• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

مفاہمتی یا مزاحمتی بیانیہ: فیصلہ کب تک ہوگا؟

تحریک انصاف حکومت کی مدت اقتدار تین برس مکمل ہونے کے بعد چوتھے برس میں داخل ہو رہی ہے، ابتدائی ڈھائی برس تو ناتجربہ کاری معیشت کی تباہی اور صرف اپوزیشن کے خلاف کارروائیوں اور الزام تراشی کی نذر ہوئے بغیر چھ ماہ بھی کوئی مثالی اور شاندار نہ تھے لیکن پی ڈی ایم کے کمزور ہونے جس کا باعث پیپلز پارٹی کا اس کو چھوڑ کر جانا بڑا سبب تھا کی وجہ سے تحریک انصاف کو کچھ ٹھنڈی ہوا آئی۔ آزاد کشمیر اور بعد میں سیالکوٹ کی ایک نشست کی کامیابی نے اس کو قدرے سہارا دیا ورنہ ابتدائی ڈھائی سال تو اس نے کلی طور پر بیساکھیوں کے سہارے گزارے ایک ایک مرحلے ہر قدم پر اس کو سہارا دیا گیا۔ 

جس کے باعث سہارا دینے والوں کو بھی تحریک انصاف کے ساتھ ساتھ عوام کے سخت غم و غصے اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈھائی سال کے آخری سال میں تو ایسا لگتا تھا کہ حکومت اب گئی کہ جب گئی لیکن سنبھالنے والوں نے ہمت نہ ہاری۔ خارجہ محاذ پر معاشی اقتصادی اور سیاسی محاذ پر ان کا پورا ساتھ دیا، پی ایم ڈی کو توڑنے کا سامان کیا گیا۔ پیپلز پارٹی بہ امر مجبوری وعدوں کے جال میں پھنس گئی وہ کرپشن کے جن الزامات کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی جماعت ہے اس سے کسی طرح کا کام لینے میں کوئی دقت یا مسئلہ نہیں ہونا چاہیے اس سے بلوچستان اسمبلی لڑوا لو یا چیئرمین سینٹ بنوا لو وہ ہر اسائنمنٹ کے لئے تیار رہتی ہے، سنا ہے کہ اس کو ان دنوں آئندہ انتخابات کے لئے مضبوط کیا جا رہا ہے۔ 

مسلم لیگ (ن) کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایسا صرف مسلم لیگ (ن) اور پی ڈی ایم کو کمزور کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے۔ مریم نواز کی کورونا سے صحت یابی کے بعد کہا جا رہا ہے کہ وہ ایک بار پھر سیاسی طور پر متحرک ہونے جا رہی ہیں یعنی شہباز شریف کے مفاہمتی بیانیے کے بے سود ہونے کے بعد ایک بار پھر مزاحمتی بیانیہ زور پکڑنے والا ہے۔ شہباز شریف کو تو مفاہمتی بیانیے کا فائدہ ہونے کے بجائے الٹا ہمیشہ نقصان ہی ہوا ہے انہیں ایک بار پھر نیب عدالتوں کا سامنا ہے لیکن اس وقت ملکی صورت حال کچھ یوں بن گئی ہے کہ مفاہمتی اور مزاحمتی بیانیے کچھ عرصہ پہلے کی طرح زیادہ موثر اور جاندار نہ رہے۔ 

تحریک انصاف کے تین سال مکمل ہونے سے سیاسی و نفسیاتی طور پر یہ تاثر کام کر رہا ہے کہ اب تحریک انصاف اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرے گی آج سے چھ ماہ پہلے عوام اور اپوزیشن کی صفوں میں یہ تاثر قدرے حقیقی لگتا تھا کہ اگر حکومت کو مکمل طور پر نہیں گرایا جا سکتا تو کم از کم عدم اعتماد کی تحریک تو کامیاب ہو سکتی ہے لیکن جہانگیر ترین گروپ کے ابھرنے کے بعد بھی اپوزیشن کوئی راستہ یا حکمت عملی کا تعین نہ کر سکی۔ اس تمام عرصے میں اور اب تک عوام مہنگائی، بے روزگاری، لاقانونیت کی چکی میں پستے رہے۔ تاریخی مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی اب وزیر خزانہ کے حالیہ بیان نے مایوسی کو اور بڑھا دیا ہے کہ مہنگائی بڑھی ہے لیکن دنیا میں قیمتیں کم ہونے تک ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ 

موجودہ حکومت کا دوسرا بڑا سہارا پراپیگنڈا ہے اب تمام تر پراپیگنڈے کے باوجود عوام میں کوئی بڑی پذیرائی نہ ہونے کے سبب اس نے میڈیا سیکٹر کو قابو کرنے یا ریگولیٹ کرنے کے لئے نئی اتھارٹی تشکیل دینے کا ارادہ کیا ہے، یعنی جمہوریت پر ایک اور کاری ضرب لگانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ادھر ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کرپشن میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، میڈیا کی عالمی تنظیمیں چیخ چیخ کر بتا رہی ہیں کہ پاکستان میں میڈیا آزاد نہیں۔ بے شمار رکاوٹیں قدغن اور مسائل ہیں۔ ریاست پاکستان کو افغانستان کی حالیہ صورت حال سے اطمینان اور فائدہ ہوا ہے، خاص طور پر اندرون خانہ مقتدر قوتوں کو یقیناً فائدہ ہوا ہے۔

بھارت جس نے افغانستان کو دہشت گردی کے لئے ایک کیمپ کی صورت دی ہوئی تھی کو شدید دھچکا لگا ہے۔ ہم بطور پاکستانی افغانستان کی صورت حال کا اعلانیہ طور پر تو کریڈٹ نہیں لے سکتے لیکن اندرون خانہ یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ اگر امریکہ نے ہمارے ساتھ زیادتی کی تو اچھا ہوا اس کو رسوا ہو کر یہاں سے نکلنا پڑا ہمارا اس بدامنی دہشت گردی اور جنگ کی وجہ سے 70ارب ڈالر کا نقصان ہوا امریکہ نے 22سو ارب ڈالر افغانستان کی بے سود جنگ میں جھونک دیئے، ہمارا نقصان پورا کرنے کا کوئی سدباب نہ کیا، اس کا پارٹنر بھارت افغانستان کے ذریعے ہمارے ملک میں دہشت گردی کراتا رہا۔

ٹرمپ اپنے دور میں کہتا رہا کہ پاکستان دھوکا دے رہا ہے دوغلی پالیسی پر عمل پیرا ہے معلوم نہیں ہم ایسا کر رہے تھے کہ نہیں؟ لیکن ایسا کرنے میں ہم حق بجانب قرار ہوتے ہم سے ہمارا نقصان پورا کرنے کے لئے 105ارب دینے کے لئے کنسورشیم بنایا گیا لیکن صرف 8ارب ڈالر دے کر ٹرخا دیا گیا اب ہم نے بھی زیادتیوں کا بدلہ لے لیا۔اسی اثنا میں 14اگست کو لاہور مینار پاکستان میں ایک ٹک ٹاکر خاتون کے ساتھ ایک بڑے ہجوم کی جانب سے نازیبا حرکات، دست درازی کے واقعہ نے سب کی توجہ ادھر مرکوز کر دی اس سے ثابت ہوا کہ معاشی طور پر تو ہم زبوں حالی کا شکار ہیں، معاشرتی اور سماجی طور پر سخت انحطاط پذیر ہیں۔ ترقی کے بجائے بے حد تنزلی کی گہرائیوں میں ہیں۔ 

ادارے ناکام ہو چکے ہیں محکمے نااہلی کا شکار ہیں۔ افسوس صد افسوس پہلے بسنت کا خوبصورت تہوار ایک محدود لیکن سفاک طبقے کے باعث برباد ہوا اب 14اگست جشن آزادی کو غنڈہ اور اوباش نوجوانوں کے ایک گروہ نے سخت نقصان پہنچایا ہے۔ شاید اب فیملیاں پہلے کی طرح جشن آزادی نہ منا سکیں۔پی ڈی ایم کی سرگرمیوں سے سیاست کچھ بیدار ہو گی، اصل میں آزاد کشمیر انتخابات اور سیالکوٹ کی نشست کی حکومتی کامیابی نے مسلم لیگ (ن) کچھ دفاعی موڈ میں آ گئی تھی کچھ اندرخانے اور قدرے سر عام یہ باتیں شروع ہو گئی تھیں کہ مفاہمتی اور مزاحمتی بیانیے میں سے کسی ایک کا انتخاب کیا جائے لیکن اس میں سے کسی ایک کا انتخاب بہت دشوار کام ہے۔ مزاحمتی بیانیے نے ڈھائی سال تک خوب رنگ دکھایا اور عوام میں پذیرائی حاصل کی لیکن حکومت کو ہٹانے میں ناکامی پر جب مفاہمتی بیانیے کی جانب توجہ کی گئی تو اس کا بھی کوئی خاص فائدہ نہ نکلا۔

تازہ ترین
تازہ ترین