• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

روہڑی کا شمار سندھ کے قدیم ترین شہروں میں کیا جاتا ہے۔ روہڑی کا ریلوے اسٹیشن بھی ملک کا بڑا جنکشن ہے، یہاں کراچی، پشاور، لاہور، راولپنڈی، کوئٹہ سے آنے یا جانے والے ٹرینیں اسٹاپ کرتی ہیں۔19ویں صدی کے آخری عشروں تک کوئٹہ یا کراچی سے ملک کے بالائی علاقوں کی جانب جانے کے لیے قومی شاہ راہ واحد ذریعہ تھی جس پر لوگ سفر کرتے ہوئے اپنی مطلوبہ منزل پر پہنچتے تھے۔ 13 مئی 1861ء میں کراچی سے کوٹری تک 169 کلومیٹر ریلوے لائن کا افتتاح ہوا۔ 24 اپریل 1865ءتک اس کا دائرہ کار ملتان تک بڑھا یا گیا۔ 1878 کے آخر میں کراچی، کوٹری، دادو سے ریل کی پٹری سکھر پہنچی اور اس کے ساتھ روہڑی سے خانپور کے لئے پٹری بچھائی گئی۔ 

اب بڑا مسئلہ سکھر، روہڑی کے درمیان ٹرین کو دریا سے گزارنے کا تھا جس کے لئے لینس ڈائون پل کے سپرنٹنڈنگ انجنیئرمسٹر رابرٹس کی خدمات حاصل کی گئیں، جنہوں نے بڑی کشتیاں تیار کروائیں جن پر ٹرین کے ڈبوں اور انجن کو سکھر پہنچایا گیا۔ سکھر ریلوے اسٹیشن بندر روڈ پر اور روہڑی کا ریلوے اسٹیشن’’ ستیوں جو آستاں‘‘ کے قریب تعمیر کیا گیا۔ یہاں ایک انتظار گاہ بھی تعمیر کرائی گئی۔ وہاں سے پٹری کے ذریعے ٹرین خانپور تک جاتی تھی ۔27 مارچ 1889ء میں لینس ڈائون پل بن کر تیار ہوگیا، جس کے بعد روہڑی ریلوے اسٹیشن تعمیر کیا گیا، جو کہ بہت چھوٹا تھا۔ 

اس جگہ پہلے ’’رضوی سیدوں ‘‘کا قبرستان تھا جس کی پہاڑی کی کٹائی کی گئی اور اس میں مٹی ڈلوائی گئی ۔ اس پہاڑی کو’’ لاہوری ٹکری‘‘ بھی کہا جاتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی زمانے میں لاہور کے ریشم کے تاجر یہاں رہائش اختیار کرتے تھے۔ اُس زمانے میں دریائے سندھ کا پانی اس ٹکری سے آکر ملتا تھا ،اس پر مغل بادشاہ اور نگزیب کےدور میں بکھر کے گورنر نواب میر یعقوب رضوی کے والد سید میر میران اور ان کے دادا سید یعقوب رضوی کے مقبرے بھی ہیں۔ جب اسٹیشن کی عمارت بنی تو اس پہاڑی کے نیچے کی جانب ایک راستہ تھا جسے ٹنل کے ذریعے تعمیر کیا گیا تھا۔ 

اسی طرح’’ اپ‘‘ والے حصے کی طرف سے اسٹیشن کے پاس شاہی راستہ تھا جو کہ ملتان ،لاہور اور روہڑی سے ہوتا ہوا خیرپور اور وہاں سے آگے جاتا تھا۔ ٹنل کے ذریعے تعمیر کر کے راستے کو بحال رکھا گیا ۔اس سے ذرا سا آگے’’ عمر کس واہ‘‘ تھی، اسے بھی ٹنل کے ذریعے گزارا گیا۔ 15 دسمبر 1896 کو حیدرآباد کے قریب شادی پلی اسٹیشن سے روہڑی تک ریلوے لائن بچھائی گئی، 25 مئی 1900 کو کوٹری اور حیدرآباد کے درمیان دریائے سندھ پر پل تعمیر کیا گیا۔ اس طرح کراچی کو روہڑی سے ٹرین کے ذریعے مربوط کردیا گیا۔ روہڑی ریلوے اسٹیشن کی عمارت میں بھی توسیع کی گئی، چار نئے پلیٹ فارم، ریلوے کے عملے کے لئے کوارٹر اور اسٹیشن کے قریب ٹکری پر ریلوے کے دفاتر بنائے گئے۔

ابتدا میں اسٹیشن پر ریلوے کے پاس بھاپ سے چلنے والے چھوٹے انجن تھے جن میں 20 سے 35 بوگیاں لگائی جاتی تھیں ۔ ہر دوسرے اسٹیشن پر لکڑیوں کے گودام اور پانی کی بڑی ٹنکیاں بنائی گئیں جہاں سے انجن کو ایندھن مہیا کیا جاتا تھا۔ روہڑی ریلوے اسٹیشن پر لکڑیوں کا اسٹور چار نمبر پلیٹ فارم پر آج بھی موجود ہے۔ شروع میں مال گاڑیاں چلائی گئیں، بعد میں مسافر ٹرینوں کا آغاز کیا گیا۔ اس دور میں مسافروں کی سہولت کے لئے ٹکٹ اور ریل کی بوگیوں کا ایک ہی رنگ رکھا گیا۔ 

فرسٹ کلاس کا ٹکٹ اوردرجہ اول کی بوگی سفید رنگ کی تھیں، سیکنڈ کلاس کا لال اور تھرڈ کا پیلارنگ رکھا گیا تھا۔ اس دور میں روہڑی سے کراچی تک کا سفر چار دن پر محیط تھا جب کہ مال گاڑی کا کوئی وقت مقرر نہیں ہوتا تھا کہ کب منزل پر پہنچے گی ۔1906 ءمیں انجنوں میں لکڑی کی جگہ پتھرکا کوئلہ استعمال ہونے لگا۔ جس سے ٹرین کی رفتار میں بھی فرق پڑا اور کراچی سے ملتان تک 576 میل کا فاصلہ 23 گھنٹوں جب کہ کراچی سے لاہور تک 784 میل کا فاصلہ35 گھنٹوں میں طے کیا جانے لگا۔

بعد ازاں بھاپ کی جگہ ڈیزل انجن نے لے لی،جس سے ٹرینوں کی رفتارمیں مزید اضافہ ہوگیا۔ انگریز وں کے دور میں روہڑی اسٹیشن مختصر رقبے پرتعمیر کیا گیا تھا، جلد ہی بڑے جنکشن میں تبدیل ہوگیا۔ لوکو شیڈ ، ریلوے ملازمین، مزدوروں اور افسران کے لئے کوارٹر اور بنگلے تعمیر کئے گئے ۔ روہڑی اسٹیشن پرریلوے ٹریفک کا دباؤ کم کرنے کے لئے نیو یارڈ تعمیر کیا گیا، اس کی گردونواح کی تمام ٹکریوں پر ریلوے کے افسران کے بنگلے اور عملے کے لیے ریلوے کالونی تعمیر کی گئی ۔

ٹرینیں یہاں 20منٹ سے آدھا گھنٹے تک اسٹاپ کرتی ہیں،یہاں ڈرائیور، ریلوے پولیس اور ٹرین کاعملہ تبدیل ہوتا ہے۔ ملک کے بالائی علاقوں سے کراچی آنے اور جانے والی تمام ٹرینوں کا ٹیکنیکل چیک اپ کیا جاتا ہے جب کہ ان میں مسافروں کےلیے پانی بھی یہیں سےبھرا جاتا ہے۔ اس دوران مسافر گاڑی سے اتر کراسٹیشن پراشیائے خورونوش کی خریداری کرتے ہیں، کچھ دیر بنچوں پر بیٹھ کر آرام کرتے ہیں۔ پہلےمسافروں کی سہولت کے لئے انتظار گاہیں بنی ہوتی تھیں لیکن اب انہیں ختم کرکے دفاتر بنادیئے گئے ہیں۔

روہڑی اسٹیشن کے ساتھ ہی روہڑی ریلوے پولیس اسٹیشن بھی قائم ہے جہاں پولیس افسران اور اہلکار 24 گھنٹے موجود رہتے ہیں، روہڑی ریلوے اسٹیشن اس لئے بھی بہت زیادہ مقبولیت رکھتا ہے کہ اس اسٹیشن کے چاروں پلیٹ فارموں پر کھانے پینے کے اسٹالوں کے ساتھ سندھ کی ثقافت کے رنگ بکھیرتے ہوئے خوبصورت اسٹال بھی موجود ہیں جہاں سندھی دست کاری کی اشیاء جن میں خواتین کےسوٹ، ہاتھ سے کڑھائی کرکے سوٹ پر لگانے والے گلے، پٹیاں، سندھ کی پہچان اس دھرتی کی شان سندھی ٹوپی اور اجرک ، ٹوپی، اجرک،کھجور کے پتوں اور کپڑے سے تیار کئے گئے خوبصورت دستی پنکھے، پرس اور دیگر ڈیکوریشن کی چیزیں فروخت ہوتی ہیں۔

روہڑی اسٹیشن کے 3 نمبر پلیٹ فارم کو ملک کے سب سے طویل پلیٹ فارم ہونے کا اعزاز ہے۔اس اسٹیشن سے متصل ایک قدیمی ( آر جی وائی ) یا ریلوے گڈز یارڈ بھی واقع ہے جو تمام مال گاڑیوں کا اسٹاپ ہے ۔ گڈز ٹرینیں یہاں40 منٹ ،ایک گھنٹہ یا اس سے زائد وقت بھی ٹھہرتی ہیں۔ اس یارڈپر دیگر عملے کے ہمراہ اسٹیشن ماسٹر بھی موجود ہوتا ہے۔ 

روہڑی ریلوے اسٹیشن کے ساتھ ہی لوکو شیڈ قائم ہیں جہاں بوگیوں خاص طور پر انجنوں کی مینٹینس وغیرہ کی جاتی ہے ۔وہاں ریلیف ٹرین بھی موجود ہوتی ہے۔ ڈویژن میں کسی بھی علاقے میں ریل حادثے کی صورت میں ریلوے انتظامیہ اطلاع ملتے ہی فوری طور پرسائرن بجاتی ہے جس کے بعد ریلیف ٹرین ،عملے کو لے کر جائے وقوعہ کی طرف روانہ کی جاتی ہے ۔

روہڑی اسٹیشن پاکستان کا اہم ترین جنکشن ہے، جہاں ملک کے تمام شہروں سے ٹرینیں آکر ٹھہرتی ہیں لیکن یہاں اب سہولتوں کا فقدان ہے۔ ٹرینیں یہاں 20منٹ سے آدھا گھنٹے تک اسٹاپ کرتی ہیں، یہاں ڈرائیور، ریلوے پولیس اور ٹرین کاعملہ تبدیل ہوتا ہے۔ ملک کے بالائی علاقوں سے کراچی آنے اور جانے والی تمام ٹرینوں کا ٹیکنیکل چیک اپ کیا جاتا ہے جب کہ ان میں مسافروں لیے پانی بھی یہیں سے بھرا جاتا ہے۔ اس دوران مسافر گاڑی سے اتر کراسٹیشن پراشیائے خورونوش کی خریداری کرتے ہیں، کچھ دیر بنچوں پر بیٹھ کر آرام کرتے ہیں، پہلےمسافروں کی سہولت کے لئے انتظار گاہیں بنی ہوتی تھیں لیکن اب انہیں ختم کرکے دفاتر بنادیئے گئے ہیں۔

ایک لوکل ٹرین روہڑی لو کو شیڈ سے سکھر تک آتی تھی جس سے ریلوے ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو سفری سہولت حاصل تھی جو اب ختم ہوچکی ہے۔ ملازمین کے اہل خانہ کے لیے اسپتال ، گرلزاور بوائز اسکول بھی بنائے گئے تھے جن میں سے کچھ بند ہوچکے ہیں۔ ریلوے حکام اس تاریخی جنکشن کو تباہی سے بچانے پر توجہ دیں۔