• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹک ٹاک ایپ کے چینی ورژن پر بچوں کیلئے وقت محدود کردیا گیا

ٹک ٹاک ایپ کا چینی ورژن بچوں کو ایپ کے بے جا استعمال سے روکنے کے لیے ایک ’ٹین ایج موڈ‘ متعارف کروانے جارہا ہے جس کےبعد 14 سال سے کم عمر کے بچے اس ویڈیو ایپ پر دن میں 40 منٹ سے زیادہ کا وقت نہیں گزار سکیں گے۔

رپورٹ کے مطابق بیجنگ میں مقیم ٹک ٹاک ایپ کے مالک بائٹ ڈانس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نئے اقدام کو 14 سال سے کم عمر کے تمام ڈوئین ( ٹک ٹاک ایپ کا چینی ورژن ) کے تمام صارفین پر لاگو کیا جائے گا، جنہوں نے اپنے اصلی ناموں سے ایپ پر اپنا اندراج کروایا ہے۔

بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ ڈوئین ایپ رات 10 بجے سے صبح 6 بجے کے درمیان تمام صارفین کے لیے عدم دستیاب ہوگی۔

کمپنی نے بیان میں والدین سے یہ درخواست بھی کی کہ تمام والدین اپنے بچوں کا اندراج اس ایپ پر ان کے اصلی ناموں سے کروائیں یا پھر دوسری صورت میں جب 40 منٹ کا وقت مکمل ہوجائے تو خود ہی اپنے بچو ں کو ایپ کے بے جا استعمال سے بچانےکے لیے ’ٹین ایج موڈ‘ ایکٹیو کردیں۔

کمپنی کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اس ایپ پر نئے مواد کو بھی متعارف کرائے گی  جوکہ سائنسی تجربات، قدرتی مناظر اور اس کے علاوہ عجائب گھروں سے لے کر آرٹ گیلری کی نمائش پر مبنی ہوگا۔

سٹی گروپ گلوبل مارکیٹس کے مبصرین نے ٹک ٹاک ایپ کے مالک بائٹ ڈانس کی جانب سے کیے گئے اس فیصلے پر ایک تحقیقی نوٹ جاری کیا ہے۔

اس نوٹ میں مبصرین نے بائٹ ڈانس کے اس اقدام کو ’فعال اقدام‘ قرار دیا ہے اور ساتھ ہی یہ تجویز بھی دی ہے کہ دوسرے انٹرنیٹ پلیٹ فارمز کو بھی اپنی مختصر ویڈیو شیئرنگ ایپس پر اس طرح کی پابندیوں کو نافذ کرنے پر غور کرنے کے لیے مجبور کرسکتی ہیں۔

مبصرین نے اس اقدام کے حوالے سے مزید لکھا کہ جتنی زیادہ ایپس اس طرح کے حفاظتی اقدامات اٹھائیں گی تو اس سے لوگوں کو یہ پیغام دیا جاسکے گا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سماجی طور پر ذمہ دار ہیں۔

خاص رپورٹ سے مزید