• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افغان شہر لشکر گاہ میں سڑکوں پر لاشیں بکھری ہوئی ہیں، رہائشیوں کا بیان

جنوبی افغان صوبے ہیلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ کے رہائشیوں کا  کہنا ہے کہ سڑکوں پر لاشیں بکھری ہوئی ہیں، ہم نہیں جانتے کہ وہ لاشیں بے گناہ شہریوں کی ہیں یا طالبان کی۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق یہ اُن ہزاروں شہریوں میں شامل ہیں جو کئی روز سے لشکر گاہ میں جاری شدید جھڑپوں کی وجہ سے یا تو شہر میں پھنسے ہوئے ہیں یا پھر نقل مکانی پر مجبور ہو رہے ہیں۔

لشکر گاہ میں جاری لڑائی کے درمیان پھنسے شہریوں کا کہنا ہے کہ طالبان کو اُن پر رحم نہیں آئے گا اور حکومت بمباری نہیں روکے گی۔ جو لوگ نقل مکانی کر سکتے تھے اُنہوں نے سیکڑوں کی تعداد میں دریائے ہلمند کے نزدیک پناہ لے رکھی ہے۔ اُنہیں خوراک اور ادویات کی کمی کا سامنا شروع ہوگیا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ جھڑپیں، گورنر کے دفتر اور قومی سلامتی ڈائریکٹوریٹ سے چند  میٹر قریب تک پہنچ چکی ہیں، اور کابل حکومت نے شہر میں جن کمانڈوز کی حالیہ تعیناتی کا اعلان کیا تھا، وہ گراؤنڈ پر کہیں نظر نہیں آ رہے۔

افغان اور امریکی بمباری کے باوجود گزشتہ ایک ہفتے میں طالبان نے خاصی پیش قدمی کی ہے۔ لشکر گاہ کے بیشتر اضلاع طالبان کے کنٹرول میں چلے گئے ہیں۔

ہلمند کی صوبائی کونسل کے سربراہ کا یہ اعتراف بھی سامنے آیا ہے کہ لشکر گاہ میں لڑائی کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے۔ یہ بھی رپورٹس ہیں کہ طالبان نے گھروں، دکانوں اور بازاروں میں پوزیشنز لے رکھی ہیں، سڑکوں پر لڑائی ہو رہی ہے اور لوگ گھروں میں پھنس گئے ہیں، اقوام متحدہ اور دیگر امدادی ایجنسیاں لشکر گاہ میں بگڑتے ہوئے فلاحی بحران سے خبردار کررہی ہیں۔

گزشتہ ایک روز میں ہی وہاں درجنوں شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔ ملک کے جنوب میں قندھار اور مغرب میں ہیرات پر کنٹرول کی لڑائی بھی سنگین ہوتی جارہی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید