اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے حضرت عیسیٰؑ کی شان میں گستاخی کے الزامات مسترد کر دیے اور گزشتہ روز وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ حضرت عیسیٰؑ کی توہین کا ارادہ نہیں کیا تھا۔
نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ عیسائیوں کے بارے میں میرے مؤقف سے متعلق مزید جعلی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں، حالانکہ اسرائیل میں عیسائی محفوظ ہیں اور ترقی کر رہے ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ میں واضح کر دوں میں نے اپنی پریس کانفرنس میں حضرت عیسیٰ مسیح کی توہین نہیں کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلکہ میں نے عظیم امریکی مورخ ول ڈیورانٹ کا حوالہ دیا، جو حضرت عیسیٰؑ کے پرجوش مداح تھے۔ ڈیورانٹ کے مطابق محض اخلاقیات بقا کو یقینی بنانے کے لیے کافی نہیں ہوتیں۔
نیتن یاہو کے مطابق ایک اخلاقی طور پر برتر تہذیب بھی اگر اپنے دفاع کی قوت نہ رکھتی ہو تو ایک بے رحم دشمن کے ہاتھوں شکست کھا سکتی ہے۔ کسی کی دل آزاری مقصود نہیں تھی۔
واضح رہے کہ نیتن یاہو نے اپنے حالیہ خطاب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا موازنہ منگول حکمران چنگیز خان سے کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر کوئی بہت زیادہ مضبوط، بے رحم اور طاقتور ہو تو برائی اچھائی پر غالب آ سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ جارحیت اعتدال پر غالب آ جاتی ہے، لہٰذا آپ کے پاس کوئی اور راستہ نہیں رہتا، اور یہ بات بھی انہوں نے ڈیورانٹ کے حوالے سے بیان کی۔
اسی خطاب میں نیتن یاہو نے 28 فروری کو ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکا کی مشترکہ کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام نا صرف اسرائیل بلکہ پوری دنیا کو ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کے خطرے سے بچانے کے لیے ضروری تھا۔
ان کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آیا، خاص طور پر عیسائی حلقوں کی جانب سے، جنہوں نے حضرت عیسیٰؑ کا تقابل چنگیز خان سے کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔