• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’سرنی کوٹ‘ بدھ مت کی قدیم یادگار، جسے ڈھائی ہزار سال قبل اشوک اعظم نے تعمیر کرایا تھا

’’سرنی کوٹ‘‘ سندھ کے خطے میں قدیم قلعہ ہے جو ضلع نوشہرو فیروز کی تحصیل مورو میں سرنی کوٹ نامی گائوں میں واقع ہے۔اگروادی سندھ کی سیر کی جائے تو شمالاً ، جنوباً ، ان گنت قدیم شہروں اور ان میں تعمیر کیے جانے والے قلعوں کے کھنڈرات ملیں گے۔ بہت سے قلعے آج بھی اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ دھرتی کے سینے پر ایستادہ ہیں جن میں رنی کوٹ کوٹ ڈیجی اور پکا قلعہ قابل ذکر ہیں جو سندھ کے شاندار ماضی کے گواہ ہیں۔ بہت سے کوٹ اور قلعے افتاد زمانہ ، موسمی تغیرات اور قدرتی آفات کی وجہ سے نیست و نابود ہوچکے ہیں۔ 

ان کی عظمت کا پتا صرف کھنڈرات کی صورت میں ملتا ہے یا سندھ کی تاریخی کتب میں ان کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ ا ن ہی میں سے سندھ کے ضلع نوشہروفیروز کی تحصیل مورو میں موجود ’’سرنی کوٹ ‘‘بھی شامل ہے، جو موجودہ سرنی کوٹ گائوں میں واقع ہے، اس وقت بہت ہی خستہ حالی کا شکار ہے، اس قدیم ترین کوٹ کا ’’ٹھل ‘‘ یا ’’اسٹوپا‘‘ بھی قصہ پارینہ بن چکا ہے۔ سرنی کوٹ ،بدھ مت کی قدیم یادگار ہے۔تقریباً ڈھائی ہزار سال قدیم یہ کوٹ موریہ خاندان کے فرماں روا اشوک اعظم یا اشوکا بادشاہ نے تعمیر کرایا تھا۔اشوک اعظم کا دور حکومت 232 سے 268 قبل مسیح تک رہا جو 36 سال کے عرصے پر محیط رہا لیکن اتنے مختصر دور میں اس نے بدھ مت کو پورے برصغیر میں پھیلایا جس میں سندھ کا خطہ بھی شامل ہے۔ 

سندھ کی تاریخ ’’جنت السندھ ‘‘ کے مصنف’’ رحیم داد خان مولائی شیدائی ‘‘کے مطابق اشوکا کےدور میں بدھ مت کےفروغ اور تعلیمات کے پرچار کے لیے کانفرنسوں کا انعقاد کیا جاتا تھا جس میں ہندوستان کے علاوہ سندھ کے بدھ مت کے روحانی پیشوا یعنی بدھ بھکشوبھی شرکت کرتے تھے۔ رائے اور برہمن خاندانوں کے دور میں بھی بدھ مت عروج پر رہا۔ سندھ کے ادیب محقق اور مؤرخ ،یم ایچ پہنور نے اپنی تاریخی تصنیف ’’السٹریٹیڈ ہسٹوریکل اطلس آف سومرا کنگڈم آف سندھ‘‘ میں تحریر کیا ہے کہ’’ بدھ مت 13 ویںصدی عیسوی تک سندھ میں موجود تھا۔ 

سرنی کوٹ کے جنوب میں سکرنڈ اور دولت پور صفن کے نزدیک ’’ٹھل میر رکن‘‘ کا یادگار مقام ہے، جس سے سرنی کوٹ کی قدامت کا ثبوت ملتا ہے‘‘۔’’ ٹیکسلا انسٹی ٹیوٹ آف ایشین سولائیزیشن‘‘ کے جریدے ’’جنرل آف ایشین سولائیزیشن 2002ء‘‘ کے شمارے 25 کےصفحہ 26 میں تحریر کیا گیا ہے کہ سرنی کوٹ ماضی کےکانسی کے دور میں وجود پانے والے ہڑپا اور موہن جو دڑو کی تہذیب کے پکی اینٹ اور کچی مٹی کی تعمیرات کی روایت کا تعمیراتی تسلسل ہے۔ اوپر دیے گئے جریدے کے حوالے، برطانوی محقق ،ہنری کزن نے 1929ء میں کی جانے والی اپنی تحقیق اور بخاری ایم فاطمہ کی2001ء میں تحریر کردہ تحقیقی مقالے میں شامل کیے گئے ہیں۔

سرنی کوٹ گائوں کی تعمیر کے وقت یہاں کے باسیوں نے قلعے کے کھنڈرات سے ملنے والی اشیاء اور نوادرات کو سنبھال کر رکھا ہے جو پشت ہا پشت سے محفوظ ہیں۔ ان میں مٹی اور کانسی سے بنائے گئے مجسمے، اور اس دور کی اینٹیں بھی شامل ہیں جن پر نامعلوم زبان میں تحریر بھی ہے جو ہزاروں سال قبل سندھ میں رائج زبانوں کی تحریر ہوسکتی ہے۔ 

اینٹوں پر تحریر کی ہوئی یہ عبارتیں، سندھ کے پہاڑوں میں پتھروں پر کندہ تحریرں سے ملتی جلتی ہیں۔ سرنی کوٹ کے آثار، موجودہ مورو تحصیل کے شہر نیو جتوئی کے مشرق میں 7 کلومیٹر ،جب کہ نیشنل ہائی وے کے سندھوجا اسٹاپ سے 5 کلومیٹر کے فاصلے پر سرنی کوٹ نامی گائوں میں موجود ہیں۔ 

اس کی دیواریں ،فصیل اور برجیاں منہدم ہونے سے محفوظ رہ گئی ہیں۔ یہ قلعہ ایک بلند مقام پر تعمیر کیا گیا تھا جو کوسوں دور سے بھی نظر آتا ہے۔ قدیم آثار کے بعض ماہرین اسے موریہ دور کے شاہی خاندان کی رہائش قراردیتے ہیں ۔، یہ قلعہ 3 ایکڑ، رقبے پر محیط ہے، جبکہ اس کی وسعت 7 ایکڑرقبے پر ہے۔ اس قلعے کی دیوار مشرق سے مغربی سمت میں 390 فٹ، جبکہ شمال اور جنوبی سمت 280 فٹ ہے جبک قلعی کی برج کی چوڑائی 70 فیٹ اور اونچائی 20 فٹ ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت پاکستان اسے قومی ورثہ قرار دے اور اسے مکمل طور سے نیست و ناوبود ہونے سے بچانےکے لیے اس کی ازسر نو تعمیر و مرمت کرائی جائے۔