معروف بھارتی اداکارہ ہیما مالنی کو افغانستان پر طالبان کے قبضے کی خبروں نے 1975 کے پرامن دورۂ افغانستان کی یاد دلا دی۔
اداکارہ ہیما مالنی اُس وقت فیروز خان کے ساتھ فلم ’دھرما تا‘کی شوٹنگ کے لیے افغانستان گئی تھیں ، انہوں نے انکشاف کیا کہ کابل ایک خوبصورت شہر ہے جہاں تب کوئی انتشار اور خوف نہیں تھا۔
انہوں نے ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ ’ وہ جس کابل کو جانتی ہیں وہ بہت خوبصورت ہے اور وہاں ان کا تجربہ بہت اچھا رہا۔‘
اداکارہ نے مزید کہا کہ ’ وہ کابل کے ہوائی اڈے پر اترے تھے ، جو اس وقت ممبئی کےہوائی اڈے کی طرح چھوٹا تھا ، اور ہم قریب ہی ایک ہوٹل میں ٹھہرے تھے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’ہم نے اپنی شوٹنگ کے لیے بامیان اور بندائے امیر جیسے مقامات کا سفر کیا اور واپس آتے ہوئے ہم نے ان مردوں کو ان لمبے کرتوں اور داڑھیوں کے ساتھ دیکھا، جو طالبان کی طرح دکھائی دیتے تھے۔ اس وقت روسی بھی افغانستان میں ایک طاقت تھے۔‘
خیال رہے کہ ہیما کے فلمی کیریئر کے مشہور گانوں میں سے ایک ، ’ کیا خوب لگتی ہو‘ کو افغانستان میں عکس بند کیا گیا تھا۔
ہیما مالنی نے مزید کہا کہ ’ اس وقت کوئی مسئلہ نہیں تھا ، یہ پرامن تھا اور فیروز خان نے پورے سفر کا انتظام کیا تھا اور یہ ایک بہت ہی منظم شوٹنگ تھی۔ اداکارہ کے والد بھی ساتھ شوٹنگ کے لیے گئے تھے اور جب وہ خیبر پاس سے گزر رہے تھے تو وہ سب بھوکے تھے اس لیے وہ ایک ڈھابے پر رک گئے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’کیونکہ وہ سبزیا ں کھانے والے ہیں اور گوشت نہیں کھاتے، تواس لیےان لوگوں نے روٹیاں خریدیں اور انہیں پیاز کے ساتھ کھایا۔‘
افغانستان میں جاری صورتحال پر بات کرتے ہوئے ، اداکار نے وہاں کےشہریوں کے لیےافسوس اور ملک کے مستقبل کے لیےاپنی پریشانی کا اظہار کیا۔