• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

منفرد ڈیزائن پر مبنی غیر رہائشی تعمیرات

گزشتہ کچھ دہائیوں سے تعمیرات کی صنعت نے کئی انوکھے ڈیزائن پیش کیے ہیں۔ اس کی ایک وجہ ٹیک انڈسٹری کی تیز رفتار ترقی بھی ہے، جس نے آرکیٹیکٹس اور ڈیزائنرز کو اپنے انتہائی شاندار خیالات کو عملی شکل دینے کی اجازت دی۔ انوکھا فن تعمیر عام ڈیزائن اور روایتی جمالیات سے الگ ہوتا ہے۔ 

اس میں اسٹرکچرل ڈیزائن بنانے کی کوشش کی جاتی ہے جو معیاری خیالات سے بالاتر ہو اور اس کے بجائے منفرد ترتیب، محل وقوع اور فنکشن سے متاثرہ منصوبوں کی پیروی کرے۔ دنیا بھر میں رہائشی اور کمرشل عمارتوں کو منفرد ڈیزائن کا حامل بنانے پر تو توجہ دی ہی جاتی ہے ساتھ ہی کسی بھی جگہ کی خوبصورتی بڑھانے یا سیاحتی نقطۂ نظر سے کچھ ایسی منفرد ڈیزائن کی حامل تعمیرات بھی کی جاتی ہیں جو اس شہر یا علاقے کی پہچان بن جاتی ہیں۔ آج ہم ایسے ہی کچھ تعمیراتی ڈیزائن کا ذکر کررہے ہیں۔  

ویسل، امریکا

امریکا کے شہر نیویارک میں شہد کے چھتے کی طرح نظر آنے والا یہ ڈیزائن دراصل 16منزلوں پر مشتمل سیڑھیاں ہیں۔ ویسل (Vessel) نامی اس ڈھانچے میں 154سیڑھیاں ہیں، جن میں کُل 2500 زینے ہیں۔ یہ 5ایکڑ پر مشتمل ہڈسن یارڈز پبلک اسکوائر کا ایک اہم تعمیراتی ڈھانچہ ہے۔ اس کی تعمیر میں کئی چیزیں اٹلی میں تیار کی گئیں، جنہیں پھر امریکا لایا گیا۔ اس کی حتمی لاگت کا تخمینہ 200 ملین ڈالر ہے۔ 2019ء میں اسے عوام کے لیے کھولا گیا تھا۔ 

سپر ٹری گروو، سنگاپور

سنگاپور میں گارڈنز بائی دا بے میں 18درخت نما ڈھانچے بنائے گئے ہیں، جنہیں سپرٹری گروو (Supertree Grove) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ گارڈن کے لینڈ اسکیپ میں سب سے نمایاں ہیں، جس کی بنیادی وجہ ان کا ڈیزائن اور بلندی ہے۔ مختلف ڈھانچوں کی اونچائی 25میٹر (82 فٹ) اور 50میٹر (160فٹ) کے درمیان ہے۔ دراصل یہ عمودی باغات ہیں جو بہت سارے افعال انجام دیتے ہیں، جن میں پودے لگانا، شیڈنگ اور ماحولیاتی انجن کے طور پر کام کرنا شامل ہے۔

ایٹومیم، بیلجئیم

اس منفرد سائنسی شاہکار کو انجینئر آندرے واٹرکین اور آرکیٹیکٹس آندرے اور جین پولک نے ڈیزائن کیا ہے۔ ایٹم سے متاثرہ یہ تعمیراتی ڈھانچہ دراصل 1958ء کے برسلز عالمی میلے کے لیے بنایا گیا تھا۔ اس ڈھانچے کو، جو ایٹمی دور کے جوش و خروش کو ظاہر کرنے کے لیے منتخب کیا گیا تھا، ایک دوسرے سے جڑے ایٹم کی شکل والے اسٹین لیس اسٹیل کے 9دائرے ہیں ، جن میں سے 6 عوام کے لیے قابل رسائی ہیں۔ یہ تعمیراتی ڈھانچہ انجینئرنگ کا ایک کارنامہ ہے، جو اب ایک میوزیم کے طور پر کام کرتا ہے۔

دبئی فریم، متحدہ عرب امارات

دبئی فریم دنیا کا سب سے بڑا تصویری فریم ہے۔ اس 150میٹر بلند اور 105 میٹر چوڑے آرکیٹیکچرل نشان کا تصور فرنانڈو ڈونیس نے پیش کیا تھا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ دبئی میں ایک اور یادگار تعمیر کرنے کے بجائے موجودہ یادگاروں کو فریم کرنا اور شہر کے ماضی، حال اور مستقبل پر زور دینا زیادہ مناسب ہوگا۔ سنہری رنگ کا یہ تعمیراتی ڈھانچہ شیشے، اسٹیل، ایلمونیم اور کنکریٹ سے بنایا گیا ہے۔ لوگ ایک جانب سے جدید دبئی کی لینڈمارک تعمیرات اور دوسری جانب سے پرانا دبئی دیکھ سکتے ہیں۔