برمنگھم(پ ر)سید مودودیؒ نے اسلام کو ایک مکمل نظام حیات کے طور پر پیش کیا جو انسانیت کی ہر شعبہ زندگی میں رہنمائی اور مسائل کا حل پیش کرتا ہے، انہوں نے امت کا تصور پیش کیا، اسلام اور مسلمان کے فرق کو واضح کیا، اسلام اور سیاست کے اس تصور کو ختم کیا کہ سیاست کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں جبکہ اللّٰہ کا حکم ہے کہ پورے کے پورے اسلام میں داخل ہو جائو، اللّٰہ نے اقامت دین کو انفرادی اجتماعی زندگیوں میں نافذ کرنے کا حکم دیا، عدل اور انصاف کا معاشرہ جس میں تمام انسانوں کے برابر کا انصاف ہو، فرقوں موروثی سیاست کی بجائے جمہوری نظام کو پیش کیا کہ اللّٰہ کی زمین پر امن قائم کرنے کے لیے اللّٰہ نے جو راستہ اور رہنمائی کی ہے اس پر عمل کرنے سے دنیا میں امن قائم ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار نائب امیر جماعت اسلامی سابق ممبر قومی اسمبلی فرید احمد پراچہ نے آن لائن ویڈیو لنک سے سید مودودی فائونڈیشن برطانیہ کے زیر اہتمام سید مودوی کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا سید مودودیؒ نے تحریک پاکستان میں ایک کلیدی کردار ادا کیا، بانی پاکستان کی خواہش پر ریڈیو پاکستان سے اسلامی نظام پیش کیا، پاکستان کو ایک دستوری ملک بنانے کے لیے 1956 اور1973 کا آئین بنانے اپنا بھرپور کردار اور پاکستان کو ایک اسلامی جمہوریہ پاکستان بنانے میں بھرپور تعاون کیا کہ پاکستان میں قرآن اور سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بن سکتا اور تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام اس پر متفق ہیں کہ پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ تقریب کی صدارت یوکے اسلامک مشن کے صدر ضیا الحق نے کی، سید مودودی فائونڈیشن برطانیہ کے چیئرمین محمد غالب نے کہا کہ سید مودودی نے اپنی تحریرں میں اسلام کا نظام بڑی آسان زبان میں پیش کیا تاکہ عام، کم تعلیم یافتہ لوگ بھی سمجھ سکیں، انہوں نے جدید اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کو اسلام کی تعلیم اور تربیت کی جانب متوجہ کیا، مسلمانوں کے اندر اتحاد پیدا کرنے کے لیے ایک امت کا تصور پیش کیا، ان کی کتاب خطبات نے ہر فرد کو متاثر کیا، اس سے اسلام کا شعور پیدا کرنے میں بڑی رہنمائی ملتی ہے، ہر مسلمان کو اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہئے۔ تقریب سے رانا وقار احمد ایڈووکیٹ، زاہد چوہدری ایڈووکیٹ، بیرسٹر رشید مرزا، محمد صادق کھوکھر، ساجدہ مدنی، اعجاز صدیقی نے خطاب کیا اور سید مودودی ؒ کی خدمات پر انہیں زبردست خراج تحسین پیش کہ ان کے مشن کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے، آج مسلمانوں کے اندر اتحاد کی ضرورت ہے اور دنیا میں امن اور انصاف کے لیے اسلامی نظام کی ضرورت ہے، تقریب میں علمائے کرام، مختلف سیاسی اور سماجی رہنما علامہ سرفراز مدنی، مفتی عبدالمجید ندیم، ڈاکٹر خرم بشیر، راجہ محمد اشتیاق، میاں مقبول احمد، خواجہ انعام الحق ، مولانا محمد سجاد، مولانا محمد ریاض،حافظ محمد ادریس، ڈاکٹر خرم بشیر، ڈاکٹر محمد خالد، افتخار جگنو، میاں اختر علی اور دیگر سرکردہ کمیونٹی رہنما بھی موجود تھے، تقریب کا آغاز مولانا محمد وقار کی تلاوت قران پاک سے کیا گیا، خواجہ محمد سلیمان نے نعت رسول ﷺ پیش کی، مولانا سعید الرحمان کی دعا سے تقریب کا اختتام ہوا۔