سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ شور اور تیز آوازیں اعصابی بیماریوں سے منسلک ہو سکتی ہیں۔ اس حوالے سے کی گئی ایک تحقیق کے مطابق روزانہ صرف ایک گھنٹہ حد سے زیادہ شور میں رہنا پارکنسنز کی بیماری (رعشہ) کی علامات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
چین میں محققین نے ایسے چوہوں پر تحقیق کی جو پارکنسنز بیماری کے ابتدائی مرحلے میں تھے۔ یہ ایک بڑھتی ہوئی اعصابی بیماری ہے جو دماغ کے ان خلیات کے مرنے سے ہوتی ہے جو ڈوپامین پیدا کرتے ہیں۔
اس بیماری سے دنیا بھر میں لاکھوں شہری متاثر ہیں۔ اس میں ڈوپامین کی کمی کے باعث کپکپی، توازن کے مسائل، جسم میں اکڑاؤ اور بولنے میں دشواری پیدا ہوتی ہے جو وقت کے ساتھ بڑھتی جاتی ہیں۔
چین میں کیے گئے مذکورہ بالا تجربے میں شامل چوہے بیماری کا شکار تھے لیکن ابھی ان میں علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں۔ محققین نے چوہوں کو 85 سے 100 ڈیسی بیل تک کی تیز آوازوں میں رکھا، جو کہ لان موور یا بلینڈر جیسی آواز کے برابر ہوتی ہیں۔
صرف ایک گھنٹے ان تیز آوازوں کے بعد چوہے آہستہ حرکت کرنے لگے اور ان کا توازن کم ہو گیا، جبکہ کنٹرول گروپ میں ایسا نہیں ہوا۔ اگرچہ ایک دن بعد وہ کچھ حد تک ٹھیک ہو گئے، لیکن جن چوہوں کو ایک ہفتے تک روزانہ ایک گھنٹہ تیز آواز میں رکھا گیا ان میں مستقل حرکت کے مسائل پیدا ہو گئے۔
تحقیق میں مزید یہ پتہ چلا کہ دماغ کا ایک حصہ جسے انفیرئیر کولی کیولس کہا جاتا ہے (جو آواز کو پراسیس کرتا ہے)، سبسٹینشیا نیگرا پارس کمپیکٹا سے جڑا ہوا ہے، جو ڈوپامین پیدا کرتا ہے اور پارکنسنز میں شدید متاثر ہوتا ہے۔
محققین کے مطابق اس حصے کی مسلسل سرگرمی تیز آوازوں جیسے اثرات پیدا کرتی ہے اور ڈوپامین بنانے والے خلیات کو نقصان پہنچاتی ہے۔ تحقیق کے مصنفین نے کہا کہ یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ ماحولیاتی عوامل پارکنسنز کی بیماری کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
پارکنسنز فاؤنڈیشن کے مطابق 2030 تک 12 لاکھ امریکی اس بیماری کا شکار ہوں گے، جبکہ ہر سال تقریباً 90 ہزار نئے کیسز سامنے آتے ہیں اور تقریباً 35 ہزار اموات ہوتی ہیں، یہ شرح ایک دہائی پہلے کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ ماحولیاتی عوامل اس اضافے کی ایک بڑی وجہ ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، مینیسوٹا میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق فضائی آلودگی (پی ایم 2.5) کے ذرات پارکنسنز کے خطرے کو 36 فیصد تک بڑھا دیتے ہیں۔
اسی طرح ایک اور تحقیق میں یہ بھی پایا گیا کہ روزانہ 11 یا اس سے زیادہ الٹرا پراسیسڈ غذائیں کھانے سے پارکنسنز کی ابتدائی علامات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے کیونکہ یہ ڈوپامین بنانے والے خلیات کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
پارکنسنز کی بیماری کا کوئی مکمل علاج موجود نہیں، لیکن ادویات اور دیگر طریقہ علاج کے ذریعے ڈوپامین کی کمی کو پورا کر کے علامات کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔