• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

سندھ کی ترقی اور صوبائی حکومت مل کر کام کرنے پر آمادہ

ممکنہ طور پر سیاسی جماعتوں نے تسلیم کر لیا ہے کہ حکومت کی جتنی مدت بچی ہے اس میں آنے والے الیکشن کی تیاری کی جائے یہی وجہ ہے کہ ایک جانب سیاسی رہنما اور کارکن پارٹیاں تبدیل کر رہے ہیں اور بڑے پیمانے پر کارکنوں کی آنی جانیاں لگی ہوئی ہیں تو دوسری جانب بعض سیاسی جماعتیں لسانی بنیادوں پرووٹرز کی توجہ مبذول کرنے میں جت گئی ہیں وزیر اعظم عمران خان کے دورہ کراچی کے دوران پی ٹی آئی کو سندھ میں بڑا سیاسی بریک تھرو بھی مل گیا ہے جس کا پی ٹی آئی نے کئی برس سے انتظار کیا۔ 

گورنر ہاوس میں وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید غوث علی شاہ ، سابق وفاقی وزیر سید ظفر علی شاہ اور بیرسٹر مرتضی میسر نے پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کیا سید غو ث علی شاہ کی شمولیت سے ایک بات واضح ہو گئی ہے کہ آئندہ الیکشن میں پی ٹی آئی ،پی پی پی کو سندھ میں ٹف ٹائم دینے کا ارادہ رکھتی ہے جبکہ یہ بات بھی واضح ہے کہ سید غوث علی شاہ کی پی ٹی آئی میں شمولیت کے بعد سندھ کی مزید اہم سیاسی شخصیات بھی پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرےگی جس سے پی ٹی آئی سندھ میں بھی اپنے قدم مضبوطی سے جما سکتی ہے۔ 

تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ پی پی پی تاحاصل سندھ میں ایک بڑی سیاسی قوت ہے اور سیاسی میدان میں اسکا مقابلہ کرنا مشکل کام ہے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سید غوث علی شاہ کو پی ٹی آئی سندھ کا صدر بھی بنایا جا سکتا ہے یا پھر مرکز میں اسے اہم پارٹی عہدہ دیا جائے گا تو دوسری طرف گذشتہ ہفتے پی ٹی آئی کے گھوٹکی سے رکن اسمبلی شہر یار پی ٹی آئی سے منحرف ہو کر پی پی پی میں شامل ہو گئے اور انہوں نے سابق صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی آصف علی زرداری نے شہریار شر کو پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت پراعتماد کرنے پرخراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ آپ نے کٹھ پتلیوں کو آئینہ دکھایا ہے جبکہ مسلم لیگ فنگشنل کی رہنما مہتاب اکبر راشدی اور اکبر راشدی نے بھی پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیامہتاب اکبر راشدی فنگشنل لیگ کے رکن سندھ اسمبلی بھی رہی مہتاب اکبر راشدی کے شوہر اکبر راشدی پیر پگارا کے کزن ہیں۔ 

طویل عرصے بعد وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے سندھ میں ترقیاتی کاموں کا اعلان کرنا شروع کر دیا ہے ۔ پی ٹی آئی نے تین سال بعد کراچی کی حد تک مسائل حل کرنے کی جانب توجہ دی ہے چالیس بسوں کے بعد کراچی سرکلر ریلوئے کے منصوبے کا وزیر اعظم نے افتتاح کیااس منصوبے کیلئے نیا ریلوے ٹریک بچھایا جائے گایہ ٹرین بجلی سے چلنے والی تیز ترین ٹرین ہو گی ہر چھ منٹ بعد ایک ٹرین ایک اسٹیشن پر آئیگی اس سہولت سے روزانہ چار لاکھ مسافر سفر کر سکیں گےمنصوبہ کے بنیادی ڈھانچے پہ 20.7 ارب روپے خرچ ہونگے۔ 

یہ منصوبہ تین سال میں مکمل ہو گا افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ سندھ کی ترقی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومت کو مل کر کام کرنا ہو گا بنڈال جزیرے سے متعلق وزیر اعلی سندھ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں اس سے ملک میں سرمایہ کاری آئے گی جو سندھ اور پاکستان کے لیے بہتر ہیں تقریب میں گورنر اور وزیر اعلی سندھ کے علاوہ وفاقی وزرا نے بھی شرکت کی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کراچی سرکلر ریلوئے کا یہ منصوبہ نیا نہیں نواز شریف دور میں وزیر ریلوئے خواجہ سعد رفیق اس منصوبے کا افتتاح کر چکے ہیں کراچی کی جانب پی ٹی آئی نے توجہ دینی شروع کی ہے تاہم پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم تین برس گذر جانے کے باوجود اپنا ایک بھی مطالبہ پی ٹی آئی حکومت سے نہیں منوا سکی جبکہ پی ٹی آئی کے رہنما ہر سانحے پر متاثرین کے گھر پہنچ جاتے ہیں۔ 

گذشتہ ہفتے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما و سربراہ بیت المال سندھ جنید لاکھانی کا سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کی جانب سے مہران ٹائون کورنگی میں کیمیکل فیکٹری میں آتشزدگی کے واقعے میں جابحق ہونے والوں کے ورثاء کی کفالت اور امداد کے لیے فی کس چار لاکھ روپے کے چیک تقسیم کئے دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی ضلع ٹھٹھہ کے زیرِ اہتمام وفاقی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا گیادھرنے میں وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی و پاکستان پیپلز پارٹی ضلع ٹھٹھہ کے صدر صادق علی میمن سمیت مقامی رہنما و کارکنان بڑی تعداد میں شریک کی صادق میمن نے کہا کہ وفاقی حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث تین سال میں 30 لاکھ افراد بیروزگار ہوچکے ہیں۔ 

جبکہ کراچی میں مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کے تحت سو کے قریب مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے ہوئے مرکزی مظاہرہ مسجد بیت المکرم،گلشن اقبال کے سامنے ہوا جس سے امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کیااور کہاکہ آج ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی و بے روزگاری کے خلاف کراچی میں سینکڑوں مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے جارہے ہیں، حکمران جماعتیں مہنگائی و بے روزگاری کے خلاف خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں،اب مہنگائی کے خلاف تحریک کو آگے بڑھایا جائے گا اور اگلے ماہ اسلام آباد میں یوتھ مارچ کیا جائے گا۔ 

ادھر پختون کلچر ڈے کے موقع پر پختون ایس ایف کے زیر اہتمام ایک رنگا رنگ تقریب منعقد کی گئی جس میں پختون کلچر کو اجاگر کیا گیا اور شہر کے عمائدین کو روایتی پگڑیاں پہنائی گئی اس موقع پر سندھ کے صدر شاہی سید نے کہا کہ ہم امن پسند لوگ ہیں،ہماری غلط تصویر دنیا کو دکھائی جائی رہی ہے خطے کی موجودہ صورت حال انتہائی نازک ہے اس وقت امن ، محبت، پیار و محبت اور برداشت کے رویوں کی اشد ضرورت ہے۔ اس موقع پر پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی صدر انجینئر آصف خان نے بھی خطاب کیا۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید