• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیابھر میں ایک ارب انسانوں کو غذائی قلت کا سامنا

برلن ( نیوز ڈیسک) ورلڈ ہنَگر انڈکس کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت تقریبا ایک ارب انسانوں کو بھوک کے مسئلے کا سامنا ہے۔ گزشتہ برسوں میں عالمی سطح پر بھوک کا مسئلہ کچھ کم ہو گیا تھا ،تاہم اب اس میں دوبارہ شدت آتی جا رہی ہے۔عالمی سطح پر بھوک کے خاتمے کے لیے کوشاں جرمنی کی ایک غیر سرکاری تنظیم ویلٹ ہْنگر ہلفے کے رواں برس کے لیے جاری کردہ انڈکس کے مطابق اس وقت بین الاقوامی سطح پرکروڑوں انسانوں کو بھوک کا مسئلہ درپیش ہے، جن میں سے 4کروڑ کے لیے یہ صورت حال بحرانی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ ورلڈ ہنگر ہیلپ کے سیکرٹری جنرل ماتھیاس موگے نے جمعرات کے روز جرمن دارالحکومت برلن میں تنظیم کی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برسوں میں دنیا میں بھوک کے مسئلے میں کچھ کمی آئی تھی ،تاہم اب اس میں دوبارہ شدت آتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2020 میں زمین پر 811 ملین انسان ایسے تھے جنہیں مستقل بنیادوں پر بھوک اور کم خوراکی کا سامنا تھا۔دنیا میں پہلے کی طرح آج بھی سب سے زیادہ بھوک افریقامیں زیریں صحارا کے خطے کے ممالک اور جنوبی ایشیائی ریاستوں میں پائی جاتی ہے۔ کرہ ارض پر بھوک کے مسئلے کی موجودہ صورت حال تشویش ناک ہے اور اس کا فوری تدارک کیا جانا چاہیے۔ آج کی دنیا اتنی ترقی کر چکی ہے اور ٹیکنالوجی کی مدد سے یہ عین ممکن ہے کہ زمین پر تمام انسانوں کے لیے پیٹ بھر کر کھانے کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔
یورپ سے سے مزید