ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کی ممکنہ زمینی کارروائی سے متعلق خبروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اپنے فوجیوں کو ہوٹلوں اور پارکس میں چھپا رہا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا جو خطے میں اپنے فوجیوں کو اپنے ہی اڈوں پر محفوظ نہیں رکھ سکتا اور انہیں ہوٹلوں اور پارکوں میں چھپانے پر مجبور ہے، وہ ہماری سرزمین پر ان کی حفاظت کیسے کرے گا؟
ایرانی اسپیکر کی جانب سے بیان یہ خبریں سامنے آنے کے بعد آیا کہ امریکا ایران کے خلاف ممکنہ زمینی کارروائی کے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام نے اگرچہ ایران میں فوجی تعیناتی کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا، تاہم انہوں نے اب تک کسی بھی قسم کی ایرانی سرزمین پر قبضے کی واضح منصوبہ بندی کی تصدیق نہیں کی۔
ادھر ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے خطے میں موجود شہریوں کو امریکی فوجی اڈوں سے دور رہنے کی ہدایت جاری کر دی۔
ایرانی گارڈز کے بیان کے مطابق امریکی اور اسرائیلی افواج شہری علاقوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ شہری فوری طور پر ان مقامات کو چھوڑ دیں جہاں امریکی افواج موجود ہیں تاکہ انہیں نقصان نہ پہنچے۔