگ گھر چھوڑ کر چلے جائیں، حملہ ہونے والا ہے۔‘‘ اُس وقت مجھے اس بات کا علم نہ تھا، ہم بچّوں کو بارہ ساڑھے بارہ بجے دوپہر کا کھانا کِھلا دیا گیا۔ ظہر کی اذان ہوئی۔ ابّا، امّاں جائے نماز پر نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ باجی، اپیا اور دونوں بھائیوں نے بھی وضو کیا۔ اپیا نے مجھے بھی وضو کرکے نماز پڑھنے کو کہا۔ اتنے میں باجی نے چیخ کر کہا ’’بے بی! دیکھو بلوائی آرہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کمرے کی کھڑکی سے سیاہ جیپ میں سوار ہتھیاروں سے مسلّح شرپسندوں کو دیکھ لیا تھا۔
ہم سب ابّا کے کمرے کی طرف بھاگے۔ اسی اثناء میں فائرنگ شروع ہوگئی، میں اور میرا بھانجا ارشد تخت کے نیچے چُھپ گئے، جس پر ابّا نماز پڑھ رہے تھے۔ بلوائیوں نے کئی ہینڈ گرینیڈ ہمارے گھر پر پھینکے، جس سے گھر کا دروازہ ٹوٹ کر لٹک گیا۔ اسی دوران ابّا فائرنگ سے شدید زخمی ہوکر تخت سے لڑکھڑا کر نیچے گرے اور گرتے ہی اپنے ربّ سے جاملے۔ اُدھر امّاں بھی سجدے ہی میں مالکِ حقیقی سے جاملیں۔ فرخ بھائی اور باجی نے بھی اُسی لمحے جامِ شہادت نوش کیا۔
ظالموں نے میرے ڈیڑھ سالہ بھانجے عبدالرشید کو بھی بے دردی سے شہید کردیا۔ بھائی سلطان فائرنگ سے بے ہوش ہوگئے۔ اُن درندوں نے میرے تین سالہ بھانجے کے سر پر وار کرکے اسے بُری طرخ زخمی کر دیا اور یہ کہتے ہوئے فرار ہوگئے کہ یہ بچّہ تو رو رو کر خود ہی مرجائے گا۔ جاتے جاتے وہ لوگ گھر کا قیمتی سامان بھی لُوٹ کر لے گئے۔ اس دوران علاقے میں مقیم دیگر گھرانوں کے افراد مقامی بنگالیوں کے خالی گھروں میں چُھپ گئے۔ اس علاقے میں سب سے پہلا حملہ ہمارے گھرہی پر ہوا تھا۔
میری سیدھی سادی اپیا، جو اس وقت 18یا19برس کی ہوں گی، باحیا، گھریلو، پردہ دار لڑکی تھیں۔ انہوں نے شرپسندوں کے جانے کے بعد کھڑکی سے جھانکا، تو انہیں محلّے کا ایک اوباش لڑکا، ہیرا بجلی کے پول کے ساتھ کھڑا نظر آیا۔ اپیا نے آواز دے کر اُسے بلایا۔ ’’ہیرا بھائی، ہمارے گھر کے تمام افراد زخمی ہیں، انہیں اسپتال لے کر جانا ہے۔ خدا کے لیے ہماری مدد کرو۔‘‘ لیکن اس بدبخت نے بجائے ہماری مدد کرنے کے اپنے اوباش ساتھیوں کو جاکر بتادیا کہ اس گھر میں دو لڑکیاں اب بھی زندہ ہیں، یعنی میں اور اپیا۔ ان کی جیپ دوبارہ گھر پر آئی، شام ہو رہی تھی، اپیا میرے پاس تخت کے نیچے آکر چُھپ گئیں۔ اس دوران ہمارے پیاروں کی لاشیں ہمارے لیے حفاظتی حصار بن گئیں، جنہیں دیکھ کر وہ لوگ کمرے کے اندر نہیں آئے۔ پورے گھر میں ڈھونڈ کر واپس چلے گئے، کیوں کہ انہیں علاقے کے مزید لوگوں کو اپنی نفرت اور جنون کا نشانہ بنانا تھا۔
مجھے یاد ہے، رات کا اندھیرا ہونے کے بعد اپیا تخت کے نیچے سے نکلیں۔ سلطان بھائی شدید زخموں کے باعث اذیت سے کراہ رہے تھے۔ اپیا انہیں تسلّی دینے لگیں، ’’مَیں تمہیں صبح ڈاکٹر کے پاس لے جائوں گی۔‘‘ وہ رات بھر صحن میں موجود حوضی میں سے بھائی کو پانی لا لاکر پلاتی رہیں۔ مَیں تھک ہار کر اُس رات، جسے میں اپنی زندگی میں کبھی فراموش نہیں کرسکتی، ابّا کی پیٹھ کے پیچھے نہ جانے کب سوگئی تھی۔ وہ کہتے ہیں ناں کہ ’’نیند تو سولی پر بھی آجاتی ہے۔‘‘ تورات کے آخری پہر جب میری آنکھ کُھلی، تو مَیں نے دیکھا کہ سلطان بھائی شدید زخمی حالت میں کراہ رہے تھے، پھر اُن کی آواز کانوں میں آئی۔ ’’اپیا! میں آپ لوگوں کو اللہ کے حوالے کرکے جارہا ہوں۔‘‘ اس کے بعد میرے پیارے بھائی کلمہ پڑھتے ہوئے خالقِ حقیقی سے جاملے۔ صبح کا اُجالا ہوا، شاید 6بجے ہوں گے۔
اپیا نے کہا ’’منّی! جائو لوگوں سے مدد مانگو، مَیں تمہیں کھڑکی سے دیکھ رہی ہوں۔‘‘ مَیں ڈرتے ڈرتے بیرونی برآمدے سے اُتری، لکڑی کا گیٹ کھولا، گھر کے سامنے سر سبز کھیل کا میدان تھا۔ ہر طرف سنّاٹا تھا، گیدڑوں کے رونے کی آوازیں آرہی تھیں۔ اس روز زردی مائل دھوپ بھی سوگوار لگ رہی تھی۔ یہ دُکھ کا پہلا احساس تھا۔ میدان کے دوسری طرف ایک انڈسٹریل ہوم تھا۔ مَیں ایک ایک دروازے پر دستک دیتی رہی، لیکن کوئی ہوتا تو کھولتا، واپس آئی، تو اپیا نے سہمے ہوئے لہجے میں بے چارگی و مایوسی سے کہا ’’اب یہاں سے نکلنا ہوگا۔‘‘ انہوں نے کچھ لوگوں کو جن میں خواتین بھی شامل تھیں، جاتے ہوئے دیکھا، اس دوران وہاں سے کسی نے ہاتھ کا اشارہ کیا کہ تم لوگ بھی آجائو۔
مَیں نے اپنی چپل ڈھونڈنے کی کوشش کی، مگر اپیا نے کہا ’’سب چھوڑو، جلدی نکلو۔‘‘ ہم لوگ ننگے پائوں ہی اپنے پیاروں کے خون سے رنگے لباس میں چل دیئے۔ اپیا کے دونوں بازوئوں میں ایک طرف بھانجا اور دوسری جانب بھانجی تھی۔ خود مَیں نے اپیا کا دامن سختی سے پکڑا ہوا تھا۔ پائوں مَن مَن بھر کر ہورہے تھے۔ گھر سے نکلتے ہوئے الوداعی نظر ٹوٹے ہوئے دروازوں پر ڈالی۔ گھر کے آنگن میں لگا زرد پھولوں والادرخت بھی اشک بار، ٹوٹا ہوا سا لگا۔ کچھ ہی دیر میں ہم دوسری خواتین سے جاملے۔ مسلسل دھماکوں اور فائرنگ کے بعد پاک فوج کی گاڑیاں نظر آئیں، فضا میں ’’اللہ اکبر‘‘ کی صدا گونجی، تو خوف کے مارے مختلف مقامات پر چُھپے ہوئے لوگ باہر نکلے۔ عورتیں، فوجی جوانوں سے فریاد کرنے لگیں۔ بعدازاں، خواتین اور بچّوں کو قریبی اسکول کی عمارت میں لے جایا گیا، جہاں علاقے کے اور بھی بہت سے لوگ موجود تھے۔
وہاں امدادی سامان بسکٹوں کے ڈبّے، بستر اور دیگر اشیاء تقسیم ہورہی تھیں، لیکن میری اپیا ان سب سے بے نیاز بھانجے اور بھانجی کو بازوئوں میں لیے فوجیوں سے فریاد کررہی تھیں، ’’خدارا! ہمیں دیکھو، ان زخمی بچّوں کو ڈاکٹر کو دکھانا ہے۔‘‘ جب کہ میرے لیے اپیا کا حکم تھا کہ ’’تم ایک طرف بیٹھی رہو، بسکٹ اور کھانے کی کوئی چیز ہرگز مت لینا، ہم ’’سیّد‘‘ ہیں اور سیّد خیرات نہیں لیتے۔‘‘ مَیں بس، ٹُکر ٹُکر لوگوں کو بسکٹوں کے ڈبے جمع کرتے دیکھ رہی تھی۔
ایک فوجی کو اپیا پر ترس آگیا کہ یہ نوجوان لڑکی خون آلود لباس میں ملبوس فقط زخمی بچّوں کے لیے پریشان ہے، تو وہ انہیں اپنے افسر کے پاس لے گیا۔ آفیسر کو جب معلوم ہوا کہ ہمارے گھر کے سب لوگ شہید ہوچکے ہیں، تو انہوں نے ہم دردی کرتے ہوئے اپیا سے پوچھا ’’بیٹی! آپ کے کوئی رشتے دار اگر کہیں دوسرے شہر میں ہیں، تو اُن کا نام، پتا بتائیں، ہم اُن سے رابطہ کرنے کی کوشش کریں گے۔‘‘پکسی سے قریبی شہر ایشرڈی میں ہماری خالہ اور خالو مقیم تھے، خالو ڈاکٹر تھے، اپیا نے اُن کا نام بتایا۔
اس کے بعد تمام لوگوں کو جمع کرکے ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم لے جایا گیا، جہاں متاثرین کے لیے عارضی کیمپ لگایا گیا تھا۔ یہاں ایک بڑے ہال میں خواتین اور بچّے موجود تھے۔ اپیا دونوں زخمی بچّوں کو گود میں لے کر بیٹھ گئیں۔ مَیں بھی وہیں دُبک گئی اور کچھ ہی دیر میں زخمیوں کی آہوں، سسکیوں میں مجھے نیند آگئی۔ آخر 13اپریل کا سورج طلوع ہوا۔ کیمپ میں ناشتا تقسیم ہونے لگا۔ ہمارے پڑوسی مقیت چچا نے اپیا کو چائے اور بسکٹ لاکر دیئے کہ ’’بے بی! بچّوں کو کِھلادو، خود بھی کھائو، تم لوگ کب تک یوں ہی بھوکے رہو گے؟‘‘ شدید بھوک، پیاس میں چائے پیتے ہوئے امّاں بہت یاد آئیں، کیوں کہ ہم بچّوں کو چائے کی جگہ اپنے گھر میں پینے کو دودھ ملتا تھا۔
امّاں جب چائے پیتیں، تو میں اُن کے کان میں کہتی ’’تھوڑی چائے مجھے بھی دےدیں۔‘‘ وہ مُسکرا کر کہتیں ’’جائو طشتری لے آئو۔‘‘ مَیں اُن کے برابر بیٹھ کر سپڑسپڑ چائے پیتی، اپیا کی غصّے بھری آنکھوں کی پروا ہی نہیں کرتی، جو ہمیشہ ناراض ہوتیں کہ بچّے چائے نہیں پیتے۔ مَیں تو خود کو امّاں، ابّا کے تمام تر لاڈ محبّت کا حق دار سمجھتی تھی۔ اپنے تئیں مَیں گھر کی سلطنت کی شہزادی تھی۔ خیر، صبح دس بجے ایک فوجی میرے بڑے بھانجے ارشد کو لے کر آیا، جو خون میں لت پت تھا، اس کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی تھی، ہم تو اُسے مُردہ سمجھ کر پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ بعد میں فوجیوں نے گھروں کی تلاشی لی، اس دوران ارشد بھائی کی آنکھ کُھل گئی۔
انہوں نے اپنے نانا کا نام ’’چیف‘‘ بتایا، ابّا کو علاقے کے سب لوگ ’’چیف صاحب‘‘ کہتے تھے۔ اس طرح ارشد بھائی بھی ہم سے آن ملے۔ میری ہم عُمر لڑکیاں میرا خون آلود لباس دیکھ کر پوچھنے لگیں ’’تمہارے ابّا، امّاں مرگئے ہیں ناں؟‘‘ مجھے یاد ہے، اُن کی بات سُن کر مجھے شدید دُکھ ہوا۔ غم و غصّے سے آنکھیں سُرخ انگارہ ہوگئی تھیں۔ جی چاہ رہا تھا کہ چیخ چیخ کر روئوں۔ کچھ سمجھ نہیں آرہاتھا کہ اب کیا ہوگا۔ بس، ہر وقت اپیا کی قمیص کا دامن پکڑے اُن کےساتھ ساتھ رہتی۔
چند روز بعد ہمیں خالہ کے پاس، جو ایشرڈی میں مقیم تھیں، پہنچادیا گیا۔ وہاں میرے زخمی بھانجے بھانجی کا علاج ہوا۔ صحت یاب ہونے کے بعد ہمارے ماموں نے ہمیں اپنے پاس چٹاگانگ بلوایا اور پھر جب حالات کسی قدر پُرسکون ہوئے، تو ہم کس طرح لُٹے پٹے اپنے خالو اور اُن کے خاندان کے ساتھ پاکستان پہنچے، یہ بھی ایک الگ داستان ہے۔ اللہ کا شُکر ہے، اب ہم اپنے پاک وطن میں پُرسکون اور محفوظ زندگی گزار رہے ہیں، لیکن آج بھی نصف صدی سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود جب وہ خونیں واقعات آنکھوں کے سامنے آتے ہیں، تو دل سی ٹیسیں اٹھنے لگتی ہیں کہ کس طرح ہمارے ماں باپ، عزیز واقارب کو ہماری آنکھوں کے سامنے بے دردی سے شہید کردیا گیا، اچانک ہمارا بھرا پُرا گھر اجڑگیا۔ ماں، باپ، بہن بھائیوں سے بچھڑنے کا ملال ہمیشہ کے لیے ہماری زندگی کا حصّہ بن گیا۔ آج ایک طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی مَیں اُس دُکھ اور کرب کو نہیں بھولی، خصوصاً جب بھی 71ء کے سانحے کا ذکر آتا ہے، تو ماں باپ سے جدائی کا زخم پھر سے تازہ ہوجاتا ہے۔ (مسز عظمت وسیم، بفرزون، کراچی)