• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پولیس ٹریننگ کالج اور ضلع سانگھڑ کے شہر چٹیاریوں میں ڈیم سے متصل معروف ترین بکار جھیل کے پاس سانگھڑ کی قدیم ترین تین صدیوں پرانی مسجدہے جو کلہوڑا حکم راں ،میاں نور محمد کلہوڑو کی ملکہ نے تعمیر کرائی تھی، جسے اسی کے نام سے موسوم کیا گیا، ’’مائی جاماں مسجد ‘‘کے نام سے مشہور ہے۔ اس دور میں اس کا شمار عالی شان مساجد میں کیا جاتا تھا لیکن محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث یہ زبوں حالی کا شکارہے اور اس کے آثارمعدوم ہوتے جا رہے ہیں۔ مؤرخین کے مطابق مائی جاماں ،میاں نور محمد کلہوڑو کی چہیتی ملکہ تھی اور اس کی رہائش شاہی قلعہ میں تھی، اس کے پاس کافی دولت تھی۔ 

نور محمد کلہوڑو سے شادی سے قبل وہ سندھ کے عظیم صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کی عقیدت مند تھی اوران کے دربار میں حاضر ہوکر ’ شاہ جو کلام ‘‘ انتہائی خوش الحانی سے پڑھا کرتی تھی۔ ایک موقع پر شاہ عبداللطیف بھٹائی نے مائی جاماں کے لئے دعا کی تھی کہ وہ ایک دن سندھ کی رانی بنے اس کے ہاں گلاب کے مانند پیارا سا شہزادہ پیدا ہو، جس سےشاہی خاندان کی نسل چلے ۔ ملکہ مائی جاماں کی خوبصورتی کے چرچے دور دور تک پھیلے ہوئے تھے۔ 

میاں نور محمد کلہوڑو نے مائی جاماں کی خوبصورتی کا تذکرہ سن کر اس سے شادی کرلی۔ تاریخی حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ مائی جاماں، سلطنت کے معاملات میں بھی دخیل تھی۔ اسے تعمیرات کا بہت شوق تھا۔اس نے سندھ کےکئی مقامات پر میٹھے پانی کے کنویں، مسافر خانے اور دیگر عمارتیں تعمیر کروائیں۔بنجر زمینوں کو کاشت کے قابل بنانے کےلیے نہریں بھی تعمیر کروائیں۔ ’’مائی جاماں مسجد‘‘ بھی اس کا تعمیر کرایا ہوا ایک خوب صورت شاہ کار ہے جو تین صدیاں گزرنے کے باوجود بھی موجود ہے۔ لوگ اسے’’ مائی جامع مسجد ‘‘کے نام سے بھی پکارتے ہیں۔