• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آواز بند ہوئی نہ علیل ہوں، تھوڑی سی کھانسی تھی، اب ٹھیک ہوں، بپی لہری

بالی ووڈ کے ماضی کے مشہور و معروف گلوکار، کمپوزر، ریکارڈ پروڈیوسر اور سیاستدان بپی لہری نے کہا ہے کہ مجھے ان اطلاعات پر سخت صدمہ اور افسوس ہوا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ میں شدید علیل ہوں اور میری آواز بند ہوگئی ہے۔ 

’پیار بنا چین کہاں رے‘ جیسے کئی ہٹ گیتوں کے گائیک اور کمپوزر نے ان اطلاعات کو لغو اور غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ مجھے تھوڑی سی کھانسی ہوگئی تھی لیکن میرے بارے میں یہ افوا اڑا دی گئی کہ میں شدید بیمار ہوگیا ہوں اور میری آواز بند ہوگئی ہے۔

انھوں نے ان اطلاعات کے بعد پہلی بار اپنی سوشل میڈیا پوسٹ پر کہا کہ وہ بالکل تندرست اور ٹھیک ہیں اور ان کے تین گیت ریلیز ہونے والے ہیں۔ 

انھوں نے کہا کہ یہ بڑی مضحکہ خیز بات ہے جس پر میں بہت ناخوش ہوں، میں نے اپنے پوتے کے ساتھ تین روز قبل ہی ایک ڈاکومنٹری کے لیے شوٹنگ کی ہے تو پھر میں بیمار اور بنا آواز کہ یہ سب کیسے کرسکتا ہوں؟

انھوں نے کہا کہ میں فلم انڈسٹری میں گزشتہ پچاس برس سے کام کررہا ہوں لیکن اس قسم کا تجربہ مجھے کبھی نہیں ہوا۔ 

مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے 69 سالہ گلوکار بپی لہری نے میڈیا سے دوران ریکارڈنگ گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہلکی سی کھانسی ہوئی تھی اور میں اسکے لیے سیرپ اور ٹیبلیٹس لے رہا تھا، یہ چھوٹی سی چیز تھی اور اب میں بہت ہی بہتر ہوگیا ہوں، لیکن یہ کہہ دیا گیا کہ شدید علیل ہوں اور آواز بند ہوگئی ہے۔

 واضح رہے کہ کچھ میڈیا رپورٹس میں یہ کہا گیا تھا کہ پبی لہری اپریل میں کورونا وائرس سے صحت یابی کے بعد سے بہتر نہیں ہیں اور ان کی آواز بھی بند ہوگئی ہے۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید