سینیٹ کی خزانہ کمیٹی نے وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کو طلب کرلیا

June 22, 2024

فائل فوٹو

سینیٹ کی خزانہ کمیٹی نے وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کو طلب کرلیا۔

سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرِ صدارت سینیٹ کی خزانہ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔

اجلاس میں فاروق نائیک نے کہا کہ کمیٹی اپنی سفارشات مکمل کرنے جارہی ہے، وزیر خزانہ کو یہاں ہونا چاہیے۔

چیئرمین قائمہ کمیٹی نے کہا کہ ہم وزیر خزانہ کے لیے کمیٹی کا اجلاس دوبارہ بلا لیں گے جس پر فاروق نائیک بولے کہ یہ کوئی بات نہیں ہم وزیر خزانہ سے ملنے کے لیے 5 بجے دوبارہ آئیں، وزیر خزانہ کو ابھی بلایا جائے۔

اجلاس میں سینیٹر انوشہ رحمٰن نے کہا کہ کیا قبر پر بھی ٹیکس لگایا جا رہا ہے۔

اس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ابھی آئی ایم ایف کو اس کا پتہ نہیں، کراچی میں قبر کھودنے والے گورکن پر بھی ٹیکس لگنا چاہیے۔

فاروق ایچ نائیک کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے دباؤ پر ہر چیز پر ہی ٹیکس لگایا جا رہا ہے۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ وہ وقت بھی دور نہیں جب قبر پر بھی ٹیکس لگے گا۔

سینیٹر اخونزادہ چٹان نے سینیٹ کی خزانہ کمیٹی میں تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ فاٹا و پاٹا میں ٹیکس چھوٹ کا غلط استعمال ہوتا ہے، ایف بی آر فاٹا و پاٹا کے لیے ٹیکس چھوٹ کی مخالفت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان علاقوں کو انڈسٹری دیں تاکہ سرمایہ دار ترقی کریں، فاٹا و پاٹا کے لیے چار سے 5 سالہ پلان ہونا چاہیے۔

چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ٹیکس چھوٹ کا فائدہ فاٹا کو نہیں ہوتا، فاٹا کو ٹیکس چھوٹ کا فائدہ صرف چند لوگوں کو ہوتا ہے۔

سینیٹر اخونزادہ چٹان کا کہنا ہے کہ وہاں اسٹیل میں ٹیکس چھوٹ کا غلط استعمال ہوتا ہے، فاٹا میں ان پٹ پر 6 فیصد کے بجائے 3 فیصد ٹیکس کر دیا جائے۔

سینیٹر انوشہ رحمٰن نے ایف بی آر کے حکام سے سوال کیا کہ کھلے دودھ کا کیا ریٹ ہے۔

ایف بی آر کےحکام نے کہا کہ ہم نے کبھی کھلا دودھ نہیں خریدا۔

جس پر سینیٹر انوشہ رحمٰن نے کہا کہ اس وقت مرغی کا ریٹ کیا ہے، بازار جایا کریں، دودھ اور مرغی خریدا کریں، آپ یہ چیزیں خریدیں گے تو آپ میں ہمدردی پیدا ہو گی، جب آپ بھی یہ چیزیں نہیں خرید سکیں گے تب آپ کو احساس ہوگا۔