• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

……محی الدین……

مرزا غالب نے فرمایا:۔

بس کہ دشوار ہے ہر کام کاآساں ہونا

آدمی کوبھی میسر نہیں انساں ہونا

اگر ہم اس بات پر غور کریں تو بہت سی حقیقتیں ہم پر منکشف ہو جائیں گی۔ ہم ہر فرد کو آدمی یا انسان سمجھتے ہیں جبکہ غالب جیسے فلسفی اور شاعر کی نظر میں آدمی ہونا ہر فرد اور ہر شخص کے لئے آساں ہے مگر آدمی ہونے کے بعد تہذیب نفس کی تربیت اور زندگی کے اعلیٰ قدروں سے مزین ہونا آسان نہیں جوشخص ان صفات سے مرصع ہو گا وہی انسان کہلائے گا۔انسان میں انسانیت کی صفت خود بخود مضمر ہوتی ہے، جب تک اس میں انسانیت کی اعلیٰ قریں نہ ہوں اس وقت تک انسان کہنا غلط ہو گا۔

میر تقی میر نے بڑی دلچسپ بات کہی ۔

میرے سلیقے سے میری نبھی محبت میں

تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا

یہاں ناکامیوں سے کا م لینے کا نام ہی سلیقہ ہے، جو آدمی کو خوش رکھتا ہے بلکہ تمام شعبہ ہائے حیات میں اس کے وجود کو معنویت عطا کرتا ہے۔

انسان کے بارے میں جس قدر اقبال نے لکھا ہے ،دنیا کے کسی دوسرے شاعر نے لکھا ہو، غالب اور میر کے ساتھ اقبال کے ہاں بھی یہی انسانیت زندگی کی صحت مند قدروں کی بنیاد ہے۔

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

حالی کے نزدیک انسان کا تصور کچھ اس طرح تھا:

فرشتہ سے بہتر ہے انسان ہونا

مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ

ایک وقت تھا جب، ادب برائے ادب کا نعرہ بہت مشہور تھا، اردو شاعری محلوں اوردرباروں تک محدود تھی، شراب و شباب کی گرفت سے اردو شاعری کوبچانے کے لئے لوگوں نے کوشش کی ۔ادب برائے زندگی کے نعرہ بلند کرنے والوں میں حالی آگے آگے رہے۔ غزل کو بے وقت کی راگنی کہنے والےحالی نے موضوعاتی نظموں کے ذریعے زندگی کو سنوارنے اورسدھارنے کا پیغام ملا۔

اردو، رواداری کی زبان ہے، اردو شاعری بھی اپنی رواداری اور ہم آہنگی کیلئے مشہور ہے ہمارے ملک میں رنگا رنگی مذہبی اور تہذیبی اثرات کار فرما ہیں اور اس کی لازوال تصویریں اردو شاعری میں محفوظ ہیں۔خسرو کا پیغام کہ ’حال مسکین مکن تغافل ، کا اشارہ بھی انسان دوستی کی جانب ہے۔

نظیر اکبر آبادی نے عوام کے جذبات کو شعری جامہ پہنایا۔ میلوں، ٹھیلوں، تہواروں، کو بڑے خوب صورت انداز میں اپنی شاعری میں پیش کیا، عوامی شاعر کے نام سے آدمی نامہ آدمی کے مختلف روپ دکھاتی ہے۔

نظم ’روٹی نامہ‘‘ میں نظیر بھوک اورپیاس کی کہانی کوسیدھے سادے الفاظ میں بیان کرتے ہیں، فقیر کے لئے چاند اور سورج بھی روٹی جیسے دکھائی دیتے ہیں:

ہم تو نہ چاند سمجھیں نہ سورج ہیں جانتے

بابا ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاں

غالب کے شاگرد الطاف حسین حالی نے عورتوں کی اصلاح کابیڑا اٹھایا ۔سرسید تحریک سے متاثر حالی نے کئی ایسی نظمیں لکھیں، جن میں انسانیت اورانسان دوستی کی عکاسی ملتی ہے۔

مناجات بیرو ،چپ کی داد، رحم وانصاف وغیرہ موضوعاتی نظموں کا سلسلہ کافی مشہور ہے۔

پیدا اگر ہوتیں نہ تم بیڑا نہ ہوتا پار یہ

چیخ اٹھتے دودن میں اگر مردوں پہ پڑتا بار یہ

حالی نے ان نظموں کے ذریعے عورتوں کی عظمت کو مان سمان دیا۔ ستاروں سے آگے نئی دنیا ڈھونڈنے والے عظیم شاعر اقبال محبت کو سب سے بڑی طاقت مانتے ہیں۔

ساحر لدھیانوی کا نام، اردو شاعری میں بہت ہی مشہور ہے، ساحر نے جنگ کے متعلق اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ یہ خود ایک مسئلہ ہے اس لئے جنگ سے اعراض ہی بہتر ہے۔

خون اپنا ہو یا پرایا ہو

نسل آدم کا خون ہے آخر

جنگ مشرق میں ہو یا مغرب میں

امن عالم کا خون ہے آخر

اس لئے اے شریف انسانو

جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے

اقبال کا بچہ خدا سے ایسی دعا کرتا ہے جس کا انداز عامیانہ نہیں ہے:

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری

زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری

دور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائے

ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے

اقبال کا بچہ خود غرض نہیں کہ وہ اپنے لئے جنت مانگے،وہ اتنا سماجی شعور رکھتا ہے کہ پوری قوم کو علم کی روشنی سے منور کرنے کی توفیق مانگتا ہےتو انسان دوستی کی سچی داستان جاتی ہے۔

فیض احمد فیض غم دوراں کے سامنے محبوبہ کا دکھ بھول جاتے ہیں کہتے ہیں کہ :

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

راحتیں اور بھی ہیں وصل کی رات کے سوا

یہاں پر شاعر اپنی انسان دوستی کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔

آج انسانیت خطرے میں ہے مگر جانوروں کے نام پر نفرتوں کی سیاست کی جا رہی ہے، انسانیت دوستی کے بجائے عدم رواداری کو پروان چڑھایا جا رہا ہےاس کی جگہ میں پیار و محبت کی کوئی حقیقت نہیں رہ جاتی ہے ،ماں کاپیار اور باپ کی شفقت کی قدر نہیں ہوتی ہے تو شاعر انسانیت کو پھر سے زندہ کرنے کی کوشش میں یاد دلاتے ہیں ۔ حالی…

یہی ہے عبادت یہی دیمان و ایمان

کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں

معزز قارئین! آپ سے کچھ کہنا ہے

ہماری بھرپور کوشش ہے کہ میگزین کا ہر صفحہ تازہ ترین موضوعات پر مبنی ہو، ساتھ اُن میں آپ کی دل چسپی کے وہ تمام موضوعات اور جو کچھ آپ پڑھنا چاہتے ہیں، شامل اشاعت ہوں، خواہ وہ عالمی منظر نامہ ہو یا سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، رپورٹ ہو یا فیچر، قرطاس ادب ہو یا ماحولیات، فن و فن کار ہو یا بچوں کا جنگ، نصف سے زیادہ ہو یا جرم و سزا۔ لیکن ان صفحات کو اپنا سمجھتے ہوئے آپ بھی کچھ لکھیں اور اپنے مشوروں سے نوازیں بھی۔ خوب سے خوب تر کی طرف ہمارا سفر جاری ہے۔

ہمیں خوشی ہے کہ آج جب پڑھنے کا رجحان کم ہوگیا ہے، آپ ہمارے صفحات پڑھتے ہیں اور وقتاً فوقتاً اپنی رائے کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اب ان صفحات کو مزید بہتر بنانے کے لیے اپنی رائے بھی دیں اور تجاویز بھی، تاکہ ان صفحات کو ہم آپ کی سوچ کے مطابق مرتب کرسکیں۔ ہمارے لیے آپ کی تعریف اور تنقید دونوں انعام کا درجہ رکھتے ہیں۔ تنقید کیجیے، تجاویز دیجیے۔ اور لکھیں بھی۔ نصف سے زیادہ، بچوں کا جنگ، ماحولیات وغیرہ یہ سب آپ ہی کے صفحات ہیں۔ ہم آپ کی تحریروں اور مشوروں کے منتظر رہیں گے۔ ہمارا پتا ہے:

رضیہ فرید۔ میگزین ایڈیٹر

روزنامہ جنگ، اخبار منزل،آئی آئی چندیگر روڈ، کراچی