• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

٭وفاقی دارالحکومت کے سیاسی اور سرکاری حلقوں میں مشیر احتساب کی ’’پراسرار پسپائی ‘‘ کے حوالے سے کئی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ یار لوگوں کا کہنا ہے کہ ’’احتساب اکبر‘‘ کی ’’فرضی کارروائیوں‘‘ کے بارے میں اٹھنے والے ’’سوالات‘‘ نے انہیں ’’برائے نام‘‘ مشیر کے عہدہ تک محدود کردیا ہے؟ واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک طویل عرصہ سے کارپردازنِ حکومت کو اپنے ’’بلند بانگ دعوئوں‘‘ سے حیران کن حد تک متاثر کر رکھا تھا۔ اور وہ تین وفاقی محکموں میں براہ راست مداخلت کے ذریعے ’’تھری ان ون‘‘قرار دیئے جا رہے تھے۔ 

ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ’’براڈ شیٹ‘‘ کے معاملہ میں حکومت کوپڑنے والے بھاری نقصان نے ان کی ’’شعبدہ بازیوں‘‘ کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ احتساب کے مقدمات میں ’’خاطر خواہ نتائج‘‘ نہ ملنے کی وجہ سے بھی ان کی ’’مہارت‘‘ مشکوک ہوگئی ہے۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ حکومت کے ’’فیورٹ‘‘ قانونی ماہرین نے ان کی ’’نام نہاد‘‘ کارکردگی‘‘ کا راز فاش کر دیا ہے؟

وفاقی وزیر کی ایف آئی اے کو ہدایات؟

٭وفاقی دارالحکومت کے سیاسی اور سرکاری حلقوں میں ایک وفاقی وزیر کی طرف سے ایف آئی اے کے اعلیٰ حکام کو براہ راست ہدایات دینے کے حوالہ سے کئی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ یار لوگوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ وفاقی وزیر اپوزیشن لیڈر کے خاندان کے مقدمات سمیت مختلف محاذوں پر تابڑ توڑ حملوں کے ذریعے ’’جارحانہ انداز‘‘ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ گزشتہ دنوں ایف آئی اے کے ایک اہم عہدیدار کو اٹارنی جنرل آفس کے دو لاء افسران کے ذریعے مذکورہ وفاقی وزیر کی طرف سے خصوصی ہدایات دی گئی تھیں۔ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ وزارت داخلہ اور ایف آئی اے کے سربراہ کوبھی ان معاملات میں ’’بائی پاس‘‘ کیا جار ہا ہے۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر نے اپنے ’’قریبی دست راست‘‘ کو یہ ’’خصوصی ٹاسک‘‘ دینے کی اوپرسے منظور لے رکھی ہے؟

اعلیٰ بیوروکریٹ کے بارے میں تحفظات؟

٭صوبائی دارالحکومت کے سیاسی اور سرکاری حلقوں میں صوبے کے کئی افسران کی طرف سے ایک اعلیٰ بیوروکریٹ کے بارے میں پائے جانے والے شدید تحفظات کے حوالہ سے کئی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ یار لوگوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ اعلیٰ افسر ’’افسر شاہی‘‘ میں تبادلوں کے معاملات میں ’’خاصے اختیارات‘‘ رکھتے تھے۔ واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ انہیں بلوچستان سے لاکر صوبے میں ’’کلیدی عہدہ‘‘ پر لگایا گیا تھا اور انہوں نے اپنے ’’خاص افسران‘‘ کا ایک حلقہ بنا رکھاتھا۔ 

یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ ’’خفیہ اداروں‘‘ کی رپورٹ پر انہیں قریبی رشتہ دار ہونے کے باوجود وفاقی حکومت میں ایک غیر اہم عہدہ پر بھجوایاگیا تھا۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ جن افسران کو ان کی وجہ سے اہم عہدوں پر تعینات کیا گیا تھا وہ ان عہدوں سے فارغ ہونے کے بعد مذکورہ اعلیٰ بیورو کریٹ کے بارے میں شکایات لئے پھر رہے ہیں؟۔

تازہ ترین
تازہ ترین