• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

الیکشن کمیشن کا فواد اور سواتی کیخلاف ایکشن، نوٹس دینے کا فیصلہ

الیکشن کمیشن کا فواد اور سواتی کیخلاف ایکشن، نوٹس دینے کا فیصلہ


اسلام آباد (نمائندہ جنگ، ٹی وی رپورٹ) الیکشن کمیشن نے وزراء کی جانب سے آگ لگانے کی دھمکی، پیسے پکڑنے اور جانبداری کے الزامات پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فواد چوہدری اور اعظم خان سواتی کیخلاف کارروائی کے آغاز کیلئے دونوں وزراء کو نوٹس جاری کرنےکا فیصلہ کیا ہے، الیکشن کمیشن نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اعظم خان سواتی سے الزامات کے ثبوت مانگنے کا فیصلہ بھی کیاہے، چیف الیکشن نے پیمرا اور کمیشن آفس سے ایوان صدر، سینیٹ قائمہ کمیٹی اور پریس بریفنگ کا تمام ریکارڈ بھی طلب کرلیا ہے، چیف الیکشن کمشنر نے کہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات موخر نہیں ہونگے،عوام کو مقامی حکومت سے محروم نہیں کرسکتے، بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے کمیشن جلد اپنا حکم جاری کریگا، دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اپوزیشن کےآلہ کارہیں ان کا نوازشریف سے قریبی تعلق ہے، الیکشن کمیشن کا کام سوشل میڈیا پر اپنے بیانات لگانا نہیں اگر ایسا کرینگے تو ردِ عمل آئیگا ، جو بات کہی وہ میری رائے نہیں کابینہ اور وفاقی حکومت کا موقف ہے، الیکشن کمیشن مکمل نہیں، دیکھیں گے نوٹس دے بھی سکتا ہے یا نہیں۔ تفصیلات کے مطابق منگل کو اسلام آبادالیکشن کمیشن کا اہم اجلاس ہوا جسکی صدارت سکندر سلطان راجہ چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان نے کی ۔ اجلاس میں ممبران الیکشن کمیشن نثار احمد درانی اور شاہ جتوئی کے علاوہ الیکشن کمیشن کے سینئر افسران شریک ہوئے۔ اس اجلاس میں الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر پر لگائےگئے الزامات کو زیر بحث لایا گیا ۔ الیکشن کمیشن نے ان الزامات کی پُرزور الفاظ میں تردید کی اور انہیں مسترد کردیا ۔ صدرپاکستان اور سینیٹ اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ کے دوران وفاقی وزیر ریلوے اعظم خان سواتی کی طرف سے الیکشن کمیشن پر جو الزامات عائد کیے گئے ہیں اُس پر اُن سے ثبوت مانگنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسکے علاوہ فواد چوہدری کی طرف سے پریس بریفنگ کے دوران الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنرپر جن الفاظ میں الزام تراشی کی گئی ۔ اُس پر الیکشن کمیشن نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ دونوں وزراء کو نوٹس جاری کئے جائینگے تاکہ اس سلسلے میں مزید کارروائی عمل میں لائی جاسکے ۔ الیکشن کمیشن نے پیمرا سے متعلقہ ریکارڈ بھی طلب کر لیا اور دفتر کو حکم دیا گیا کہ وہ ایوان صدر،سینٹ اسٹینڈنگ کمیٹی کی کارروائی اور پریس بریفنگ سے متعلق تما م ریکارڈ مرتب کر کے مزید کارروائی کیلئے الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کرئے ۔ دریں اثنا ء چیف الیکشن کمشنر سلطان سکندر راجہ نے واضح کیا ہےکہ بلدیاتی انتخابات موخر نہیں کر سکتے ،الیکشن کمیشن بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے حکم جاری کریگا،بلوچستان میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کے سلسلے میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ا یڈوکیٹ جنرل بلوچستان، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ بلوچستان پیش ہو ئے ظفر اقبال، اسپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن کو بریفنگ دی کہ الیکشن کمیشن کی آئین قانونی ذمہ داری ہے کہ 120 دن کے اندر بلدیاتی انتخابات کرائے اگر بلوچستان حکومت ضروری قانون سازی نہیں کرتی اور الیکشن کمیشن کو ڈیٹا فراہم نہیں کرتی تو کیا اسے بلدیاتی انتخانات کے انعقاد سے استثنیٰ حاصل ہے؟الیکشن کمیشن نے کہاکہ بلوچستان حکومت کو بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے استثنیٰ حاصل نہیں بلوچستان حکومت بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں دلچسپی نہیں رکھتی الیکشن کمیشن کے ڈی جی لا ارشد خان نے کہاکہ الیکشن کمیشن بلوچستان حکومت کو ہدایت کرے کہ وہ ضروری دستاویزات الیکشن کمیشن کو فراہم کرےتاکہ الیکشن کمیشن موجودہ قوانین کے تحت بلدیاتی الیکشن کرائے۔ ڈی جی لاء الیکشن کمیشن ارشد خان آئین کے تحت بلدیاتی انتخابات کرانا ضروری ہے بلدیاتی انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہےسی سی آئی مردم شماری کے نتائج کی حتمی منظوری دے چکی ہے الیکشن کمیشن بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کیلئے بلوچستان حکومت کو احکامات جاری کرے سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد ملک بھر میں کنٹونمنٹ انتخابات کرائے گئے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہاکہ ابھی چاروں صوبوں میں کنٹونمنٹ میں وزارت دفاع کے تعاون سے بلدیاتی انتخابات منعقد ہوئے ہیں وزارت دفاع نے کنٹونمنٹ بورڈ الیکشن کے حوالے سے سارا ڈیٹا فراہم کیا الیکشن کمیشن وزارت دفاع کے کردار کو سراہتا ہےتمام صوبے بھی اب لیڈ لیں اور بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کریں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد قانونی ذمہ داری ہےایڈوکیٹ جنرل بلوچستان نے کہاکہ بلدیاتی انتخابات کے قانون میں ترمیم کر چکے ہیں، تاہم ابھی صوبائی کابینہ سے منظوری نہیں ہوئی وزیر اعلی سے کل طویل مشاورت کی مشورہ دیا گیا کہ بلوچستان بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کیلئے آرڈیننس جاری کریں تاکہ ہم الیکشن کمیشن کو اپنی سنجیدگی بتائیں تمام شراکت دار ہمارے ساتھ ہیں بلوچستان کی 72 نئی میونسپل کمیٹی بن رہی ہیں ، 24 نئی میونسپل کارپوریشن بن رہی ہیں بلوچستان میں 5 میٹروپولیٹین بن رہی ہیں اس کیلئے نئے حلقے بننے ہیں ہمیں تین ہفتے کی مہلت دیدیں، ہم سارا کام مکمل کر لینگے۔ چیف الیکشن کمیشنز نے کہاکہ ہمیں قانون اور آئین گنجائش نہیں دیتا کہ ہم بلدیاتی انتخابات موخر کریں ہم عام آدمی کو مقامی حکومت سے محروم نہیں کر سکتےچار ہفتے بعد الیکشن کمیشن بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے کیس کی سماعت کریگا۔ الیکشن کمیشن بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے اپنا آرڈر جاری کرے گا اب الیکشن کمیشن بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے کوئی تاخیر نہیں کریگا بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے سماعت 14 اکتوبر تک ملتوی ہوئی۔ علاوہ ازیں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کا نوٹس آیا تو تفصیلی جواب دیں گے۔الیکشن کمیشن کی طرف سے نوٹس بھجوانے کے فیصلے کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر د عمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا احترام اپنی جگہ لیکن شخصیات کے سیاسی کردار پر بات کرنا پسند نہیں تو اپنا کنڈکٹ غیر سیاسی رکھیں۔

اہم خبریں سے مزید