• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عالمی سیاسی منظر نامے میں پر یہ بات گردش کررہی ہے کہ اگلے چند برسوں میں دنیا دو بلاکس میں تقسیم ہونے جارہی ہے جس کے باعث بڑے تصادم کے خطرات بھی منڈلارہے ہیں، ایک بلاک میں امریکہ اور اس کے اتحادی اور دوسری جانب چین اور اس کے ساتھی ہوں گے۔ اس صورت حال میں سب سے اہم کردار پاکستان کا ہوگا جس نے اپنے اندورنی معاملات پر جس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ سب سے اہم تھی، خاصی حد تک قابو پالیا ہے مگر موجودہ حکومت کے آنے کے بعد پاکستان معاشی طور پر جس بحران سے دوچار ہوا، وہ پاکستان کے لئے خطرے کی علامت ہے۔ سی پیک منصوبے کی تکمیل کے بعد پاکستان معاشی اعتبار سے مضبوطی کی جانب گامز ن ہوگا، اس منصوبے کو وقت پر مکمل کرنے کے لئے ہماری حکومت کو سنجیدہ کوشش کرنا ہوگی۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ چین اس وقت پاکستان کا سب سے بہترین دوست ہے اور اس کی خواہش بھی ہے کہ پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک مستحکم اور مضبوط ملک کے طور پر سامنے آئے۔ چین چاہتا ہے کہ عالمی منظر نامے کی تبدیلی میں پاکستان تاریخی کردار ادا کرے، افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے طویل عرصے تک قابض رہنے کے بعد سامنے آنے والی ناکامی نے انہیں بوکھلاہٹ کا شکار کردیاہے۔ اسی لئے امریکی حکام نے پاکستان پر طالبان کی مدد کا الزام لگایا، درحقیقت یہ الزامات بھارتی سازش کا حصہ ہیں۔ امریکی صدر بائیڈن اور بھارتی وزیراعظم مودی کی حالیہ ملاقات کے بعد اس قسم کے الزامات کا سامنے آنا افسوس ناک عمل ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو بھارت پر اپنی مہربانیاں ختم کر کے حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ افغانستان میں امریکی شکست کا ذمے دار بھارت ہے جس نے دہشت گردوں کی پشت پناہی کی، القاعدہ، طالبان اور داعش پاکستان کی نہیں بلکہ امریکہ اور بھارت کی پیداوار ہیں، جنہوں نے ان تنظیموں کی ہر قسم کی فنڈنگ کر کے انہیں پروان چڑھایا اور وہ آج عالمی دنیا کے لئے پریشانی کا باعث ہیں۔ طالبان کی سوچ میں تبدیلی خوش آئند، دنیا کو پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مالی اور جانی قر بانیوں کا اعتراف کرنا ہوگا، اس کے بغیر حالات میں مثبت تبدیلی نہیں آسکے گی۔ دوسری جانب افغانستان کی موجودہ حکومت کو تسلیم کرنے میں تاخیر سے یہ ملک ایک بار پھر تنہائی کا شکار ہو جائے گا جس سے خطے میں قیامِ امن کے حوالے سے مشکلات جنم لیں گی۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو طالبان حکومت کو تسلیم کر کے ان کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے۔ روس اور چین کے سا تھ ساتھ مسلم ملکوں کو بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ موجودہ افغان صورت حا ل سے سب سے زیادہ پاکستان کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے، افغانستان میں ایک بار پھر بھارتی مداخلت بڑھ رہی ہے جس کا مقصد پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دینا ہے۔طالبان کو سخت فیصلوں سے گریز کرنا ہوگا جس سے نہ صرف اپنے ملک میں بلکہ عالمی دنیا کے سامنے بھی ان کی ساکھ خراب ہو۔ پاکستان میں اس وقت یک جہتی کی اشد ضرورت ہے، ذاتی مفادات پر ملکی مفاد کو ترجیح دینا ہوگا، پاکستان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان محاذ آرائی میں اضافہ ملک کے مفاد میں نہیں، اس کے خطرناک اثرات سامنے آئیں گے۔ دنیا کی تقسیم کا ممکنہ جائزہ لیا جائے تو چین آج دنیا کے زیادہ ترحصے میں اپنی سرمایہ کاری پھیلا چکا ہے اور مزید پھیلا رہا ہے خاص طور پر افریقہ، جنوبی امریکہ اور ایشیائی ممالک میں بیش تر سے تجارت اور سرمایہ کاری کے معاہدے کر چکا ہے جس سے ظاہر ہوتاہے کہ چین دنیا کی تجارت اور معیشت پر اپنا کنٹرول چاہتا ہے۔ امریکہ کو تشویش ہے کہ ان معاہدوں سےایک طرف امریکی تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے تو دوسری طرف چین نے امریکی کمپنیوں اور تحقیقی اداروں سے ٹیکنالوجی حاصل کرلی ہے۔ چین نےاپنی سرمایہ کاری اور تجارتی پالیسی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بحرہند اور افریقی ممالک میں فوجی اڈے تعمیر کر لئے ہیں، بحرالکاہل میں چین کا بہت بڑا جدید بحری اورفضائی اڈہ پہلے سے موجود ہے جسے وہ مصنوعی جزیروں کی تعمیر سے مزید وسیع کرتا جا رہا ہے۔ ظاہر ہے امریکہ کو چین کی ان پالیسیوں کی وجہ سے شدید تشویش ہے۔ بیشتر امریکی اور دیگر ملکوں کے سیاسی اور دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ دنیا خطرناک راستے پر چل پڑی ہے۔ دنیا کی دوبڑی قوتیں تصادم کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ اس ضمن میں امریکہ، جاپان، آسٹریلیا اور بھارت کے معاہدے نے یہ ثابت کردیا ہے کہ حالات کا رُخ اچھا نہیں، چین کے بلاک میں شمالی کوریا، پاکستان اور بعض افریقی اور جنوبی ایشیائی ممالک شامل ہیں۔ آج کل امریکی جھکاؤ بھارت کی جانب ہے، جس کی وجہ سےامریکہ اور پاکستان تعلقات میں کچھ سرد مہری ہے۔ پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرتے ہوئے اِس میں توازن قائم رکھنا چاہئے۔ موجودہ صورت حال پر چین کا موقف ہے کہ عالمی برادری کو کھلے ذہن کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ ایک دوسرے کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لئے دوری اختیار کرنے کے بجائے قریب آنے کی پالیسی اپنانا چاہئے، پچھلے چند ماہ میں دو بڑی طاقتوں میں کشیدگی اور گرما گرمی میں قدرے اضافہ ہوا، چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ ہم کسی کی ڈکٹیشن برداشت نہیں کریں گے، اگر کسی نے چین کو میلی آنکھ سے دیکھا تو ہم اس کی آنکھیں پھوڑ دیں گے۔ امریکہ کے سینئر سفارت کار وینڈی شرمن نے حال ہی میں چین کے وزیر خارجہ سے ملاقات کی ہے، اس اہم ملاقات میں دونوں بڑی طاقتوں کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے پر زور دیا گیا، امریکی وزیرخارجہ انتھونی بلنکن کا کہنا ہے کہ امریکہ کسی طور پر اپنی سلامتی اور معیشت پر حرف نہیں آنے دے گا، کوئی طاقت امریکہ کو دھمکا نہیں سکتی۔ اس کشیدگی اور افغان صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ دنیا کی تقسیم کہیں انسانی المیے میں تبدیل نہ ہو جائے اور ایک ایسی آگ نہ لگ جائے جس کو بجھانے میں پھر کئی برس لگ جائیں۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین