• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

پی ٹی آئی نے مہنگائی پر قابو پالیا تو پنجاب بھی مٹھی میں ہوگا

انٹیلی جنس سربراہوں نے اسلام آباد میں ہونے والے اس اہم اجلاس میں شرکت کی ان میں چین ،روس ،ایران ،ازکستان ،قازکستان ، تاجکستان، ترکمانستان شامل تھے۔ اس اجلاس میں افغانستان کی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا ،بھارت کی غیر ضروری سرگرمیوں سے متعلق پاکستانی تحفظات کا بھی جائزہ لیا گیا اور خطے میں دہشت گردی کی کارروائیوں کو روکنے کیلئے باہمی تعاون کا بھی فیصلہ کیا گیا اور دوسرے کو خفیہ اطلاعات بھی فراہم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ 

اس وقت بھارت بالکل تنہا ہے اس کے اتحادی بھی اس کا ساتھ نہیں دیتے نظر آرہے ، طالبان نے اب تک جو اقدامات کئے ہیں وہ عالمی توقعات کے مطابق کئے ہیں ماضی کے ان کے طرز عمل کے برعکس ہیں اس وقت افغانستان شدید مالی بحران کا شکار ہے عوام غذائی قلت کا بھی شکار ہیں پاکستان واحد ملک ہے جو فوری طور پر مصیبت میں گہرے افغان عوام کی مدد کر رہا ہے کئی جہاز کھانے پینے کی اشیا ء لے کر افغانستان کے مختلف شہروں میں پہنچا رہے ہیں۔

مگر پاکستان تنہا ان کی ضروریات پوری نہیں کر سکتا اس لئے پاکستان اقوام متحدہ امریکہ ، برطانیہ اور دیگر ممالک پر زور دے رہا ہے کے افغان عوام کو تنہا نہ چھوڑے ان کی بھر پور مدد کریں بلخصوص افغانستا ن کے منجمند 9ارب ڈال انہیں فراہم کئے جائیں نہیں تو افغان عوام فاقہ کشی کا شکار ہو جا ئیں گے اور انارکی پھیلے گی افغانستان عدم استحکام کا شکا ر ہو جائے گا۔

پاکستان میں سیاسی صورتحال کا تجزیہ کیا جائے تو ایک طر ف بھارت افغانستان میں پاک فوج کی مداخلت کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے دوسری طرف بھارت کے اس بیانیہ کو مسلم لیگ (ن)کی نائب صدر مریم نوا ز نے یہ بیان دے کر تقویت دے دی ہے کہ پاکستان کوافغانستا ن میں مداخلت نہیں کر نی چاہئے اور افغان عوام کو ہی اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا چاہئے ۔ 

مریم نوا زصاحبہ کو شاہد اس بات کا ادراک نہیں کہ پاکستانی عوام بھارت نواز بیانات کو بالکل پسند نہیں کرتے پاکستانیوں کا یہ حال ہے کہ وہ کرکٹ ،ہاکی اور دوسری گیموں کے بھارت کے ساتھ مقابلے کو زندگی موت کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اسی بیانیہ کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کو آزاد کشمیر میں زبر دست شکست کا سامنا کرنا پڑا ، ان دنوں طویل عرصہ کے بعد پی ڈی ایم نے حکومت کے خلاف جلسے جلوس نکالنے کا سلسلہ شروع کیا ہے مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت کے خلاف دوبارہ تحریک شروع کر دی ہے مگر اس تحریک کے کامیابی کے امکانات بہت کم دکھائی دیتے ہیں کیوں کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے لیڈر آپس میں لڑ رہے ہیں اور ایک دوسرے کو اسٹیبلشمنٹ کا حمایتی قرار دے رہے ہیں۔ 

مسلم لیگ (ن) ،جے یو آئی پیپلزپارٹی کے درمیان محاز آرائی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ پیپلزپارٹی والے ن لیگ اور مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف تابڑ توڑ حملے کر رہے ہیں ،اور یہ دونوں جماعتیں پیپلزپارٹی پر  اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعاون کے الزامات لگا رہے ہیں ، بلاول بھی انہیں منافق قرار دے رہے ہیں ، پی ڈی ایم میں ابھی وہ قوت نہیں کہ وہ عمران حکومت کو گرا سکیں اور نہ ہی مسلم لیگ (ن ) کی قیادت آئندہ الیکشن سے پہلے عمران یا بزدار حکومت کو گرانا چا ہتی ہے مسلم لیگ ن کی قیادت دو دھڑوں میں تقسیم ہے ایک دھڑا میاں شہباز شریف اور دوسرا دھرا مریم نوا ز کے ساتھ ہے اب ان دونوں دھڑوں کے بیانات بھی ایک دوسرے کے خلاف سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ 

مولانا فضل الرحمٰن نے یہ بیان دیا ہے کہ وہ اب اسلام آباد میں دھرنا دیں گے۔دیکھنا یہ ہے کہ یہ دھرنا کس حد تک کامیاب ہو گااور کیا اس دھرنے کی وجہ سے حکومت گھر چلی جائے گی ، پہلی بات یہ ے مولانا فضل الرحمٰن فوری طور پر الیکشن چاہتے ہیں جبکہ پی ڈی ایم میں شامل بڑی جماعت مسلم لیگ ن فوری الیکشن کی حامی نہیں ،پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاو ل بھٹو زرداری جنوبی پنجاب کے دورے سے پرامید ہیں کہ کم از کم جنوبی پنجاب میں ان کو کچھ سیٹیں مل جائیں جبکہ سینٹرل پنجاب میں پیپلزپارٹی ابھی اس پوزیشن میں نہیں آئی۔

بلاول بھٹو نے یہ بیان دیا ہے کہ وہ اب دوستوں پر نہیں جیالوں پر انحصار کریں گے کاش اس بات کا احساس انہیں بہت پہلے ہو جاتا تو پیپلزپارٹی کیلئے بہتر ہوتا ،پنجاب میں قمر زمان قائرہ اور چوہدری منظور کو پارٹی کو منظم کرنے کی ذمہ داریاں سونپی گئیں تھی نہ وہ ناراض جیالوں کو راضی کر سکے اور نہ ہی وارڈ کمیٹیوں کی سطح پر وہ تنظیمیں بنا سکے وہ بری طرح ناکام ہوئے انہوں نے لاہور ،اسلام آباد اور لالہ موسیٰ تک اپنے آپ کو محدود رکھا کسی ضلع یا تحصیل میں پیپلز پارٹی کی وارڈ کمیٹیاں نہیں بنائی گئی جو پیپلزپارٹی کا طرہ امتیاز تھا دیکھنا یہ ہے کہ راجہ پرویز اشرف آئندہ انتخابات سے پہلے سینٹرل پنجاب میں پارٹی کو کیسے منظم کرتے ہیں ،بلاول بھٹو کی کوشش ہے کہ جہانگیر ترین کو کس طرح کر اپنے ساتھ ملا لیں اور جنوبی پنجاب میں کچھ نشستیں حاصل کر لیں ۔ 

دیکھنا یہ ہے کہ بلاول بھٹواب کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں ، وزیر اعظم عمران خان بڑے بڑے منصوبوں پر بھر پور توجہ دے رہے ہیں ان کے دور میں دو ڈیموں پر کام شروع ہونےکا فیصلہ اور ان کی تکمیل تاریخی حیثیت کی حامل ہو گی۔ مگر وزیر اعظم عمران خان کی اپوزیشن صرف مہنگائی ہے اگر مہنگائی پر قابو پا لیں تو تحریک انصاف پنجاب سے اچھی نشستیں حاصل کر سکتی ہیں اور پنجاب انکی مٹھی میں آسکتا ہے ۔ اگرچہ عوام نے مہنگائی کے باوجود آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کو کامیاب کیا اس کی بڑی وجہ امریکہ کوا ڈے دینے کیلئے امریکہ کے سخت دبائو کے سامنے ڈٹ جانا کشمیر کے حوالے سے بھارت کے خلاف سخت موقف کو اختیار کرنا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کو چاہئے کے ان کے دوررس نتائج کے منصوبوں کا ملک کو آئندہ فائدہ ضرور ہو گامگر عوام کی سہولتوں کیلئے فوری اقدامات بھی ضروری ہیں جن میں مہنگائی کو کنٹرول کرنا سرفہرست ہے ۔موجودہ حکومت نے ہیلتھ کارڈ ،کسانوں اور جوانوں کو قرضہ دینے کی سکیمیں شروع کیں ہیں دیکھنا یہ ہے کہ ان سکیموں پر کس حد تک عمل ہوتا ہے ،اس بات پر بھی کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا یہ قرضہ غریبوں سے رشوت کے طو ر پر پیسے لے کر دیئے جائیں گے یا بے روز گار نوجوانوں اور کسانوں کو از خود قرضہ مل جائے گا۔ 

وزیر اعلیٰ پنجاب سرادار عثمان بزدار کو تاخیر سے با اختیار وزیر اعلیٰ بنایا گیا ہے تین سال تک تو ان پر تلوار لٹکتی رہی کہ پتہ نہیں وہ وزیر اعلیٰ ر ہیں گے یہاں نہیں یہ ہی وجہ ہے کہ بیوروکریسی بھی ان کے ساتھ تعاون نہیں کر تی تھی اور نہ ہی ان سے ڈرتی تھی ، وزیر اعلیٰ پنجاب نے اب بڑے پیمانے پر کام شروع کیا ہے اور انہوں نے جنوبی پنجاب اور سینٹرل پنجاب میں بہت سے منصوبے شروع کئے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اب یہ منصوبے آئندہ الیکشن سے پہلے مکمل ہوتے ہیں اور کیا ان کے ثمرات عوام تک پہنچتے ہیں یا نہیں ادھر حکومت اور چیف الیکشن کمشنر کے درمیان جنگ شروع ہو گئی ہے۔ 

اس کا آغاز الیکشن کمیشن کی طرف سے الیکٹراونک ووٹنگ سسٹم کے مسترد ہونے کئے جانے کے بعد، گزشتہ دنوں قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کے اجلاس میں حکومت کی طرف سےچیف الیکشن کمشنر اور ممبران پر سخت الزامات لگائے گئے جن کی وجہ سے حکومت اور الیکشن کمیشن کے درمیان تصادم کی صورت پیدا ہو گئی اجلاس میں وفاقی وزیر برائے ریلوے اعظم ہوتی نے سنگین الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کے نواز شریف سے قریبی رابطے رہے ہیں اور الیکشن کمیشن اپوزیشن ماوتھ پیس بن گیا ہے انہوں نے پیسے پکڑ لئے ہیں ان کی غیر جانبداری بری طرح متاثر ہوئی لہذا چیف الیکشن کمشنر استعفیٰ دیں جس پر الیکشن کمیشن کے ارکان اجلاس سے احتجاجاً واک آئوٹ کر گئے ۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید