• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلامی فلاحی مُعاشرے کی تشکیل اور اُس کی ضرورت و اہمیت

ڈاکٹر آسی خرم جہا نگیری

ارشاد باری تعالیٰ ہے: تم بہترین امت ہو جو سب لوگوں (کی رہنمائی) کے لئے ظاہر کی گئی ہے، تم بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو، اور اگر اہلِ کتاب بھی ایمان لے آتے تو یقینا ًان کے لئے بہتر ہوتا، ان میں سے کچھ ایمان والے بھی ہیں اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔ (سورہ ٔآل عمران)

اس آیت میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے امتِ محمدیہ کی باقی تمام امتوں اور قوموں کے مقابلے میں فضیلت وشان بیان فرمائی ہے ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ مخلوق کو نفع پہچانے کے لئے وجود میں آئی ہے۔ اس کا سب سے بڑا نفع یہ ہے کہ یہ مخلوق کی روحانی اور اخلاقی اصلاح کی فکرکرتی ہے اور یہ اس امت محمدیہ کا فریضۂ منصبی ہے۔اگر چہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر( یعنی لوگوں کو نیکیوں کا حکم کرنے اور برائیوں سے روکنے)کا حکم پچھلی امتوں کو بھی دیا گیا تھا، لیکن اس کی تکمیل اسی امت کے ذریعے ہوئی ہے۔ دوسرا پچھلی امتوں نے اس حکم کو چھوڑ دیا تھا ،جب کہ امت محمدیہ کے حوالے سے نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کی پیش گوئی ہے کہ اس امت میں تاقیامت ایک جماعت ایسی قائم رہے گی، جو برابر یہ فریضہ انجام دیتی رہے گی۔ یہی اس امت کی وجہ افتخار و وجہ امتیاز ہے۔

امام قرطبی رحمہ اللہ احکام القرآن میں فرماتے ہیں کہ’’یہ اعزاز اِس امت کے پاس اس وقت تک برقرار رہے گا، جب تک وہ اس دین پر قائم رہے گی اور نیکی کا حکم دینے اوربرائی سے روکنے والی صفت ان میں باقی رہے گی،اگر انہوں نے برائی کواچھائی سے بدلنے کی بجائے اس برائی کو خود اپنا لیا تو یہ اعزاز ان سے خود بخود چھن جائے گا‘‘۔

اس کی تائید نبی کریم ﷺ کی اس روایت سے ہوتی ہےجس میں آپﷺ نے تین جرائم کی تین سزائیں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا،جو امام جلال الدین سیوطی ؒ نے اپنی تفسیر دُرِّمنثور میں نقل فرمائی ہے کہ ’’جب میری امت دنیا کو بڑی چیز سمجھنے لگے گی تو اسلام کی ہیبت و وقعت اس کے قلوب سے نکل جائے گی،جب امر بالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑ بیٹھے گی تو وحی کی برکات سے محروم ہوجائے گی اور جب آپس میں گالم گلوچ اختیار کرے گی تو اللہ جل شانہ کی نگاہ سے گر جائے گی‘‘۔

اسی طرح صحیح بخاری میں حضرت نعمان بن بشیرؓسے نقل کردہ روایت سے واضح ہوتا ہے کہ کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک فلاح نہیں پا سکتا،جب تک کہ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے کو انجام نہ دے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا’’ اللہ کی حدود پر قائم رہنے اور اس کے پامال کرنے والے کی مثال ان لوگوں کی سی ہے، جنہوں نے ایک دو منزلہ کشتی کے اوپر اور نیچے والے حصے کے حوالے سے قرعہ اندازی کی (کہ کون کس منزل پر رہے گا)تو کچھ کو اوپر والا حصہ ملا اور کچھ کو نیچے والاحصہ ملا۔ 

پھر نیچے والوں کو پانی کی ضرورت ہوتی تو وہ اوپر والوں کے پاس جاتے(اور اپنی پانی کی ضرورت پوری کر لیتے) ۔(ایک دن )ان لوگوں نے سوچا کہ اگر ہم کشتی کے نچلے حصے میں سوراخ کر دیں (اور پانی کی ضرورت خود پوری کر لیں)اور اوپر والوں کو (بار بار جانے کے ذریعے سے) تکلیف نہ دیں تو کتنااچھا رہے گا، اب اگر اوپر والے ان نیچے والوں کو ان کے (اس احمقانہ)ارادے پر عمل کرنے سے نہ روکیں اور انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیں، تو وہ سب کے سب ڈوب کرہلاک وبرباد ہوجائیں گے۔اگر وہ انہیں بروقت روک دیں تو وہ سب ہلاک ہونے سے بچ جائیں گے‘‘۔

قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:’’نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو اور گناہ و سرکشی میں ایک دوسرے کے مددگار نہ بنو‘‘۔(سورۃ المائدہ)

اسلام حقوق اللہ اور حقوق العباد کا حسین امتزاج ہے۔ وہ اپنے ماننے والوں سے اس امر کا تقاضا کر تا ہے کہ حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی بھی بہت ضروری ہے۔ قرآن مجید نے ایسے نمازیوں کے لئے ہلاکت کی وعید سنائی ہے جو نماز کو رکوع وسجدہ تک محدود رکھتے ہیں اور انسانیت کو دکھوں سے نجات نہیں دلاتے، ارشاد ہوتا ہے:’’ ایسے نمازیوں کے لئے ہلاکت ہے جو اپنی نماز سے بے خبر ہیں ، جوریا کاری کرتے ہیں اور اشیائے ضرورت کو روکتے ہیں‘‘۔(سورۃ الماعون)

اسلام معاشرتی فلاح وبہبود اور رفاہِ عامہ کا عالمگیر چار ٹر ہے۔ ارشاد ہوتا ہے :’’نیکی یہی نہیں کہ تم مشرق و مغرب کی طرف اپنا منہ کر لو ،بلکہ نیکی تو یہ ہے کہ لوگ اللہ پر، یوم آخرت پر، فرشتوں پر، کتابوں اور پیغمبروں پر ایمان لائیں، اور اس کی محبت پر اپنا مال عزیزوں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سائلوں کو دیں اور گردنیں چھڑانے پر خرچ کریں‘‘۔(سورۃ البقرہ)

انسانی فلاح و بہبود کے اس چارٹر کے مطابق اصلی نیکی اور بھلائی یہ ہے کہ انسان ایمانیات کے نتیجے میں اپنے مال و دولت کے ساتھ محبت اورر غبت کے باوجودا سے معاشرتی بہبود اور رفاہی کاموں پر خرچ کرے۔ اسلام کے معاشرتی بہبود ورفاہِ عامہ کے نظام اور اسلام کی روحانی اور اخلاقی اقدار میں گہرا تعلق ہے۔ اسلام کی یہ اقدار انسان کو ایثار، قربانی اور بے لوث خدمت خلق پر آمادہ کرتی ہیں۔ نتیجتاً وہ اپنے ضرورت مند بھائیوں کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے پر روحانی خوشی محسوس کرتا ہے اور اس کی واضح مثالیں عہد نبویؐ، عہد خلفائے راشدینؓ میں بکثرت موجود ہیں۔

اسلام آخری اور مکمل دین ہے۔ اس لئے اس نے ہر قسم کے انسانوں کی فطرت کے مطابق ہدایات دی ہیں بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جن کے لئے روحانی اور اخلاقی اقدار کے ساتھ ساتھ قانونی اور انتظامی ضابطوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اس ضرورت کے پیش نظر اسلام میں اخلاقی و قانونی ضابطوں کے درمیان حسین امتزاج کیا گیا ہے۔ 

معاشرتی فلاح و بہبود کے بنیادی اصول سورۃ البقرہ میں بیان ہوئے ہیں۔ انہی اصولوں کو عہد رسالت، خلافت ِراشدہ ؓ میں قانونی حیثیت دے کرحکومت اسلامیہ کی باضابطہ حکمتِ عملی قرار دیا گیا۔ چنانچہ ارشادِ ربانی ہے:’’صدقات (زکوٰۃ) تو فقر اء، مساکین ، کارکنانِ صدقات کا حق ہے اور ان لوگوں کا جن کی تالیفِ قلب منظور ہو، اور غلاموں کو آزاد کرانے میں اور قرض داروں کے (قرض ادا کرنے میں) اور اللہ کی راہ میں مسافروں کی مدد میں (یہ مال خرچ کرنا چاہئے)‘‘۔(سورۃ التوبہ)

اس آیت میں ہر قسم کے بے کس، مجبور، محتاج، غریب اور بے سہارا لوگوں کا ذکرکیا گیا ہے۔ ایسے لوگوں کے لئے جو اصطلاح استعمال کی گئی ، وہ اپنی جامعیت میں تاریخی عوامل کے تحت ہرزمانے میں رونماہونے والے فقرو احتیاج اور بے کسی و بیچارگی پر حاوی ہے۔ ان میں وہ لوگ شامل ہیں جو حاجت مند ہوں، جو معاشی واقتصادی طور پر بالکل تباہ حال ہوں، جو غلامی کی زندگی بسر کر رہے ہوں اور جو تعلیم وعلاج سے محروم ہوں ۔ وہ لوگ جو اپنے وسائلِ سفر پر قادر نہ ہوں یا دورانِ سفر اس قابل نہ رہے ہوں، ان سب کے لئے رفاہِ عامہ کے نقطۂ نظر سے اسلام نے مستقل نظام کو وضع کر دیا ہے۔غرض فقر و مسکنت اور غربت و مسافرت جیسی مجبوریوں اور معذوریوں کے انسداد کےلئے عہد رسالت مآب ﷺ دورخلافت راشدہؓ کی سماجی خدمات بھی تاریخ میں مینار ۂ نور کی حیثیت رکھتی ہیں۔

آج جب کہ پوری دُنیا، غربت و افلاس اور بدامنی و عدم سکون کا شکار ہے، مادیت کا غلبہ ہے جب کہ روحانیت مفقود ہے، ایسے حالات میں سماجی خدمت اور فاہِ عامہ کی بدولت انسانیت کی فلاح کے لئے کوشش کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔ چنانچہ اسوۂ حسنہ کی روشنی میں ایسا نظام تشکیل دیا جائے جس کی نظیر خلافت راشدہؓ میں ملتی ہےیہی وجہ ہے کہ ابتدائے اسلام میں انسانیت کی بے لوث خدمات انجام دی گئیں حتیٰ کہ معاشرے کی تعمیرو ترقی کے لئے فلاحی اسکیمیں اور اداروں کا قیام عمل میں لایا گیا۔

موجودہ زمانے میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایسا مفید سماجی نظام تیار کریں کہ اس کا فائدہ براہ راست انسانیت کو پہنچے اور معاشر سے بد امنی، رشوت، غربت جیسی مہلک بیماریوں کا خاتمہ کیا جاسکے۔چنانچہ اس وقت ضرورت ہے کہ ہم اسلام کے فلاحی معاشرے کا ڈھانچہ انسانیت کے سامنے پیش کریں ،تاکہ ان اصولوں سے فائدہ اُٹھا کر قوم کی ترقی کے لئے کام کریں ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو معاشرے کی اصلاح کی فکر کرنے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے ۔(آمین)