• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سانحہ کارساز کے شواہد فوری طور پر مٹادیے گئے تھے، مراد علی شاہ

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سانحہ کارساز کے شواہد فوری طور پر مٹادیے گئے تھے۔

کراچی کے باغ جناح میں میڈیا سے گفتگو میں مراد علی شاہ نے کہا کہ سانحہ 18 اکتوبر کے واقعے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لیے جو شواہد درکار تھے، وہ سانحے کے فوری بعد مٹا دیے گئے، جس کی وجہ سے تحقیقات مکمل نہیں ہوسکیں۔

انہوں نے کہا کہ سانحہ 18 اکتوبر کے شہیدوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، شہداء جمہوریت کا قافلہ آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کی قیادت میں اپنی منزل تک پہنچے گا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ عمران خان کے آنے سے آٹا مہنگا ہوگیا ہے، ہم قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سید مراد علی شاہ نے یہ بھی کہا کہ شہید بے نظیر بھٹو 18 اکتوبر 2007 کو جلا وطنی ختم کرکے وطن واپس آئیں، تو کراچی میں کارساز کے مقام پر دھماکے ہوئے، 180 کارکنان شہید اور 500 سے زائد زخمی ہوگئے۔

اُن کا کہنا تھا کہ شہید بی بی اگلے روز لواحقین کے گھر گئیں اور زخمیوں کی عیادت کی، آج کا جلسہ شہداء کارساز کی یاد میں منعقد کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آج ملک میں مہنگائی کا طوفان ہے، مہنگائی سے عوام تنگ آ گئے ہیں، عمران خان اور پی ٹی آئی نے عوام کو مہنگائی میں روند دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج 17 اکتوبر کو تبدیلی کا سفر شروع ہو رہا ہے، بلاول بھٹو عوام کے لیے نجات دہندہ ہیں۔

قومی خبریں سے مزید