• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حکومت کی ترجیحات سندھ کو قابو کرنا ہے، مرتضی وہاب


ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ وزیراعظم لوگوں کو ریلیف دینے سے متعلق میٹنگ کریں ،آپ کی ترجیح مہنگائی کو نہیں حکومت سندھ کو قابو میں کرنا ہے، وفاقی حکومت کراچی کا ٹیکس معاف کرے، ورنہ ہم حکومت سے علیحدہ ہوتے ہیں۔

ترجمان سندھ حکومت نے پریس کانفرنس میں کہا کہ سندھ کو ابھی تک این سی او سی سے 89 لاکھ ویکسین ملی ہیں، کوئی بھی ملک اس وقت صوبائی حکومت کیساتھ ڈیل نہیں کررہا ،وفاق کیساتھ کررہا ہے، کوئی بھی بین الاقوامی ادارہ صوبائی حکومت کیساتھ ڈیل نہیں کررہا، اگر وفاق ہمیں ویکسین خرید کر دیتا ہے تو ہم ادائیگی کرنے کو تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں اگرڈیڑھ لاکھ افراد کو ویکسین لگ رہی ہے تو اسے منیج کرنا مشکل ہوتا ہے۔

ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ بھارت نے اپنے مذموم مقاصد کیلئے کشمیر کو بند کیا ہوا ہے، کشمیریوں پر مظالم کی بھرپور طریقے سے مذمت کرتے ہیں، ان شاء اللہ کشمیر بنے گا پاکستان۔

مرتضی وہاب نے کہا کہ پاکستان بھر میں کورونا کی شرح 9 فیصد تک پہنچ گئی ہے، کچھ لوگ کہتے تھے سندھ حکومت غلط فیصلے کررہی ہے، ہم کہتے تھے بروقت فیصلے نہ کئے تو ڈیلٹا ویرینٹ آگ کی طرح پھیل سکتا ہے، کچھ لوگوں کاکام صرف تنقید کرنا اور سندھ حکومت کی سیاسی چائنا کٹنگ کرنا ہے، سندھ حکومت عوام کو بچانے کیلئے متحرک طریقے سے کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ بھر میں مزید ویکسی نیشن سینٹر کھول رہے ہیں، 24 گھنٹوں میں سندھ میں 2 لاکھ 90 ہزار لوگوں نے ویکسین لگوائی ، چھ سات روز پہلے لوگ ویکسین لگوانے نہیں جارہے تھے، ویکسی نیشن کی تعداد 50 ہزار سے بڑھا کر تقریبا 3 لاکھ تک پہنچائی ہے۔

ترجمان سندھ حکومت نے بتایا کہ کراچی میں 24 گھنٹوں میں ڈیڑھ لاکھ لوگوں نے ویکسین لگوائی، کراچی کے ضلع جنوبی میں سب سے زیادہ لوگوں نے ویکسین لگوائی، ہمارا آج ویکسین لگانے کا ٹارگٹ 3 لاکھ سے زیادہ ہے، کراچی میں 12 موبائل ویکسین وین کام کررہی ہیں، سانگھڑ میں روزانہ گیارہ بارہ ہزار لوگوں کی ویکسی نیشن ہورہی ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سندھ کے ہر ضلع اور شہر میں ویکسی نیشن ہورہی ہے، کچھ جگہوں پر مشکلات آرہی ہیں، جنہیں دور کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک ماہ میں فوڈ آئٹمز میں 1.4 فیصد اضافہ ہوا ہے، یوٹیلٹی اسٹورز پر سبسڈی ختم کی جارہی ہے، قیمتیں بڑھائی جارہی ہیں، ایک ماہ میں پیٹرولیم کی قیمتوں میں 7 سے 8 روپے اضافہ ہوا ہے، پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا تو مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔

 مرتضی وہاب نے کہا کہ وفاقی حکومت کہتی ہے قیمتوں کو کنٹرول کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے، پنجاب،خیبرپختونخوااورگلگت بلتستان میں انکی حکومت ہے،قیمت کیوں کنٹرول نہیں ہورہی، اسلام آباد، لاہور ، فیصل آباد میں قیمتیں بڑھ رہی ہیں تو اس کا ذمہ دار کون ہے، آپ کی ترجیحات آج بھی سندھ کو قابو کرنا ہے۔

مرتضی وہاب نے کہا کہ آپ کے منصوبوں کا محور یہ ہوتا ہے کہ کس طرح سندھ پر قابض ہوجائیں، شاید پی ٹی آئی کو منشیات پر مہارت حاصل ہے، آپ کیوں بار بار ایسی سازشیں کرتےہیں، ہم سندھ میں امن و امان کی صورتحال کنٹرول کررہے ہیں، اسلام آباد میں نور کے ساتھ کیا ہوتا ہے،کس طرح کی بہیمانہ کارروائی کی گئی، خدارا حکومت کو آئینی انداز میں چلائیں، آہنی انداز میں نہ چلائیں، آئین پاکستان صوبہ اور وفاق کی ذمہ داری کا تعین کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپ ماضی کی حکومتوں کے منصوبوں کا افتتاح کررہے ہیں، وزیراعظم صاحب آپ کو لوگ مس گائیڈ کرتے ہیں، جنرل مشرف بھی ایسی ہی باتیں کرتےتھے کہ اتنی گاڑیاں فروخت ہوگئیں، مجھےفرق نہیں پڑتا،وزیراعظم سیاسی یتیموں کو وزیراعظم ہاؤس بلائیں اور چائے پلائیں۔

مرتضی وہاب نے کہا کہ جب میرپورخاص اور عمرکوٹ میں سیلاب آیا تو وزیراعظم نے وہاں کا رخ نہیں کیا۔

قومی خبریں سے مزید