Advertisement

عبادت اور سخاوت کے پیکر

September 10, 2019
 

آپ کی ذات گرامی فضائلِ اخلاق کا مجموعہ تھی، آپ بہت بڑے عبادت گزار، روزہ دار، بکثرت حج کرنے و الے تھے، پاپیادہ متعدد مرتبہ حج بیت اللہ کی سعادت پائی، ایک مرتبہ ایک فقیر مدینے کی گلیوں میں پھرتا پھراتا آپ کے درِدولت پرآپہنچا۔ اس گھڑی آپ محوِ نماز تھے، سائل کی پکار سنتے ہی نماز ختم کرکے باہر آئے، اسی وقت خادم سے پوچھا، ہمارے اخراجات میں سے کچھ باقی رہ گیاہے؟ خادم نے عرض کیا، آپ نے دوسو درہم اہلِ بیتؓ میں تقسیم کےلیے دیے تھے ،وہ ابھی تقسیم نہیں کیے گئے ہیں۔ فرمایا، وہ سب درہم لے آئو، اہل بیت ؓسے زیادہ ایک حق دار آگیا ہے، چناںچہ دو سو درہم کی تھیلی اس کے حوالے کردی، ساتھ ہی معذرت کی کہ اس وقت ہمارے ہاتھ خالی ہیں، اس لیے اس سے زیادہ خدمت سے قاصر ہیں۔(ابن عساکر)


مکمل خبر پڑھیں