• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عمران خان کا نواز شریف سے استعفے کا مطالبہ ٹھیک نہیں، 68 فیصد عوام کی رائے

چوون فیصد پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کی کارکردگی سے مطمئن ہیں ،50؍ فیصد پاناما لیکس سےمنسلک تمام پاکستانیوں سے تحقیقات کے خواہاں ہیں تاہم 48؍ فیصد کاوزیراعظم کے نام پر اصرار ہے ۔  پانامالیکس کی تحقیقات پر ٹرمز آف ریفرنس کیا ہوں گے ؟اس بارے میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تو اتفاق نہیں ہوسکا ۔ مگر عوام کی آراء اس بار ے میں کافی واضح ہیں ۔ جو کئی معاملات میں کسی حد تک اپوزیشن تو کسی حدتک حکومت کا ساتھ دیتےنظر آتے ہیں ۔

اس کا اندازہ گیلپ پاکستان کے ملک کے چاروں صوبوں میں کیے گئے سروے کو دیکھ کرلگایا جاسکتا ہے ۔ جو 30؍ مئی 2016ءسے 6؍ جون 2016ء کے درمیان کیا گیا اور اس میں 17سو سے زائد افراد نے حصہ لیا ۔ سروے میں عوام سے اپوزیشن کے اہم مطالبے پر سوال کیا گیا کہ کیا پاناما لیکس کی تحقیقات صرف وزیر اعظم نواز شریف سے ہونی چاہیے یا اس میں پاناما لیکس سے منسلک سب پاکستانیوں کو شامل کیا جانا چاہیے؟

جواب میں سروے میں شامل 48؍ فیصد افراد نے تو وزیر اعظم نواز شریف  سے تحقیقات کا آغاز کرنے کا کہا البتہ 50؍ فیصد نے پاناما لیکس سے منسلک تمام پاکستانیوں  کیخلاف تحقیقات کرنے کا کہا 2؍ فیصد نے اس سوا ل کا کوئی جواب نہیں دیا۔ جس کے بعد عوا م سے پوچھا گیا کہ آپ کےخیال میں پاناما لیکس میں کس پارٹی  سے منسلک افراد کی سب سے زیادہ آف شور کمپنیز منظر عام پر آئیں؟

جواب میں 42؍ فیصد افراد نے مسلم لیگ نواز کا نام لیا، 18؍ فیصد نے پاکستان پیپلز پارٹی ، 15؍ فیصد نے پاکستان تحریک انصاف، 8؍ فیصد نے متحدہ قومی موومنٹ اور پاکستان مسلم لیگ ق جبکہ 2؍ فیصد نے متحدہ مجلس عمل کا نام لیا۔ 7؍ فیصد نے کہا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں جانتے ۔

سروے میں عوام سے اس بارے میں رائے دینے کو کہا گیا کہ عمران خان چونکہ خود آف شور کمپنی کے مالک ہیں اس لیے کیا وزیراعظم نواز شریف سے ان کا  استعفیٰ مانگنا ٹھیک ہے یا نہیں ؟ جواب میں 68؍ فیصد نے اس بارے میں کہا کہ عمران خان کا وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ ٹھیک نہیں جبکہ 29؍ فیصد نے کہا کہ ان کا مطالبہ درست ہے۔ 3؍ فیصد نے اس بارے میں کوئی رائے نہیں دی۔

سروے میں عمران خان کے اس مؤقف پر بھی رائے مانگی گئی کہ جس کے مطابق چونکہ وہ برطانوی شہری نہیں تھے اس لیے ٹیکس بچانے کےلیے  وہ آف شور کمپنی قائم کرسکتے تھے؟ جواب میں 62؍ فیصد افراد نے عمران خان کے آف شور کمپنی رکھنے کےاس  موقف کو غلط کہا جبکہ 36؍ فیصد نے ان کے اس مؤقف کو درست کہا۔2؍ فیصد نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔ سروے میں عوام سےاس رائے پر بھی اظہارخیال کرنے کو کہا گیا کہ کہ کچھ لوگوں کے مطابق چونکہ کئی ممالک میں آف شور کمپنی بنانا قانونی ہے اس لیے ان کمپنیز کے  پاکستانی مالکوں کو ملک میں سزائیں نہیں دی جانی چاہئیں؟

جواب میں 76؍ فیصد افراد نے آف شور کمپنیز کے پاکستانی مالکان کو ملک میں سزائیں دینے کی حمایت کی جبکہ 21؍ فیصد نے کہا سزائیں نہیں دی جانی چاہئیں۔3 فیصد نے اس سوا ل کا کوئی جواب نہیں دیا۔ سروے میں عوام سے وزیر اعظم نواز شریف کی کارکردگی پر بھی سوال کیا گیا  اور  پوچھا گیا کہ کیا آپ وزیر اعظم نواز شریف کی کارکردگی سے مطمئن ہیں؟ جس کے جواب میں سروے میں شامل 31؍ فیصد افراد نے کہا کہ وہ وزیراعظم کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں جبکہ54؍ فیصد افراد وزیراعظم کی  کارکردگی  سے مطمئن نظر آئے ، 15؍ فیصد کا کہنا تھا کہ نہ تو وہ وزیراعظم کی کارکردگی سے مطمئن ہیں نہ غیر مطمئن۔

سروے میں عوام سے یہ بھی پوچھا گیا کہ آپ کے خیال میں پاکستان کے لیے جمہوریت بہتر ہے یا آمریت ؟ جواب میں 84؍ فیصد افراد نے پاکستان کے لیے جمہوریت کو بہتر قرار دیا جبکہ 16 فیصد نے آمریت کی حمایت کی۔ اسی سروے میں عوام سے پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیر ترین پر لگائے گئے الزامات پر بھی سوال کیا گیا اور پوچھا گیا کہ آپ کے خیال میں جہانگیر ترین کے بینکوں سے قرضے معاف کروانے کے پاکستان مسلم لیگ نواز کے الزامات میں کتنی حقیقت ہے؟

جواب میں 38؍ فیصد افراد نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان الزامات میں کافی حقیقت ہے جبکہ 40؍ فیصد نے کہا کہ ان کے خیال میں ان الزام میں کسی حد تک حقیقت ہے۔ البتہ سروے میں 19؍ فیصد افراد کا کہنا تھا کہ پی ایم ایل نواز کے ان  الزامات میں بالکل حقیقت نہیں۔3؍ فیصد نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔

سروے میں عوام سے مزید پوچھا گیا کہ اگر پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیر ترین پر یہ الزامات صحیح ہیں تو کیا ان کی تحقیقات ہونی چاہیے؟ جواب میں 92؍ فیصد نے ان الزامات کی تحقیقات کرانے پر زور دیاجبکہ 8؍ فیصد نے اس اختلاف کیا۔
تازہ ترین