• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

عوام کی خوشحالی کیلئے فلاحی منصوبے شروع کرنا ہوں گے

آزاد جموں و کشمیر مسئلہ کشمیر ایک مرتبہ پھر تاریخ کے اہم مرحلے میں داخل ہو گیا 15اگست کو افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد پوری دنیا میں جہاد کی اہمیت زیر بحث آ گی ہے جہاد اسلامی کایہ مقصد نہیں کہ کئی بھی غیر مسلم پر چڑھ دوڑیں جہاد اسلامی کا بنیادی تصور غزوہ بدر، غزوہ احد غزوہ خندق اور ایک بڑی مثال فتح مکہ کے موقع پر ملتی ہے فاتح ہونے کے باوجود کفار کے ساتھ وہ سلوک نہیں کیا جو عربوں کی روایت تھی یہی اسلامی جہاد کے بنیادی اصول ہیں فتح افغانستان کے بعد ہندوستان کی حکومت اور میڈیا میں جو تشویش پائی گی اور بے چینی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ 

اس سے ہندوستان کے جانب دار میڈیا کے طور پر اپنے آپ کو پیش کرنے پر میڈیا کے طے شدہ اصولوں کی نفی ہوتی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان جو اپنے آپ کو دنیا کی بڑی جمہوریت پیش کرتا ہے اس کا میڈیا انڈین خفیہ اداروں کی ذیلی برانچ کے طور پر کام کررہا ہے ہندوستان کو خطرہ ہے کہ طالبان دنیا کے پانچ ایٹمی طاقتوں کو شکست دینے کے بعد ہندوستان کا رخ کرے گا یہ خدشات اس لیے ہیں کہ ہندوستان کو اپنے کرتوتوں کا علم ہے طالبان کے ترجمان نے ایک بیان میں بھی کہا کہ ہندوستان کے مسلمانوں اور کشمیر کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر خاموش نہیں رہے سکتے۔ 

اس کے بعد مسئلہ کشمیر ایک نئے دور میں داخل ہو گیا ہے کشمیری ایک مرتبہ پھر طاقت کے استعمال کی طرف جاسکتے ہیں کیونکہ ہندوستان جمہوری زبان کو سمجھنے سے قاصر ہے 5اگست 2019کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے طویل محاصرے کے بعد محسوس کررہا ہے کہ کشمیر پر زیادہ دیر تک قبضہ رکھنا مشکل ہے اب گزشتہ ایک ماہ سے ہندوستان کی سرکار اور میڈیا کو نظر آرہا کہ غزوہ ہند کا آغاز ہونے والا ہے اس میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کو نہیں روک سکیں گے ہندوستان میں مودی نے گزشتہ 8سالوں کے درمیان اقلیتوں میں اتنی نفرت بھردی ہے جس سے ہندوستان کے وجود کو زیادہ دیر تک قاہم رکھنا مشکل نظر آرہا ہے۔ 

ہندوستان میں سکھوں کی تحریک خالصستان کو بھی نئی طاقت مل رہی ہے مسلمانوں اور نیچی ذات کے ہندوؤں کی نفرت کو زیادہ دیر تک نہیں دبایا جاسکتا ہے ہندوستان میں آر ایس ایس کے نظریے نے ہندو مسلم سکھ عیسائی سبھی کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ہندوستان کی بڑے پیمانے پر تقسیم ناگزیر ہو چکی ہے زیادہ تک جبر کی بنیاد پر لوگوں کو اپنے ساتھ زیادہ دیر تک نہیں رکھ سکتے وہ بھی لوگوں کے بنیادی جمہوری حقوق غصب کرکے تحریک آزادی کشمیر کو سید علی شاہ گیلانی کی زیر حراست شہادت نے نئی روح پھونکی دی ہے۔ 

زندہ گیلانی سے تو ہندوستان خوف زدہ تھا ہی لیکن گیلانی صاحب کی وفات کے بعد انکی میت کو بھی گرفتار کرنے کےواقع نے ظلم کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے دنیا میں ظلم کی جتنی بھی مثالیں تھیں انکو ہندوستان نے پیچھے چھوڑ دیا آزاد کشمیر بارہ سو سے زیادہ مقامات پر گیلانی صاحب کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گی آزاد کشمیر کے دس اضلاع 32تحصیل ہیڈ کوارٹر مقامات پر خصوصی پروگرام ہوئے انکی شہادت پر کنٹرول لائن کے دونوں اطراف تین روزہ ماتم رہا حکومت آزاد کشمیر نے اپنی بساط کے مطابق اہتمام کیا اس وقت زیر حراست مزید کشمیریوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں یاسین ملک آسیہ اندرابی فریدہ بہن جی شبیر شاہ مسرت عالم اور دیگر کشمیری رئنماوں کی صحت بھی خراب ہے جو بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں پابند سلاسل ہیں۔

حکومت آزاد کشمیر کو برطانیہ امریکا اوآئی سی ممالک کو اس خطرے ناک صورت حال سے آگاہ کرنا ہوگا یورپی یونین میں موثر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے دنیا بھر میں پاکستان کے سفارت خانوں کو کردار ادا ہوگا حکومت پاکستان مقدمہ کشمیر کو کشمیریوں کے زیرے پیش کرنے کا موقع فراہم کرنا ہوگا لیکن بدقسمتی سے آزاد کشمیر میں جو حکومتی سٹ اپ قائم ہوا ہے اس میں اہلیت کے مطابق عہدے نہیں دئے گے تحریک انصاف کی حکومت کی پہلے میرٹ کی پامالی پارلیمانی لیڈر کا انتخاب تھا سات سال تک پارٹی کو فعال کرنے والے پارٹی صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کو اس کا حق نہ ملنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہاں پر کوئی کام میرٹ پر ہونے والا نہیں انتظامیہ کی اکھاڑ پچھاڑ کے بعد حکومت پاکستان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پہلے سے بھرتی ملازمین کی نکالنے کا پلان شروع ہو گیا ہے۔ 

اب اپنے لوگوں کو اس طرح روزگار فراہم کیا جائے گا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ این ٹی ایس کے ساتھ بھی چھڑنے کی کوشش کی جائے گی ن لیگ کی حکومت نے پبلک سروس کمیشن کو فعال اور غیر جانبدار ادارہ بنانے اور محکمہ تعلیم میں اساتذہ کی بھرتی این ٹی ایس کر ذریعے کرنے سے میرٹ سے ادارے بہتری کی طرف جارہے تھے سرکاری اسکولوں میں معیار تعلیم بہتر ہورہا تھا اگر حکومت مثبت ویژن کے ساتھ آگے بڑھے عوامی فلاحی کاموں پر توجہ دے میرٹ کو برقرار رکھے حکومت کی نیک نامی ہوگی اور خوشحالی آئے گی لوگوں کا معیار زندگی بلند ہوگا۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید