Advertisement

سود کا لین دین: عقل کی نظر میں

October 14, 2019
 

مفتی شیخ نعمان

شریعہ ڈپارٹمنٹ، بینک اسلامی پاکستان

سود یعنی ’ربا‘ ایک ایسا عذاب ہے کہ اگر کسی شخص نے ایک لاکھ روپے قرض لیا ہے اور وہ شخص مجبوریوں کی وجہ سے ایک لاکھ روپے ، جسے اصل زر کہتے ہیں، ادا نہ کرسکےتو ساری عمر سود ادا کرتا رہے گا، چاہے وہ 10گنا یا پھر 100گنا سود ہی کیوں نہ ادا کردے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ سود کی صورت میں مجبوری سے اُٹھایا جاتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے سود یعنی ’ربا‘ کو حرام قرار دیا ہے۔

اسلام کے احکامات عقل کے مطابق ہیں۔اور مختلف حکمتیں ہر حکم میں موجود ہیں۔ان حکمتوں پر کسی چیز کے حلال یا حرام ہونے کا دارومدار تو نہیں لیکن بعض اوقات حکمتوں کے معلوم ہونے سے عمل میں آسانی ہوجاتی ہے۔

ایک مسلمان معاشرے میں رہنے کے باوجود، ہماری آبادی کا ایک بڑا حصہ سودی معاملات سے خود کو الگ نہیں رکھ پاتا۔ ایسے افراد سے گفتگوکا موقع ملتا ہے، جو خود سودی معاملات کرتے ہیں۔یہ حضرات بعض اوقات اصولی طور پر سود کی خرابیوں کو مانتے ہیں لیکن ساتھ ہی کچھ شبہات بھی پیش کرتے ہیں۔ جس سے بعض اوقات ہم پریشان ہوجاتے ہیں کہ شبہات تو صحیح ہیں لیکن جواب کیا ہو؟

وہ کہتے ہیں کہ، ’’میرے پاس گھر ہے، میں اسے کرائے پر دیتا ہوںاور اس کا کرایہ لیتاہوں یہ جائز ہے۔ لیکن میں اپنا پیسا کسی کو دیتا ہوں وہ اسے استعمال کرتا ہے۔اب میں اگر اس کا کرایہ مانگوں تو اسے سود کہا جاتا ہے۔

اسے ناجائز کہا جاتا ہے۔کیوں؟جب میں اپنے گھر کے استعمال کا کرایہ لیتا ہوں تو وہ جائز اور جب میں اپنے پیسے کا کرایہ لیتا ہوں تو ناجائزکیسے؟اسی طرح میں کوئی چیز نفع کے ساتھ بیچتا ہوں تو یہ نفع کمانا جائز لیکن جب میں اپنے پیسے کوبیچتا ہوں، اس پر نفع کماتا ہوں تو ناجائزکیوں؟‘‘

بعض اوقات یہ اور اس طرح کے سوالات ہمارے ذہنوں میں بھی گردش کررہے ہوتے ہیں۔اور اصولی طور پر سود کے انکار کے بعد بھی یہ سوالات کھٹکتے رہتے ہیں۔

آئیے ان سوالات کا جائز ہ لیتے ہیں کہ سوال کرنے والے سے غلطی کہاں ہوئی ہے۔

پہلی بات تو ان شبہات کی وجہ سرمایہ دارانہ نظام معیشت کے ہمارے ذہنوں پر اثرات ہیں کہ ہم ہر چیز کو اسی ذہنیت سے دیکھتے ہیں، جس سے ایک سرمایہ دار انہ نظام معیشت کا حامی ،غیرمسلم دیکھ رہا ہوتا ہے۔ہمیں اپنا زاویہ نگاہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ایک مسلمان کی طرح سوچیں سمجھیں،چیزوں کو پرکھیں،جس کے مدنظر دنیا ایک راہ گزر ہے۔

زر کے بغیر تجارت کرنا مشکل ہوجاتا ہے جیسا قدیم بارٹر سسٹم میں تجارت کرنا مشکل ہوتا تھا۔اللہ تعالی نے زر کو انسانوں کی فلاح کے لئے اُتارا اور ہم نے زر کومالِ تجارت قرار دے کر اس نعمت کی ناشکری کی۔

جب ہم ان شبہات کا جواب دیں تو :

پہلا جواب تو وہ ہے جو قرآن نے ہمیں دیا، قرآن نے سورۃ البقرۃ آیت نمبر 275 میں غیرمسلوں کے اعتراض کو بیان کیاکہ :

یہ غیرمسلم کہتے ہیں کہ خریدو فروخت تو ربا(سود) ہی کی طرح ہے۔(لہٰذا جس طرح سود حرام ہے تو خرید و فروخت بھی حرام ہونا چاہئے یا جس طرح خرید و فروخت حلال ہے تو سود بھی حلال ہونا چاہئے )۔

پھراللہ پاک نے دوٹوک جواب دیاکہ:

اللہ نے خرید وفروخت کو حلال قرار دیا اور سود کو حرام قرار دیا(لہٰذا جس چیز کو اللہ نے حلال کیا اسے حلال مانو اور جسے حرام قرار دیا اسے حرام مان لو)۔

یہ ہے ایک مسلمان کا رویہ کہ جس کام کو اللہ تعالی نے حلال قرار دے دیا اسے حلال سمجھے اور جسے حرام قرار دیا اسے حرام سمجھے ۔کسی چیز کے حرام ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اللہ تعالی نے اسے حرام قرار دیا ہے۔

لیکن اسلام کے احکامات عقل کے مطابق ہیں۔اور مختلف حکمتیں ہر حکم میں موجود ہیں۔ان حکمتوں پر کسی چیز کے حلال یا حرام ہونے کا دارومدار تو نہیں لیکن بعض اوقات حکمتوں کے معلوم ہونے سے عمل میں آسانی ہوجاتی ہے۔

تو آئیے ہم قرآن کے سود کے حرام ہونے اور خرید و فروخت کے حلال ہونے کے حکم کو عقل کی بنیاد پر دیکھتے ہیں۔

سود کی حرمت کے عقلی دلائل کو دو نکات میں سمجھتے ہیں۔

زر اور دیگر چیزوں میں فرق:

پہلا سوال یہ کہ میں اگر گھر کرائے پر دوں تو جائز اور پیسہ کرائے پر دوں تو ناجائز ۔ایساکیوں؟تو اصل بات یہ ہے کہ پیسہ اور دیگر اثاثہ جات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔وہ اس طرح کہ :

زر کی اپنی ذاتی کوئی قیمت نہیں:

زر سے اس وقت تک فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا جب تک کہ اسے خرچ نہ کردیا جائے۔اس بات کو اس طرح سمجھیں کہ اگر آپ کے پاس لاکھ روپے ہیں ۔یہ لاکھ روپے آپ کی کسی ضرورت کو پورا نہیں کرسکتے۔نہ تو یہ لباس کی ضرورت پوری کرسکتے ہیں ،نہ ہی یہ آپ کی رہائش کی ضرورت پوری کرسکتے ہیں، نہ ہی کھانے پینے کی ۔

جبکہ زر کے علاوہ دیگر اشیاء کا معاملہ یہ ہے کہ ان کے اندر خود انسان کی کسی نہ کسی ضرورت کو پورا کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔جیسے گاڑی سے آپ اپنی ٹرانسپورٹیشن کی ضرورت پوری کرتے ہیں، اسی طرح مکان سے رہائش کی ،یا کھانے پینے کی اشیاء سے اپنی خوراک کی،اسی طرح ہرچیز میں انسانی ضرورت کو پورا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔اس فرق کی وجہ سے زر اور دیگر اشیاء کے ساتھ برتاؤ بھی مختلف ہونا چاہئے ۔

کرنسی کی کوالٹی میں فرق نہیں ہوتا:

ایک اور فرق کرنسی اور دیگر چیزوں میں یہ ہے کہ کرنسی میں کوالٹی کا فرق نہیں ہوتا۔ایک100 کا نوٹ نیا ہے اور ایک پرانا،مڑا ہوا۔لیکن دونوں کی قدر و قیمت بالکل ایک جیسی ہوگی۔جتنی اشیاء نئے نوٹ سے خرید سکتے ہیں اتنی ہی چیز پرانے نوٹ سے خرید سکتے ہیں۔

جبکہ دیگر اشیاء میں ایسا نہیں ہوتا۔ان کی کوالٹی میں فرق سے ان کی قیمت میں فرق آجاتا ہے۔ یقیناً ایک پرانی کار اور ایک نئی کار کی نہ تو کوالٹی ایک ہوگی اور نہ ہی قیمت ایک ہوگی۔اس فرق کا تقاضا ہے کہ زر اور دیگر اشیاء کے احکامات میں بھی فرق ہونا چاہئے۔

زرکو متعین نہیں کیا جاسکتا:

تیسرا فرق زر اور دیگر اشیاء میں یہ ہے کہ زر کو متعین نہیں کیا جاسکتا ۔یعنی اگر آپ نے 100کا کڑک نوٹ دکھا کر کہا کہ اس نوٹ سے میں یہ چیز خریدتا ہوں۔تو کیا آپ کے لئے لازمی ہوگا کہ آ پ وہی 100کا نوٹ دیں یا آپ کوئی بھی 100کا نوٹ دے سکتے ہیں؟تو جواب یہ ہے کہ آپ 100روپے دینے کے پابند ہیں، کڑک نوٹ دینے کے پابند نہیں ہیں۔

لیکن زر کے علاوہ کسی اور چیز میں ایسانہیں ہوسکتا۔اگر آپ نے ایک سفید کار کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ میں یہ خرید تا ہوں۔اب اگر بیچنے والا چاہے کہ میں کوئی اور بالکل اس جیسی کار دے دوں تو خریدنے والا منع کرسکتا ہے کہ وہی کار دی جائے جس کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زر اور دیگرا شیاء میں فرق ضرور ہے ۔اور یقیناً اس فرق کی وجہ سے ان کے ساتھ معاملہ پر اثرپڑے گا۔

زر اور دیگر چیزوں کی حقیقت میں اختلاف کی وجہ سے شریعت نے زر اور دیگر اشیاء کے درمیان معاملات میں دو حوالوں سے فرق کیا ہے۔

زر تجارت کا ذریعہ نہ کہ قابلِ تجارت سامان:

خرید و فروخت کے معاملات میں زر کی حیثیت ذریعہ مبادلہ کی تو قابل قبول ہے۔قیمتوں کا تعین اور ادائیگی زر کے ذریعے ہی کی جاتی ہے۔لیکن خود زر کی خرید و فروخت؟دیگر اشیاء کی طرح نہیں کی جاسکتی۔

اور امام غزالی اسے اللہ کی نعمت کی ناشکری فرماتے ہیں کہ زر کا مقام دیگر اشیاء کی قیمتوں کا تعین ہے ،دیگر اشیاء کی تجارت میں آسانی فراہم کرنا ہے، اس کی حیثیت حاکم کی ہے، اس کے بغیردیگر اشیاء کی قیمتوں کا تعین نہیں کیا جاسکتا۔اس کے بغیر تجارت کرنا مشکل ہوجاتا ہے جیسا قدیم بارٹر سسٹم میں تجارت کرنا مشکل ہوتا تھا۔اللہ تعالی نے زر کو انسانوں کی فلاح کے لئے اُتارا اور ہم نے زر کومالِ تجارت قرار دے کر اس نعمت کی ناشکری کی۔

زرکے تبادلہ میں برابری:

جب یہ بات طے ہوگئی کہ زر میں کوالٹی کا فرق نہیں ہوتا تو بنیادی طور پرزر کی تجارت کی ضرورت ہی نہیں۔ اور اس کی تجارت کرنا اللہ تعالی کی نعمت کی ناشکری ہے۔

لیکن پھر بھی اگر کسی صورت میں زر کا زرسے تبادلہ کرنا پڑ جائے جیسے بعض اوقات قرض کی شکل میں یا کسی اور ضرورت کے لئے تو چونکہ زر کی کوالٹی میں کوئی فرق نہیں تو ان کے تبادلہ کے وقت اضافہ طلب کرنا کیسے درست ہوسکتا ہے؟لہٰذا زر کا زر سے تبادلہ کے وقت اس میں اضافہ کی اجازت نہیں دی جائے گی اور یہی عقل کا تقاضا بھی ہے۔

قرض کے معاہدے کی حیثیت

دوسرا اہم نکتہ سود کے مسائل کو سمجھنے میں یہ ہے کہ قرض کے معاہدے کی کیا حیثیت ہے؟

معاہدات عموماً دو طرح کے ہوتے ہیں۔

ایک تجارتی معاہدات جن میں پارٹیاں تجارتی مفادات کے تحفظ کے ساتھ کسی معاہدے میں داخل ہورہی ہوتی ہیں۔جیسے خرید و فروخت،کرایہ داری یا شراکت داری وغیرہ کے معاہدات ہیں۔

دوسری جانب کچھ معاہدات وہ ہوتے ہیں جن کی بنیاد باہمی امداد پر ہوتی ہے۔تجارت کرنا ان میں مقصد نہیں ہوتا جیسے کسی کو گفٹ دے دینا، یا خیرات وغیرہ دینا۔

قرض کا معاہدہ تجارتی معاہدہ ہے یا خیراتی؟

متذکرہ بالا نکات کی وضاحت سے یہ بات سمجھ میں آجانی چاہئے کہ پیسے کا تبادلہ جب پیسے سے ہوتو اس بات کی گنجائش نہیں بنتی کہ اس پر اضافہ لیا جاسکے۔کیونکہ جب دو نوں جانب پیسہ ہے ،اور پیسے کی کوالٹی میں ذرہ برابر فرق نہیں ہے تو اضافہ کیوں؟جب اضافہ کی عقل بھی اجازت نہیں دیتی تو اس سے نفع نہیں کمایا جاسکتا، اسی لئے شریعت نے قرض کے معاہدے کو خیراتی معاہدہ رکھا ہے اس پر آخرت میں ثواب ملے گا لیکن دنیا میں کچھ نہیں۔

لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام میں سرمایہ کاری کا کوئی اور طریقہ نہیں ہے۔ اسلام کے سرمایہ کاری کے طریقوں پر الگ کسی مضمون میں بحث ہوگی ۔بہرحال قرض ایک خیراتی معاہدہے ، تجارتی معاہدہ نہیں ہے۔

سود کو جائز قرار دینے کا انجام:

اسلام نے پیسے پر پیسے کمانے کی ممانعت کردی ساتھ ہی قرض کو ایک خیراتی معاہدہ قرار دیا ۔ان دونوں باتوں کا لحاظ نہ کرنے کی وجہ سے معیشت پر کیا اثرات پڑتے ہیں؟

ایک اہم نکتہ تو یہ ہے کہ اگرپیسہ پر پیسہ کمانے کی اجازت دے دی جائے تواس کے نتیجے میں حقیقی معاشی سرگرمیاں ختم ہوجاتی ہیں۔اور آج کے معیشت دان اسی پر پریشان ہیں کہ مصنوعی معاشی سرگرمیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں جن کی وجہ سے معیشت میں ہر وقت بحران کا خطرہ موجود رہتا ہے۔اور اسلام نے بہت پہلے اس کا دروازہ ہی بند کردیا تھا۔

قرض کو ایک تجارتی معاہدہ قرار دینے کانتیجہ یہ نکلا کہ وہ لوگ جن کے پاس پیسہ تھا وہ اس معاہدے سے بغیر کوئی حقیقی معاشی سرگرمی کئے کمانے لگ گئے اور پیسہ پر پیسہ کماتے کماتے وہ مالد ار ہوتے گئے دوسری جانب وہ افراد جو حقیقی معاشی سرگرمیوں میں لگے ہوئے ہیں، جنہیں کاروبار کے نفع نقصان کا خطرہ بھی ہے۔

وہ اپنی کمائی ہوئی دولت سے ان کو دیتے ہیں، جس سے معاشرے میں ایک طبقہ مالداروں کا اور ایک غریبوں کا پیدا ہوگیا۔ پھر اس پر مزید ظلم یہ کہ یہ طبقاتی فرق بڑھتا جارہا ہے۔ اور بنیادی وجہ قرض کو ایک تجارتی معاہدہ سمجھتے ہوئے اس پر نفع یعنی سود کمانا ہی ہے۔

اللہ رب العزت دل و جان سے سود کے خلاف نفرت ہمارے دلوںمیں بٹھا دے اور ہمارے معاشرے کو جلد از جلد اس لعنت سے پاک فرمائے اور ہمارا حصہ بھی اس میں شامل فرمائے۔


مکمل خبر پڑھیں