• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

٭ وفاقی دارالحکومت کے سیاسی اور سفارتی حلقوں میں ’’سی آئی اے‘‘ چیف کی آمد کے حوالہ سے کئی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ یار لوگوں کا کہنا ہے کہ ’’مذکورہ شخصیت‘‘ افغانستان کی صورتحال کے تناظر میں امریکی مفادات کی تکمیل کے سلسلہ میں خطے میں اپنے ’’ایجنڈے‘‘ کو مسلط کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ واقفانِ حال کا کہنا ہے حکومتی اعلیٰ عہدیداروں کے علاوہ مقتدر ریاستی اداروں کے کلیدی سربراہوں سے ہونے والی ملاقاتوں کے دوران ’’خارجہ پالیسی‘‘ کے امور کی منصوبہ بندی کی ’’حدود و قیود‘‘ کو بھی طے کیا گیا ہے۔

یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ سی آئی اے چیف کے مرتب کردہ نکات کی روشنی میں آٹھ ممالک کے خفیہ انٹیلی جنس اداروں کے سربراہوں کا اجلاس ہماری ’’میزبانی‘‘ میں بلایا گیا ہے۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ داخلی اور خارجی سلامتی کے معاملات کے علاوہ ’’سیاسی استحکام‘‘ کے مراحل طے کرنے کے سلسلہ میں بھی اہم علامات کا عندیہ دے دیا گیا ہے؟

چیف سیکرٹری بنتے بنتے رہ گئے؟

٭ وفاقی دارالحکومت کے سیاسی اور سرکاری حلقوں میں ایک وفاقی سیکرٹری سطح کے اعلیٰ بیورو کریٹ کے چیف سیکرٹری پنجاب بنتے بنتے رہ جانے کی حسرت بھری داستان کے بارے میں کئی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ یار لوگوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ اعلیٰ افسر صوبے کے کلیدی عہدہ کو حاصل کرنے کے معاملہ میں آخری مرحلہ تک پُراعتماد تھے۔ واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ افسر شاہی کے حلقوں میں یہ تاثر پایا جا رہا تھا کہ سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے رشتہ داروں کے ذریعے بھی اس سلسلہ میں منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ 

یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ حکومت کے اہم قانونی مشیر سینیٹر اور اقتدار کے ایوانوں میں رسائی رکھنے والے ایک بڑے صنعتکار سے ’’عزیز داری‘‘ کی وجہ سے بھی مذکورہ اعلیٰ افسر کو ’’منزل مراد‘‘ ملتی نظر آرہی تھی۔ جس اعلیٰ بیورو کریٹ کو چیف سیکرٹری پنجاب کے عہدہ پر تعینات کیا گیا ہے ان کی ملازمت بھی آخری مرحلے میں ہے۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ کچھ ناگزیر وجوہات کی بناء پر ’’اوپر‘‘ سے مذکورہ افسر کے بارے میں فیصلہ تبدیل کیا گیا ہے؟

پنجاب میں بڑی تبدیلی کا امکان؟

٭ صوبائی دارالحکومت کے سیاسی اور سرکاری حلقوں میں ایک دفعہ پھر صوبے میں ’’بڑی تبدیلی‘‘ لانے کے حوالہ سے کئی کہانیاں گردش کر رہی ہیں۔ یار لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومتی پارٹی کے اہم عہدیداروں کی سرگرمیاں بھی کئی سوالات اٹھا رہی ہیں؟ واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے وفاداری کی سیاست کرنے والے ’’چکری کے چودھری‘‘ کی لاہور میں ذاتی دوستوں سے مشاورت اور ملاقاتوں کے بارے میں کئی چہ میگوئیاں سننے میں آ رہی ہیں۔

مذکورہ ملاقاتوں کے ذریعے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ انہیں کوئی ’’خصوصی ٹاسک‘‘ دیا گیا ہے اور وہ اس معاملہ میں مختلف زاویوں سے سرگرم عمل ہیں۔ وہ صرف ’’ذاتی احباب‘‘ کو اعتماد میں لینے کی کوششوں میں ہیں۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ تین سال کی ’’طویل خاموشی‘‘ اور اُن کے ’’سیاسی مزاج‘‘ نے ان کی راہ میں کئی دشواریاں حائل کر رکھی ہیں؟

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید