• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رسول اللہﷺ کی اطاعت و محبت بندہ مومن کا سرمایہ ایمان

عمران احمد سلفی

ارشادِ ربّانی ہے: جن لوگوں نے اللہ اور رسول ﷺکی اطاعت کی، وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے، جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا یعنی نبیوں کے ساتھ اور صدیقین کے ساتھ ،شہیدوں کے ساتھ اور نیک لوگوں کے ساتھ ہوں گے اوریہ بہترین ساتھی ہیں۔ (سورۃالنسا ء) اس آیتِ کریمہ کاشان نزول یہ ہے کہ ایک صحابیؓ سرورِعالم ﷺکے پاس حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ،میں آپ ﷺ کو اپنی جان ومال اور اولاد سے زیادہ محبوب رکھتا ہوں ،جب گھر میں اپنے بال بچوں کے ساتھ ہوتا ہوں اور آپ ﷺ کو یاد کرتا ہوں تو جب تک آپ ﷺ کا رخ انور نہیں دیکھ لیتا، تو مجھے قرارنہیں آتا، میں اپنے بال بچوں کو چھوڑ کر آپ ﷺکے پاس دوڑاآتاہوں۔

آپ ﷺکو دیکھ کر تسلی ہو تی ہے اور دل کو قرارآجاتاہے ،تب میں واپس جاتا ہوں، لیکن جب میں اپنی اورآپ ﷺکی جدائی کو یاد کرتا ہوں تو میں جان لیتا ہوں کہ جب آپ ﷺجنت میں داخل ہوں گے تو آپ ﷺانبیاءؑ کے ساتھ عظیم درجات میں ہوں گے اور اگر میں جنت میں داخل ہوابھی تو میں نہ آپ ﷺکو دیکھ سکوں گا اورنہ آپ ﷺتک پہنچ سکوں گاتومجھے بڑی تکلیف ہوگی ۔

اس پر اللہ تعالیٰ نے اس آیتِ کریمہ کو نازل فرمایا کہ جواللہ کے رسول ﷺکی اطاعت وفرماںبرداری کرے گا، وہ جنت میں نبیوں کے ساتھ ہوگا۔ اطاعت سے محبت کو مشروط کرکے واضح کیاگیا کہ بغیر اطاعت وفرماں برداری، حُبِ رسول ﷺکسی کام نہیں آنے والی اور اطاعت وفرماں برداری بغیرمحبت ہو ہی نہیں سکتی۔ یہ حُبِ رسول ﷺکی فضیلت ہے کہ محب اگرمطیع ہوگا، توجنت میں بھی قرب رسول ﷺحاصل کر سکے گا۔ 

چناںچہ سیدنا انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک صحابیؓ خدمتِ اقدس ﷺمیں حاضر ہوکر عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ ﷺ،قیامت کب آئے گی؟آپ ﷺنے فرمایا ،قیامت کی تم نے کیا تیاری کررکھی ہے؟انہوں نے جواب دیا میں نے قیامت کے لیے زیادہ نماز، روزہ، صدقہ، خیرات کرکے تیاری تو نہیں کی ، لیکن اتنا ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺکے ساتھ محبت رکھتا ہوں، میرے پاس بس یہی محبت رسول ﷺ کا سرمایہ ہے-آپ ﷺنے فرمایا جس کے ساتھ تم محبت رکھو گے، اس کے ساتھ تم جنت میں جاؤگے۔(ترمذی)

قرآن مجید اور حدیث مبارکہ سے معلوم ہواکہ سچی محبت رسول اللہ ﷺنہ صرف جنت میں داخلے کا ذریعہ ہے، بلکہ سرورِ عالم ﷺکی دائمی رفاقت کے حصول کابھی سبب ہے، یقیناً اس شخص سے بڑھ کرکون خوش قسمت ہو سکتا ہے جسے جنت میں سیدالعالمین ﷺکی قربت حاصل ہوجائے۔ 'مسنداحمد میں ہے: رسول اللہ ﷺسے اس شخص کے بارے میں پوچھاگیا کہ جوایک قوم سے محبت رکھتا ہے، لیکن ان سے ملاقات نہیں ہوئی توآپ ﷺنے فرمایا ،ہرانسان اس کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت رکھتا ہو۔

خادم رسول ﷺسیدناانسؓفرماتےہیں کہ اللہ کی قسم، میری محبت جورسول اللہ ﷺکے ساتھ ہے اور سیدناابوبکرؓ، عمرفاروقؓ، کے ساتھ ہے ،مجھے اُمیدہے اللہ تعالیٰ مجھے ان ہی لوگوں کے ساتھ اٹھائے گا،گو میرے اعمال ان جیسے نہیں ہیں۔ ایک عربی شاعر نے کیا خوب کہا ہے: سچ ہے یہی محبت کا معیار اور کسوٹی ہے، حق اور ناحق کے لیے جنہیں اللہ اوررسول اللہ ﷺسے محبت ہے، وہی سچے مطیع وفرماںبردار ہیں،جواللہ اور رسول ﷺکے فرماں بردار نہیں ہیں ،وہ محبّ رسول ﷺنہیں ہیں۔

اسی طرح کسی نے کیاخوب کہا ہے : تم محمد ﷺکی نافرمانی کے باوجود محبت ظاہر کرتے ہو۔اللہ کی قسم، یہ تو زمانے میں عجیب بات ہے۔ اگر تمہیں اللہ کے رسول ﷺکے ساتھ سچی محبت ہوتی تو تم ان کی اطاعت وفرماں برداری کرتے، کیوں کہ دوست اپنے دوست کا کہا مانتا ہے۔ محبت ایک طبعی کشش کانام ہے جواپنے محبوب کی طرف کھینچ لے جاتی ہے، خواہ اس کے لیے کتنی ہی مصیبت برداشت کرنی پڑے۔

رسول اکرم ﷺکی محبت خویش واقارب،ماں باپ اور اولاد سے بھی زیادہ رکھنا ایمان کاجزوا عظم ہے۔ امام الانبیاء ﷺنے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا ،جب تک میں اس کے نزدیک اس کے ماں باپ، اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔(صحیح بخاری) اس لیے قرآن مجید نے رسول اکرم ﷺکی محبت کو ہرچیز کی محبت پرترجیح دی ہے۔

آج امت ِمسلمہ کی زبوں حالی کا سب سے اہم سبب یہی ہے کہ ہم نے اللہ اور اس کے رسول ﷺکی محبت کی بجائے دنیا کی محبت کو دلوں میں سما لیا ہے۔ صحابۂ کرام ؓ کی سرورِ عالم ﷺکے ساتھ محبت وعقیدت صحیح معنوں میں ہمارے لیے مشعل راہ ہے، وہ اپنے محبوب ترین پیغمبرﷺ سے سچی محبت رکھتے اورآپ ﷺ پر سب کچھ نثار کرنے پر خوشی محسوس کرتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو صحابہ کرامؓ کی طرح رسول اللہ ﷺ کی سچی محبت واطاعت اور فرماں برداری نصیب فرمائے۔ (آمین)