• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مسجد کی آمدنی کن ضروریات میں استعمال میں کی جاسکتی ہے؟

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال:۔ ہماری جامع مسجد ہے۔ مسجد کے تینوں اطراف مسجد کی جائیدادیں ہیں ، جن سے مسجد کو معقول آمدنی ہوتی ہے۔ مسجد کے نظم ونسق کے لیے ایک کمیٹی مقرر تھی، جس نے طویل عرصہ تک خدمت انجام دی،اب کچھ عرصہ پہلے کمیٹی کا نظم مجھ سمیت ، اہل محلہ اور معززین کو سپرد ہوا ہے۔ ہم دریافت یہ کرنا چاہتے ہیں کہ مسجد کی آمدنی تو ہے، مگر اسے کس ضرورت میں استعمال میں لایا جائے؟ تفصیل سے رہنمائی فرمادیں ؟ (عبدالقدیر)

جواب:۔ مسجد کی آمدنی مسجد کی ضروریات میں خرچ کی جائے گی اور مسجد کی ضروریات کی درجہ بندی شریعت نے اس طرح کی ہے کہ:۔

۱۔مسجد کے سلسلے میں سب سے پہلے اس کی ضروری تعمیر کو مقدم رکھا جائےگا،اگرچہ تمام آمدنی اس میں صر ف ہوجائے ،اگر چہ واقف کی شرط اس کے برخلاف ہو،اگر چہ دیگر ضروریات پر خرچ کے لیے کچھ نہ بچے۔

۲۔ضروری تعمیر کے بعد آمدنی مسجد کی ان ضروریات پر خرچ کی جائے گی، جن کی عدم تکمیل کی صورت میں مسجد کے ویران اورمعطل ہونے کا اندیشہ ہو، جیسے:۔

الف۔امام ،خطیب اورمؤذّن کی تنخواہ۔ب۔مسجد کے خدام جو صفائی کرتے، دریاں بچھاتے ،روشنی کا انتظام کرتے ہیں،چوکیدار وغیرہ۔ ج۔بجلی ،پانی کےاخراجات۔د۔مسجد کی غیر ضروری تعمیر جیسے رنگ وروغن ،پالش وغیرہ۔

۳۔الف :اگر مسجد کی آمدنی سے شق میں ۲ بیان کردہ تمام ضروریات پوری نہ ہوسکیں تو الأہم فالأہم کے قاعدے سے، پہلے امام ومؤذّن پر، پھر بجلی پانی کے اخراجات پر اور آخر میں غیر ضروری تعمیر مثلاً رنگ وروغن پر صرف کیا جائےگا،غرض پہلی ضرورت پہلے پوری کی جائےگی۔

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

masail@janggroup.com.pk