خدیجہ مستور اور ہاجرہ مسرور، افسانہ نگار بہنیں

September 02, 2018
 

شارلٹ،ایملی،اینی انگریزی ادب میں ’’برانٹی سسٹرز‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ انیس ویں صدی میں برطانیہ میں پیدا ہونے والی یہ بہنیں، ادب اور شاعری کے حوالے سے امتیازی حیثیت کی حامل رہیں۔ اُن کی تحریروں نے ادب کے شائقین کو اُن کا گرویدہ بنا دیا تھا۔ یوں تو تینوں ہی کی کسی نہ کسی تخلیق کو سراہا گیا، تاہم شارلٹ کے ناول ’’Jane Eyre ‘‘کو بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی اور وہ اپنے زمانے (1847 ء) کا ’’بیسٹ سیلر‘‘ناول بھی قرار پایا۔ لگ بھگ یہی کچھ اُردو ادب کی دو بہنوں کے ساتھ بھی ہوا کہ جنہوں نے ایک ہی وقت میں اور ایک ہی صنف میں اظہارِ خیال بھی کیا اور یک ساں شہرت بھی پائی۔ اگرچہ، اُن دونوں سے بڑی ایک بہن اور بھی تھیں اور وہ افسانے بھی تحریر کرتی تھیں۔ یہی نہیں، اُن کی کہانیوں کا ایک مجموعہ بھی سامنے آیا، جو’’گردِ سفر‘‘ کے نام سے شایع ہوا۔ یہ تین بہنیں، عائشہ جمال، خدیجہ مستور اور ہاجرہ مسرور ہیں۔ اگرچہ ،خدیجہ اور ہاجرہ اس ضمن میں اپنی بڑی بہن، عائشہ جمال سے یوں بہت آگے بڑھ گئیں کہ ادبی دنیا عمومی طور پر ان دونوں بہنوں ہی سے واقف رہی اور صحیح معنوں میں یہی دوبہنیں ،اپنی شناخت اور انفرادیت بھی قائم کر پائیں۔ خدیجہ مستور، 12 دسمبر 1927 ء کو، جب کہ ہاجرہ مسرور، 17 جنوری 1930 ء کو پیدا ہوئیں۔ جائے پیدائش غیر منقسم ہندوستان کی ریاست، یوپی کا تہذیب و تمدّن سے آراستہ و پیراستہ شہر،لکھنؤ تھا۔ گھر کی فضا علمی و ادبی تھی۔ والدہ، انور جہاں بیگم تقسیمِ ہند سے قبل نکلنے والے خواتین کے پرچوں کی مضمون نگار تھیں، جن میں نمایاں ترین’’عصمت‘‘ تھا۔ والد، تہوّر احمد خاں سرکاری ملازم تھے۔ ملازمتی تبادلوں کے باعث یوپی کے چھوٹے، چھوٹے اضلاع میں تعیّناتی ایک کارِ معمول تھا۔ یوں اُن جگہوں پر سرکاری افسر ہونے کے باعث بہت آؤ بھگت کی جاتی تھی۔ شریف اور خوددار تھے، اس لیے لوگوں کے دِلوں میں عزّت بھی بے پناہ تھی۔ تن خواہ بہت زیادہ نہ تھی، تاہم معقول گزر بسر کے لیے کافی تھی۔ اچھی اور عُمدہ کتابوں کے رسیا تھے۔ دنیا جہان کی کتابیں اور رسالے گھرمیں موجود تھے۔یہ تھی گھر کی فضا۔ یوں گھر میں بچّوں کی چہکار کے ساتھ، علم و ادب کی پکار بھی صاف سُنائی دیتی تھی۔ گویا کہا جا سکتا ہے کہ ماں اور باپ، دونوں ہی کی علم اور ادب سے چاہت بیٹیوں میں ڈھل آئی۔ عائشہ، خدیجہ، ہاجرہ، توصیف۔ بہنیں اور بھائی۔

خدیجہ اور ہاجرہ کی طبیعتوں میں بہت فرق تھا۔ بچپن میں خدیجہ کو وہ سارے شوق بھاتے، جو لڑکوں کے تھے۔ مثلاً لڑنا جھگڑنا، دنگا فساد کرنا، درختوں پر چڑھنا، بھینسوں کے ساتھ تیرنا، گلّی ڈنڈا کھیلنا اور بھی نہ جانے کون کون سے شوق۔ اور یہ سارے کھیل بھی جن بچّوں کے ساتھ مل کر کھیلے جاتے، اُنہیں اُس زمانے کے لحاظ سے’’نیچ‘‘ کہہ کر پکارا جاتا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ خدیجہ کی ایک رشتے کی پھوپی، خدیجہ کی حرکتوں کی بِنا پر کہا کرتیں کہ ’’ولیوں کے گھر میں ایک بھوت پیدا ہو گیا ہے‘‘،مگر ان باتوں کی پروا کسے تھی۔ زبان ایسے فرّاٹے سے چلتی کہ ہم عُمر بچّے خدیجہ کو ’’قینچی‘‘ کہہ کر چِڑاتے۔ خدیجہ کی پٹائی بھی ہوتی اور وہ خُوب روتی دھوتی بھی، تاہم اگلے دن پھر وہی سب کچھ شروع ہو جاتا۔ ابتدائی تعلیم کے لیے بہنوں کو قرآنِ پاک، فارسی اور اُردو کا نصاب پڑھانے مختلف اوقات میں استاد صاحبان گھر پر آتے۔ پڑھائی کے ساتھ یہ سب شرارتیں بھی جاری رہتیں۔ جب خدیجہ آٹھ برس کی ہوئی، تو کلامِ پاک بھی ختم کر لیا۔ یہی نہیں، سنجیدگی کا لبادہ اوڑھے بچّوں کو کلامِ پاک پڑھانا بھی شروع کر دیا، تاہم اسے تَرک بھی جلد ہی کر دیا اور اس کی وجہ، پڑھنے والے بچّوں کی عدم دل چسپی اور اوّل درجے کی کُند ذہنی تھی۔

ہاجرہ ہرمعاملے میں خدیجہ کی ضد تھی۔ ملنے جُلنے والوں میں’’کم سُخن ‘‘ مشہور تھیں۔ ہر اُس کھیل سے بھاگتی، جس میں شور شرابا ہو یاجسمانی اٹھا پٹک۔ حد یہ کہ گڑیوں تک سے دل چسپی نہ تھی، جو کہ اُس عُمر میں شاید ہر لڑکی کو ہوا کرتی ہے۔ ہاں، ہاجرہ کو چھوٹے، چھوٹے گھروندے بنانے سے یک گونہ اُلفت ضرور تھی۔گو ،یہی شوق اوّل اوّل خدیجہ کو بھی ہوا، تاہم جلد ہی گھروندے بنانے سے گویا نفرت سی ہو گئی۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی رہی تھی کہ خدیجہ جب بھی کوئی گھروندا بناتی، کوئی نہ کوئی شریر بچّہ اُسے توڑ دیتا۔ ہاجرہ کے بچپن کا ایک واقعہ یوں بھی بیان کیا جاتا ہے کہ سب سے بڑی بہن عائشہ نے ایک دن گھر کے باقی بچّوں کو جمع کیا اور بچّوں ہی کے ایک رسالے میں شایع ہونے والی کہانی ’’سنڈریلا‘‘ سُنائی۔ یہ کہانی سب کو اتنی پسند آئی کہ بڑی بہن سے دو، دو تین، تین مرتبہ سُنی گئی۔ ہاجرہ کو تو اتنی پسند آئی کہ اُس نے بڑی بہن سے چوتھی مرتبہ بھی سُنانے کی فرمائش کی، مگر عائشہ نے ہاجرہ کو ڈانٹتے ہوئے کہا کہ’’ اس سے زیادہ نہیں سُنا سکتی۔ جب بڑی ہو جاؤ، تو خود پڑھ لینا۔‘‘یہ بات شاید ہاجرہ نے گِرہ میں باندھ لی اور اُس کے چھوٹے سے ذہن نے سوچا کہ نہ صرف خود کہانی پڑھوں گی ،بلکہ لکھوں گی بھی۔

باپ کا بھی یہ حکم تھا کہ بچّیوں کو پہلے تعلیم سے آراستہ کیا جائے اور اُس کے بعد گھر گرہستی سِکھائی جائے۔ یوں بھی گھریلو کاموں کے لیے ملازمین موجود تھے۔ ماں، باپ بچّوں کی تربیت پر دھیان دیتے۔ اسی کے ساتھ اچھا کھانا اور سادہ کپڑے پہنانا گویا گھر کا شعار تھا۔ البتہ تہواروں پر بچّوں کو ریشمی کپڑے بھی پہنائے جاتے، تاہم اس تاکید کے ساتھ کہ اچھائی سادگی میں ہے۔ خدیجہ نے اپنے ماں، باپ کی زبان سے لفظ ’’پلاٹ‘‘ نہ صرف سُن رکھا تھا، بلکہ اُس کے معنی بھی معلوم کر لیے تھے اور سارے گھر میں اِتراتی پِھرتی کہ ’’میرے ذہن میں کہانیوں کے بہت سارے پلاٹ ہیں۔‘‘باقی گھر والے ہنستے، تاہم والد نے اُس کے شوق کو مدّ ِ نظر رکھتے ہوئے اُس سے کہا کہ’’ کہانی کہتی رہو۔‘‘ 1936 ء کے آس پاس لکھنؤ میں’’ پرستان ‘‘ نامی تھیٹر کمپنی آئی۔ باپ نے اپنے ایک دوست سے کہا کہ عائشہ، خدیجہ اور ہاجرہ کو لکھنؤ لے جاؤ تاکہ بچّے خوش ہو جائیں۔ اُس زمانے میں شوکت تھانوی کا افسانہ’’سودیشی ریل ‘‘پورے ہندوستان میں دھوم مچائے ہوئے تھا اور خدیجہ اور ہاجرہ کے گھر پر بھی اُس کا چرچا تھا۔ اتفاق سے شوکت تھانوی بھی وہیں موجود تھے، یوں بچّوں کی اُن سے ملاقات ہوئی۔ بے تاب اور پارہ صفت خدیجہ نے اُنہیں اپنے’’پلاٹوں‘‘ کے بارے میں بتایا۔ شوکت تھانوی نے معصومانہ خواہش سُننے کے بعد بچّی کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ’’ تم ایک دن ضرور لکھو گی۔‘‘غرض، ایک ہنستے مُسکراتے گھرانے کی یہ زندگی سے بھرپور سرگرمیاں جاری تھیں اور اُن سے لُطف لیا جا رہا تھا کہ اچانک تہّور احمد خاں محض اڑتیس برس کی عُمر میں انتقال کر گئے۔ یہ دسمبر 1937 ء تھا۔ گھرانے کے لیے زمانے کی گردش گویا رُک سی گئی۔ وقت ایک ایسے موڑ پر لے آیا کہ زندگی جو ذرا پہلے سُہانا خواب دِکھائی دے رہی تھی، بھیانک عذاب کی شکل اختیار کر گئی۔ خوشی و شادکامی کے ساتھ بسر ہونے والی زندگی، یتیمی میں ڈھل گئی۔ باپ کی شکل میں دنیا کا سب سے بڑا سہارا اور زندگی کی تمازت میں شفقت کی گھنی چھاؤں فراہم کرنے والا مضبوط ترین ستون، زمیں بوس ہو گیا۔ گھر کا شیرازہ بکھر کر رہ گیا۔ جب باپ کا سایہ سَر سے اٹھ گیا، تو خانوادے کو ایک بار پھر لکھنؤ کا رُخ کرنا پڑا۔ تاہم اب زندگی کا طور طریقہ وہ نہ رہا، جو باپ کی حیات میں تھا۔ خانوادے کا واحد مَرد، پانچ برس کا توصیف تھا۔ اب زندگی امتحان بن کر سامنے آئی۔ اگر اولاد کے لیے یہ امتحان سخت تھا، تو ایک بیوہ ماں کے لیے شاید سخت ترین۔ آس پاس موجود عزیز اور رشتے دار ایسے میں زخموں پر مرہم تو کیا رکھتے، خود زخم بن گئے۔ اس بے یار و مددگار خانوادے کی جمع پونجی کو ہڑپ کر لیا گیا۔ یتیم بچّے، باپ کے دستِ شفقت سے کیا محروم ہوئے، گویا راحتوں اور خوشیوں ہی سے محروم ہو گئے۔ چھوٹے سے گلشن میں بہار کا موسم آیا ہی تھا کہ خزاں نے ڈیر ے جما لیے۔ بیوہ ماں کے پاس اب دو ہی راستے تھے۔ مقدّر کے دُکھوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیتیں یا مَردانہ وار اپنے معصوم بچّوں کی خوشیوں کے حصول کی اعصاب شکن جنگ کا آغاز کر دیتیں۔بالآخر ماں نے عزمِ صمیم کے ساتھ نئی زندگی کے آغاز کا فیصلہ کیا۔ ایک ایسا فیصلہ، جس میں آنے والی زندگی کے ہر ہر دن میں صدیوں کا کرب پوشیدہ تھا۔ اب بچّوں کی خاطر ماں کو باپ کا کردار بھی ادا کرنا تھا۔ جو خوشیاں بچّوں سے روٹھ گئی تھیں، وہ بھی واپس لانا تھیں۔ ایسے میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ لکھنؤ میں باپ کے گھر رہا جائے، یوں بچّے اپنے نانا کے گھر آ گئے، جو باپ کے انتقال کے بعد محفوظ ترین پناہ گاہ تھی۔

نانا کے گھر جو لوگ موجود تھے، اُنہوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ نانا کے بعد سب سے زیادہ پیار اکلوتے ماموں نے دیا، جو بچّوں کے ’’ماموں میاں‘‘ تھے۔ یہ اس نسبت سے تھا کہ والدہ ’’باجی امّاں‘‘ اور والد ’’ابّا میاں ‘‘کہے جاتے تھے۔ ان ہستیوں کے علاوہ، بچّوں کے سوتیلے والد، مولانا مصطفیٰ خاں مدّاحؔ تھے، جوادبی دنیا میں’’احمقؔ پھپھوندوی ‘‘ کے نام سے جانے جاتے تھے۔ اکبرؔ کے رنگِ سُخن میں شعر کہتے۔ ہر کسی سے انکساری سے ملنا، شُستہ و شائستہ مذاقِ سُخن اختیار کرنا شعار تھا۔ احسنؔ مارہروی سے شرفِ تلمّذ رکھنے والے احمقؔ پھپھوندوی کے یوں تو بہت سے اشعار مشہور تھے، تاہم کسی وقت میں اس شعر کا بہت چرچا تھا۔؎ ’’ اہلِ عالم کی نظر میں جو گدھا ہوتا ہے…دورِ انگریز میں شمس العلماء ہوتا ہے ۔‘‘ ‘‘اُن کا ایک اور شعر بھی اپنے تخلّص کی نسبت سے کافی مشہور ہوا تھا،’’ ادب نوازیٔ اہل ِ ادب معاذ اللہ…مشاعروں میں اب احمق ؔبلائے جاتے ہیں۔‘‘(نوّے کی دہائی کے اوّلین برس، جب ہاجرہ مسرور کے افسانوں کی کُلیات ’’سب افسانے میرے ‘‘شایع ہوئی، تو ہاجرہ نے اُن احسانات کا تذکرہ اپنے قلبی احساسات کی صُورت کچھ یوں کیا’’محترم مولانا محمّد مصطفیٰ خاں مدّاح مرحوم اور محترمہ کبریٰ بیگم صاحبہ مرحومہ کے نام، جنہوں نے ہماری تپتی ہوئی یتیمی کی دھوپ پر اپنے مہربان وجود کا ٹھنڈا سایہ ڈالا اور جن کے کردار کی عظمت کے نقوش میرے ذہن میں کبھی نہ دھندلا سکیں گے)۔سوتیلی ماں، سوتیلے بھائی اور منہ بولے نانا بھی غم گُساری اور دِل داری کے لیے موجود تھے۔ ماموں میاں کے دَم سے گھر کا خرچ چلتا تھا۔ کبھی جب وقت پر پیسے نہ ملتے تو ایک بڑا کُنبہ ،جس میں اب یتیم بچّوں کی فوج آباد تھی، فاقوں کا سامنا کرتا۔ نانا کا لکھنؤ میں جہاں مکان تھا، وہاں والد کے’’پیر بابا‘‘ کا مزار بھی تھا۔ ایک بار ماموں میاں کے پیسے آنے میں دیر ہوئی، تو چھوٹے بچّے توصیف نے بابا میاں کے مزار پر رکھے گُلگلے اٹھا لیے اور اُنہیں کھانا ہی چاہتا تھا کہ باجی امّاں نے روک دیا کہ یہ محتاجوں اور مسکینوں کے لیے رکھے جاتے ہیں۔ ماموں میاں کا ایثار دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ اپنی بیوہ بہن اور معصوم بھانجیوں اور بھانجے کے لیے اُنہوں نے بیس برس سے بھی کم عُمر میں پردیس کا سفر اختیار کیا کہ وہاں سے زیادہ پیسے کما کرگھر بھیجے جا سکتے تھے۔ ایسا ہوا بھی، تاہم ایک ہی سال کے اندر پردیس میں آنتوں کی بیماری لاحق ہوئی اور جب وہ وطن واپس لَوٹے، تو وہی بیماری اوڑھ کر ہمیشہ کی نیند سو رہے۔

رفتہ رفتہ زندگی معمول پر آنا شروع ہوئی۔ دوسری عالم گیر جنگ نے پوری دنیا کو اپنے نرغے میں لیا ہوا تھا۔ ایسے میں سِسکتا، بلکتا اور تڑپتا ہندوستان کیوں نہ متاثّر ہوتا۔ زمانہ اس حد تک پُرآشوب تھا اور شورش پسندی کی طرف مائل تھا کہ کم سِن بچّے تک وقت سے پہلے شعور کی دہلیز پر قدم رکھتے دِکھائی دیتے تھے۔ سیاسی، سماجی اور ادبی اُفق پر ایک سے ایک ستارہ جگمگا رہا تھا۔ سیاسی میدان میں مسلم لیگ اور کانگریس ایک دوسرے سے نبرد آزما تھیں۔ سماجی سطح پر غیر منقسم ہندوستان میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں، جب کہ شعری فضا میں جوشؔ ملیح آبادی کی ہنگامہ خیز نظمیں سب کے دِلوں میں آزادی کی اُمنگ کو جوان سے جوان تر بنا رہی تھیں۔ بیس ویں صدی آتے آتے خواتین کی سرگرمیاں، انیس ویں صدی کے مقابلے میں بیس گُنا بڑھ چکی تھیں۔

قسمت کی خوبی کہ ہاجرہ اور خدیجہ دونوں کی قلم سے نسبت کا آغاز ایک ہی دن ہوا۔1940-41 ء کا زمانہ تھا۔ گھٹائیں اُمڈ اُمڈ کر آرہی تھیں۔ اور پھر یکایک مینہ برسنے لگا۔ ایسے میں خدیجہ نے ہاجرہ سے کہا کہ یہ موسم احساسات کے اظہار کا ہے۔ آؤ، ہم بھی کچھ لکھیں۔ سو، گیت لکھنے کی مشق سے ابتدا کی، مگر بات نہ بنی۔ اگرچہ خدیجہ اس سے پیش تر بھی بچّوں کے لیے چھوٹے، چھوٹے گیت لکھنے کی کوشش کر چکی تھی کہ جس میں جزوی کام یابی بھی حاصل ہوئی تھی۔ تاہم اُس کوشش کو جاری رکھنے کی کوئی خاص تحریک بیدار نہ ہو سکی۔ اس مرتبہ بھی خدیجہ نے یہی کہا کہ شاعری تو نہیں ہو سکتی، افسانہ لکھ کر دیکھتے ہیں۔ ہاجرہ نے پہلے تو پس و پیش کیا، تاہم بہن کی ہمّت افزائی کے بعد تیار ہو گئی اور دونوں بہنوں نے ایک دوسرے سے منہ موڑ کر لکھنا شروع کیا۔ ہاجرہ نے اپنے ذہن کی پوری قوّت کو کام میں لاتے ہوئے نیلگوں آسمان کی وسعتوں، اُن وسعتوں میں پرواز کرنے والے اور نظروں کو بھلے لگنے والے سفید کبوتروں اور بادلوں میں اُڑنے والی رنگین پتنگوں کی کہانی سُناتے سُناتے ایک سوال کیا کہ کیا ان خُوب صُورت مناظر میں سیاہی بھرتے ہوئے اور پورے منظر نامے کو بھیانک رُوپ دیتے ہوئے اور تباہی پھیلاتے ہوئے سَروں پر پرواز کرنے والے موت کے جہازوں کو روکنے والا کوئی نہیں ہے؟ پرچے کے مُدیر کو اُس زمانے کے عین مطابق لکھی گئی ایک معصومانہ تحریر نے بے حد متاثر کیا اور یوں یہ تحریر شایع ہو گئی۔ پھر تو دونوں بہنوں کی خوشی کا پوچھنا کیا۔یہ گویا ایک سفر کا آغاز تھا۔ ماں باپ کی تربیت اور گھر کی ادبی فضا کے باعث حرف سے آشنائی اور قلم سے شناسائی تو تھی ہی، طبیعت کی خودساختہ تحریک کے باعث محض چند دن کے اندر مزید دو باقاعدہ افسانے بھی سامنے آ ہی گئے۔ خدیجہ کا افسانہ’’صہبا‘‘ اور ہاجرہ کا ’’لاوارث لاش‘‘۔ دونوں بہنوں کو ایک دوسرے کے افسانے سُن کر ایک سرشاری کی سی کیفیت طاری رہی۔ پھر طے کیا گیا کہ دلّی میں مقیم ایک ادبی حیثیت کے مالک عزیز کو یہ افسانے بھیجے جائیں، تاکہ وہ اُن کی اشاعت کا بندوبست کریں۔ مذکورہ عزیز نے افسانے پڑھنے کے بعد ایک خط میں دونوں بہنوں کو نصیحت کی کہ’’ پردے دار اور شریف گھرانوں کی مسلمان بیٹیوں کو اس قسم کی باتیں زیب نہیں دیتیں۔‘‘ ماں آڑے آئیں اور بیٹیوں سے کہا کہ اپنا شوق جاری رکھو۔1942 ء کی ابتدا تھی۔ خدیجہ نے اپنا افسانہ کسی پرچے میں شایع ہونے بھیجا۔ افسانہ تو شایع نہ ہو سکا، تاہم خدیجہ کے نام وہ پرچہ بھیج دیا گیا۔ اُس کی بھی خدیجہ کو ایسی سرشاری رہی کہ پورے دن بھوک پیاس سے بے نیاز پرچے کو اپنے ہاتھ میں پکڑے رہی۔اگلا افسانہ ایک زنانہ پرچے میں بھیجا گیا، جو عورتوں کے پردے کے حق میں تھا۔ افسانہ شایع بھی ہو گیا۔ یہ وہ وقت تھا کہ افسانے کی وسیع دنیا میں عِصمت چغتائی، مَردوں کے تسلّط جمائے ہندوستانی معاشرے پر اپنی شخصیت کی چھاپ قائم کرتی نظر آ رہی تھیں۔ گو اُن سے قبل بھی ادبی دنیا میں خواتین افسانہ نگار اور شاعر اپنے نام اور کام سے ہندوستانی سماج کی توجّہ اپنی طرف مبذول کروا چکی تھیں، مگر عصمت چغتائی نے تو گویا میدان ہی مار لیا تھا۔یوں مختلف رجحان ساز خواتین قلم کاروں کی موجودگی میں اپنی تحریروں کے ذریعے اپنی شناخت بنانا، ایک کارِ دشوار سے ہرگز کم نہ تھا۔ تاہم، خدیجہ اور ہاجرہ نے اُس کار ِ دشوار کو ’’جذبۂ کارِ مسلسل ‘‘ کی مہارت سے جاری رکھا۔ برّصغیر کے مشہور پرچے’’ساقی‘‘ میں ہاجرہ کا افسانہ ’’بندر کا گھاؤ‘‘ شایع ہوا۔ بہت سے حلقوں میں اس کی تحسین ہوئی۔ احمد ندیم قاسمی’’پھول‘‘ اور ’’تہذیبِ نسواں‘‘ جیسے وقیع پرچوں کی ادارت کے بعد اُن دنوں’’ادبِ لطیف‘‘ کے مُدیر تھے۔ اُنہوں نے جب یہ افسانہ پڑھا، تو ہاجرہ کو خط لکھا اور فرمائش کی کہ ’’ادبِ لطیف ‘‘ کے لیے بھی کوئی افسانہ بھیجیں۔ چناں چہ خدیجہ اور ہاجرہ نے اُنہیں اپنے افسانے بھیجے اور یوں اُن کی احمد ندیم قاسمی سے ہونے والی شناسائی بڑھتے بڑھتے گہری قُربت میں تبدیل ہو گئی، ایسی قُربت جس میں بھائی، بہنوں کا سا پیار تھا۔ اب دونوں بہنوں کے قدم افسانے کی دنیا میں برق رفتاری سے آگے بڑھنے لگے۔

1944 ء کا سال تھا، جب ہاجرہ کے افسانوں کا پہلا مجموعہ،’’چرکے‘‘ شایع ہوا۔ اب خدیجہ اور ہاجرہ کو اپنی تحریروں سے کچھ نہ کچھ آمدنی بھی ہونے لگی تھی۔ اگرچہ یہ زیادہ نہ تھی، پھر بھی کچھ نہ ہونے سے، کچھ ہونا بہت بہتر تھا۔ اب صُورت یہ تھی کہ کفایت کے ساتھ، کفالت بھی کرنا تھی، چناں چہ یہ سلسلہ جاری رہا۔ رفتہ رفتہ حاصل ہونے والی نام وَری کچھ نہ کچھ مالی آسودگی عطا کرنے کی منزل پر آ گئی۔ اسی زمانے میں ہندوستان کے شعری اُفق پر ساحرؔ لدھیانوی کا پہلا مجموعۂ کلام ’’ تلخیاں‘‘ منظرِ عام پر آ چکا تھا۔ اکثر شعر لوگوں کی زبان پر چڑھ چکے تھے۔؎’’تنگ آ چکے ہیں کش مکشِ زندگی سے ہم…ٹھکرا نہ دیں جہاں کو، کہیں بیدلی سے ہم‘‘،’’ ابھی نہ چھیڑ محبّت کے گیت اے مُطرب…ابھی حیات کا ماحول خوش گوار نہیں۔‘‘’’ آشنائیاں کیا، کیا‘‘ میں ممتاز ترقّی پسند ادیب، حمید اختر نے تحریر کیا ہے کہ’’ جب 1946 ء میں ساحر اور ہاجرہ کی شادی کا معاملہ چل رہا تھا، تو اُس وقت ہاجرہ کی شہرت، ساحر کے مقابلے میں بہت زیادہ تھی۔‘‘ ہاجرہ نے حمید اختر کی فلم،’’آزادی کی راہ پر‘‘ کے لیے ساحر، ابراہیم جلیس اور حمید اختر کے ساتھ مل کر اُس کے مکالمے بھی لکھے تھے۔ 1946ء کا سال آیا۔ برّصغیر کی دو بڑی سیاسی جماعتیں وقت کے سب سے بڑے سیاسی معرکے میں ایک دوسرے کے مقابل آئیں۔ کانگریس اور مسلم لیگ دونوں کی خواہش تھی کہ ہندوستان سے انگریزوں کو نکالا جائے۔ دونوں سیاسی جماعتیں سمجھتی تھیں کہ انگریز اُن کے وطن کی دولت کو نہ صرف دونوں ہاتھوں سے لُوٹ رہے ہیں، بلکہ ہندوستانیوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ بھی توڑے جا رہے ہیں۔ دونوں جماعتیں سیاسی جدوجہد کی طویل تاریخ بھی رکھتی تھیں۔ یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مقصد دونوں کا ایک، مگر حکمتِ عملی مختلف تھی۔ بہر حال، اس معرکے کا آغاز ہوا۔ مسلم لیگ نے ان انتخابات میں فقید المثال کام یابی حاصل کی۔ انتخابات میں دونوں بہنوں نے مسلم لیگ کی رضاکار کے طور پر انتخابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا۔1947 ء کا تاریخی سال ہندوستان کے نقشے کو ہمیشہ کے لیے بدل دینے کا سال ثابت ہوا۔ ایک نئی مملکت کا قیام عمل میں آیا۔ قائدِ اعظم، محمّد علی جناح جو پوری تحریک ِ آزادی کے کارواں میں میرِ کارواں کی حیثیت رکھتے تھے، مملکتِ خداداد، پاکستان میں گورنر جنرل کے طور پر زمامِ کار سنبھالنے کے بعد نئی مملکت کو سامنے آنے والے مشکل ترین مسائل کے حل میں شب و روز منہمک ہو گئے۔ پاکستان کی جانب ہجرت کرنے والوں کے قافلے پہ قافلے چلے آتے تھے۔ اُن ہی لوگوں میں خدیجہ اور ہاجرہ کے اہلِ خانہ بھی تھے، جو لکھنؤ کو خیرباد کہہ کر نئی مملکت، پاکستان میں اس اُمید کے ساتھ داخل ہوئے کہ شاید وہاں معاشی حالات بہتر ہو جائیں۔ لکھنؤ سے ساحلی اور تجارتی شہر، بمبئی(اب ممبئی)تا کراچی، جو اُس نئی مملکت کا اوّلین دارالحکومت تھا اور پھر وہاں سے تاریخی شہر، لاہور کا رُخ کیا۔

1940ء کی تصویر: (اوپر) منور جہاں، پہلی قطار میں بائیں طرف سے عائشہ، خدیجہ، ہاجرہ، دوسری قطار میں طاہرہ، عابدہ، شاہدہ

ہندوستان میں اوّل خوش و خرّم اور ثانیاً نشیب و فراز سے پُر زندگی گزار کر پاکستان چلے آنا، کوئی معمولی فیصلہ نہیں تھا۔ دونوں بہنوں کے لیے ہندوستان میں ادبی فضا سازگار تھی۔ اُن کے نام مقبولیت کی صف میں جگہ پا چکے تھے۔ ملنے جُلنے والوں کا حلقہ وسیع تر ہو چلا تھا، تاہم، ایک چیز غیر واضح تھی اور وہ تھے، وہاں کے سیاسی حالات۔ پاکستان بننے کے بعد وہاں مسلمانوں کے لیے بہت سے مقامات پر جگہ تنگ ہو چکی تھی۔ یوں ان تمام عوامل کو پیشِ نظر رکھنے کے بعد ہندوستان سے ترکِ وطن کرنے اور پاکستان کی طرف کوچ کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔

پاکستان میں قدم رکھتے ہی خوش قسمتی سے مشہور افسانہ نگار اور شاعر، احمد ندیم قاسمی کی اخلاقی اور قلمی معاونت میسّر آئی۔ اُن دنوں احمد ندیم قاسمی نسبت روڈ،لاہور میں سکونت گزیں تھے۔ اُنہوں نے دریا دلی، فیّاضی، ایثار اور مہمان نوازی کا بھرپور ثبوت دیتے ہوئے اپنے گھر کے دروازے دونوں بہنوں اور اُن کے اہلِ خانہ کے لیے اپنے دِل کی طرح کشادہ کر دیے۔ احمد ندیم قاسمی لاہور کی ادبی فضا پر سکّۂ رائج الوقت کی طرح راج کر رہے تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ جس کی بِنا پر دونوں بہنوں کو لاہور میں مضبوطی سے قدم جمانے میں کوئی خاص دشورای پیش نہیں آئی۔ لاہور میں تقسیمِ ہند کی وجہ سے مہاجرین کی مسلسل آمد کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ اسی کے ساتھ، اُس عہد کے قد آور شاعر اور ادیب بھی وہاں موجود تھے۔ تقسیم کے ہنگامے، تباہ کاری، آگ و خون کی ہولی شاعروں، ادیبوں اور نقّادوں کا پسندیدہ موضوع تھا، سو، ادبی و شعری و افسانوی دنیا میں یہی موضوع مسلسل لکھا، پڑھا اور گفتگو میں لایا جا رہا تھا۔ احمد ندیم قاسمی سے دونوں بہنوں کے مراسم تقسیمِ ہند سے پہلے ہی قائم ہو چکے تھے۔ اُن کی رہنمائی میں ترقّی پسند تحریک کے لیے بھی کام کرنا شروع کیا، جس کی وجہ سے جلد ہی حکومت کی نظر میں آ کر معتوب قرار پائیں۔ کچھ وقت بعد اُنہوں نے احمد ندیم قاسمی کی معیت میں مشہور ادبی جریدے،’’نقوش‘‘ میں ادارتی فرائض بھی انجام دیے۔

پاکستان آنے کے بعد، دونوں بہنوں نے قلم سے اپنا رشتہ مزید مستحکم کیا اور پے در پے اپنی تخلیقات سے اہلِ ادب کو نوازا۔ خدیجہ مستور کا پہلا ناول، ’’آنگن‘‘ 1962 ء میں سامنے آیا۔ تقسیمِ ہند کے موضوع پر لکھا گیا یہ ناول، بہت مشہور ہوا۔ وحید اختر نے’’سخن گسترانہ بات‘‘ میں ’’آنگن‘‘ پر گفتگو کرتے ہوئے تحریر کیا ہے’’خدیجہ مستور کا آنگن، اس لیے کام یاب ہے کہ اُنہوں نے کوئی بڑا مطالعہ طلب موضوع چُننے کے بجائے، اپنے تجربات کی محدود دنیا ہی کو موضوع بنایا اور اس لحاظ سے آنگن اُردو کے کام یاب ترین ناولوں میں سے ایک ہے۔‘‘خدیجہ مستور کا ایک اور ناول، ’’زمین‘‘(1987ء)بھی ہے۔ اس کے علاوہ، افسانوی مجموعے’’بوچھار‘‘،’’چند روز اور‘‘،’’تھکے ہارے‘‘،وغیرہ شامل ہیں۔ ہاجرہ کے افسانے ’’تیسری منزل‘‘، ’’اندھیرے اجالے‘‘، ’’چرکے‘‘، ’’چوری چُھپے‘‘،’’چاند کے دوسری طرف‘‘،’’ہائے اللہ ‘‘شامل ہیں۔ ہاجرہ کے افسانوں پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے ممتاز نقّاد، وقار عظیم اپنی کتاب’’نیا افسانہ ‘‘ میں یوں گویا ہوتے ہیں’’ہاجرہ کو فنی نقطۂ نظر سے ضروری اور غیر ضروری اور اہم اور غیر اہم میں پوری طرح فرق کرنا آتا ہے۔ اس لیے ان کے واقعات میں افسانوں کی ترتیب پوری طرح سوچی سمجھی ہوئی ہونے کے باوجود، تصنّع کے بوجھ سے خالی ہوتی ہے اور ہر چیز بڑی دھیمی اور موزوں رفتار سے چل کر اپنی منزل پر پہنچتی ہے۔‘‘خدیجہ اور ہاجرہ دونوں ہی نے ادبی دنیا میں اپنے نقشِ قدم ایسے ثبت کیے کہ آج بھی اُردو ادب میں ناولز اور افسانوں کی تاریخ اُن کے تذکرے کے بغیر ادھوری سمجھی جائے گی۔ قُراۃ العین حیدر نے ’’کارِ جہاں دراز ہے‘‘ میں تحریر کیا ہے’’ترقّی پسند تحریک کے آغاز میں عصمت آپا کے بعد دو نام ڈنکے کی چوٹ پر سامنے آئے۔ وہ ہاجرہ اور خدیجہ مستور کے تھے۔ اُن کے علاوہ، صدیقہ بیگم سہواری اور تسنیم سلیم چھتاری نے بھی لکھا۔ ممتاز شیریں نے چند طویل افسانے قلم بند کیے، لیکن اُن کا اصل میدان تنقید تھا۔ خدیجہ اور ہاجرہ نیچرل رائٹر(فطری لکھاری) تھیں۔ اُن کے یہاں آورد کے بجائے، آمد ہی آمد تھی اور ان کے افسانے اُردو کی افسانوی ادب میں اہم اضافہ ثابت ہوئے۔‘‘

دونوں بہنوں سے بڑی اور سات بہنوں میں سب سے بڑی بہن، عائشہ جمال تھیں۔ اُنہوں نے خود بھی افسانے تحریر کیے اور’’گردِ سفر‘‘ کے عنوان سے اُنہیں کتابی شکل بھی عطا کی، تاہم خدیجہ اور ہاجرہ کی شہرت کے سامنے اُن کا ادبی چراغ پورے طور پر روشن نہ ہو سکا۔ عائشہ جمال کی پہلی شادی تقسیمِ ہند سے قبل کے گلوکار، جی ایم درّانی سے ہوئی، جو بمبئی فلم انڈسٹری سے بہ طور میوزک ڈائریکٹر وابستہ تھے۔ ایک بیٹی ہوئی، جس کا نام، صبوحی تھا۔ دوسری شادی مسٹر رحمان سے ہوئی، جن سے ایک بیٹی، عکسی رحمان تھیں۔خدیجہ مستور کی شادی، ظہیر بابر سے انجام پائی۔ ظہیر بابر، مشہور افسانہ نگار اور شاعر، احمد ندیم قاسمی کے بھانجے ہونے کے علاوہ، ایک ممتاز صحافی بھی تھے۔ اُن کے دو بچّے تھے۔ بیٹے کا نام، پرویز بابر تھا، جو پی آئی اے میں ملازم تھے۔ اب حیات نہیں ہیں۔ بیٹی، کرن بابر تھیں۔ پی ٹی وی میں سیٹ ڈیزائنر تھیں۔ یہ بھی حیات نہیں ہیں۔ہاجرہ مسرور کی شادی مشہور صحافی، احمد علی خاں سے ہوئی، جو اُن دنوں ’’پاکستان ٹائمز‘‘ سے وابستہ تھے۔ احمد علی خاں کا شمار انگریزی صحافت کے درخشندہ ترین ستاروں میں کیا جا سکتا ہے۔ معاصر انگریزی اخبار، روزنامہ’’ڈان ‘‘ کی وقعت اور توقیری میں احمد علی خاں صاحب کا کلیدی حصّہ ہے۔ اُنہیں اخبار کے سب سے زیادہ مدّت تک مدیر رہنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ اُن کی دو بیٹیاں ہیں۔ ڈاکٹر نوید احمد طاہر تعلیمی میدان میں نمایاں مقام کی حامل ہیں۔ ڈائریکٹر ایریا اسٹڈی سینٹر فار یورپ، یونی ورسٹی آف کراچی سے ریٹائر ہوئیں۔ ڈاکٹر نوید احمد طاہر نے اپنے نام وَر باپ، احمد علی خاں کی انگریزی زبان میں تحریر کی گئی خود نوشت ’’In Search of Sense :My Years as a Journalist ‘‘ کو یوں پایۂ تکمیل تک پہنچایا کہ کتاب کے سات ابواب مکمّل ہوئے ہی تھے کہ احمد علی خاں انتقال کر گئے۔ یوں اگلے دو ابواب ڈاکٹر نوید احمد طاہر نے مکمّل کیے۔ خدیجہ اور ہاجرہ کے سلسلے میں کسی بھی درکار معلومات کو متعلقہ شخص تک پہنچانے کا مشکل کام ڈاکٹر نوید احمد طاہر بہت خوش اُسلوبی سے انجام دیتی ہیں۔ اُن کے شوہر، طاہر سعید نجی ادارے سے ایک اعلیٰ عُہدے دار کے طور پر ریٹائر ہوئے۔ ہاجرہ مسرور کی چھوٹی بیٹی، نوشین احمد اپنے شوہر طارق احسن کے ساتھ کینیڈا میں سکونت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ہاجرہ مسرور سے چھوٹی بہن، طاہرہ عابدی تھیں۔ طاہرہ کے شوہر، حسن عابدی تقسیمِ ہند سے قبل ترقّی پسند تحریک کے سرگرم کارکن رہے تھے۔ مزدور تحریکوں سے بھی دِلی ہم دردی رہی۔ جون پور، یوپی،انڈیا میں1929 ء میں پیدا ہوئے۔ اعظم گڑھ اور الٰہ آباد میں تعلیم پائی۔ نام وَر ادیبوں، شاعروں، صحافیوں اور دانشوروں کو قریب سے دیکھا اور اُن سے اکتساب کیا۔1948 ء میں ترکِ وطن کر کے پاکستان آ گئے۔ یہاں سیّد سجّاد ظہیر کا اس حد تک اعتماد حاصل رہا کہ جب ’’راول پنڈی سازش کیس‘‘ میں اوّل اوّل سیّد سجّاد ظہیر کی گرفتاری کے احکام آئے تو وہ زیرِ زمین تھے اور کئی دن تک پولیس کی نظروں سے اوجھل رہے۔ اُن کے بارے میں صرف حسن عابدی کو علم تھا، سو اُنہیں پولیس نے اٹھا لیا اور ہر ممکن طریقے سے سجّاد ظہیر کا پتا معلوم کرتی رہی، تاہم حسن عابدی نے اقرار نہ کیا۔ پاکستان بننے کے بعد، پہلے عشرے میں ترقّی پسند تحریک سے پُرجوش وابستگی رہی۔1955 ء میں روزنامہ’’آفاق‘‘ سے صحافتی سفر شروع کیا۔ اس کے بعد، ’’لیل و نہار‘‘ میں کام کیا، جہاں فیض احمد فیضؔ اور سیدّسبطِ حسن کی رفاقت میسّر آئی۔

کراچی آنے کے بعد بھی مختلف اخبارات سے وابستہ رہے، مگر طویل ترین وابستگی معاصر انگریزی اخبار، روزنامہ ’’ڈان‘‘ سے رہی، جہاں اُن کے تحریر کیے جانے والے ادبی کالم اور تبصرے توجّہ سے پڑھے جاتے رہے۔ ’’نوشتِ نَے‘‘ (1995ء)، ’’جریدہ‘‘ (1998ء)، ’’فرار ہونا حرف کا‘‘(2004 ء) اُن کی تخلیقات ہیں۔ اُن کی یادداشتوں پر مبنی کتاب،’’جُنوں میں جتنی بھی گزری‘‘ ایک پورے ہنگامہ خیز عہد کی داستان ہے۔ اس کتاب کو ممتاز دانش وَر، ڈاکٹر سیّد جعفر احمد نے گفتگو کی صُورت مرتّب کیا ہے۔ قید و بند کی صعوبت کے دَوران کہا گیا اُن کا ایک شعر بے حد مشہور ہوا۔اِک عجب بُوئے نَفَس آتی ہے دیواروں سے…ہائے زنداں میں بھی کیا لوگ تھے ہم سے پہلے۔ حسن عابدی 2005 ء میں انتقال کر گئے۔ طاہرہ عابدی اور حسن عابدی کے تین بچّوں میں سے نبیلہ عابدی انتقال کر چکی ہیں۔ ایک بیٹا، طاہر عابدی اور بیٹی، ارم ہیں۔طاہرہ عابدی سے چھوٹے بھائی، توصیف احمد خاں تھے، جو انتقال کر چکے ہیں۔اُن کے چار بچّے ہیں۔ بیٹی، نویرہ خان سماجی حوالے سے بہت متحرّک رہی ہیں اور ہیومن رائٹس کے سلسلے میں فعال کردار ادا کیا ہے۔بیٹے، سرمد خان دبئی کے ایک اخبار سے وابستہ ہیں اور معاشی تجزیہ کار کی حیثیت سے شہرت کے حامل ہیں۔ اس کے بعد بیٹی، سمیرہ اور بیٹا منصور ہیں،جو زندگی کی گہما گہمی میں مصروف ہیں۔شاہدہ خیری کی شادی حبیب وہاب الخیری ایڈووکیٹ سے ہوئی۔

وہاب الخیری، پاکستان کی عدالتی تاریخ کے چند دِل چسپ کیسز کے متحرّک کردار بھی رہے ہیں۔ شاہدہ خیری اور وہاب الخیری کی اولاد میں بیٹا، اویس خیری اور بیٹی، سارہ خیری شامل ہیں۔ سارہ اِن دنوں دبئی میں ہیں۔شاہدہ خیری سے چھوٹی بہن، عابدہ تھیں، جو پندرہ برس کی عُمر میں انتقال کر گئیں۔بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے، خالد احمد تھے، جن کی شادی ربانہ سے انجام پائی۔ ان کی اولاد میں بیٹی، ندا اور بیٹے، جاہد احمد اور نمر احمد شامل ہیں۔ خالد احمد کی وجۂ شہرت شاعری تھی۔ واپڈا میں پبلک ریلیشنگ آفیسر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔


مکمل خبر پڑھیں