• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پلاٹ الاٹمنٹ کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

اسلام آباد(جنگ رپورٹر)اسلام آباد ہائیکورٹ نے ججوں،اعلیٰ افسران اور دیگر سرکاری ملازمین کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ سے متعلق کیس کا تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو اراضی ایکوائر کرنے کے لیے مفاد عامہ کے تحت پالیسی مرتب کرنے کی ہدایت کردی ہے جبکہ اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں عدالت کی معاونت کرنے کی ہدایت کی ہے، عدالت نے آبزرویشن دی ہے کہ بدعنوانی اورمس کنڈکٹ کی بناء پر نوکریوں سے فارغ کئے جانے والے ججز کو بھی پلاٹ الاٹ کر دیے گئے ہیں جبکہ 30ہزار سے زائدامیدوار پلاٹوں کی الاٹمنٹ کیلئے کافی عرصے سے انتظار میں ہیں لیکن ایف 14 اور 15 کی ریاستی زمین تقسیم کرتے ہوئے انکو نظر انداز کر دیا گیاہے ، چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے کیس کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا ہے،تحریری فیصلے میں عدالت نے قرار دیاہے کہ امید ہے ایکوائر لینڈ سے متعلق حکومت آئندہ سماعت سے قبل مفاد عامہ میں پالیسی مرتب کریگی، سیکٹر ایف 14 اور 15 کی قرعہ اندازی کے ذریعے الاٹمنٹ آئندہ سماعت تک معطل رہے گی، جن متاثرین کی زمینیں ایکوائر کی گئیں انکی حد تک حکم امتناع کا عملدرآمد نہیں ہو گا،ڈپٹی کمشنر سی ڈی اے نے عدالت کو بتایا ہے کہ کچھ متاثرین تعاون نہیں کر رہے ہیں اسلئے معاوضہ ادائیگی میں دیر ہورہی ہے،عدالت نے قراردیا ہے کہ سی ڈی اے قانون کے مطابق کارروائی آگے بڑھائے اگر متاثرین تعاون نہیں کرتے تووہ ان کیخلاف عدالت میں درخواست جمع کروائے ،سی ڈی اے آئندہ سماعت پر تمام پٹیشنوں پر تفصیلی جواب جمع کرائے۔

اہم خبریں سے مزید