فرانسیسی ادیب ’’وکٹر ہیوگو‘‘

October 23, 2019
 

عالمی ادب میں فرانسیسی ادیب ’’وکٹر ہیوگو‘‘ کو کلیدی اہمیت حاصل ہے، جس کی ایک وجہ اس کا مشہورِ زمانہ ناول ’’Les Miserables‘‘ ہے، اس کا شمار دنیا کے عظیم اور بڑے ناولوں میں ہوتا ہے۔ اس ناول کو انگریزی زبان کے علاوہ 22 ممالک کی زبانوں میں ترجمہ بھی کیا گیا ہے۔ اردو زبان میں اس کا ترجمہ معروف مترجم باقر نقوی نے ’’مضراب‘‘ کے نام سے کیا۔ اس ناول کو پڑھتے ہوئے احساس ہوتا ہے، کس طرح فرانس کے ماضی کا ایک پورا عہد اس ناول کے خیال اور کرداروں میں سانس لے رہا ہے۔

وکٹر ہیوگو فرانسیسی ادیب، شاعر، ڈراما نویس، صحافی اور سیاست دان تھا۔ اس کو اُنیسویں صدی کا سب سے بڑا فرانسیسی ادیب تسلیم کیا جاتا ہے۔ ابتدا میں اس کی شہرت بطور شاعر تھی، لیکن بتدریج وہ ناول نگار اور ڈراما نویس کی حیثیت سے بھی مقبولیت حاصل کرتا چلا گیا۔ بطور ناول نگار اس کی شہرت ادب کے اعلیٰ درجے پر فائز ہوئی۔

26 فروری 1802 کو پیدا ہونے والا یہ عظیم ناول نگار 83 برس کی عمر میں اپنی تحریروں اور تخلیقات کے ساتھ ساتھ عالمی ادب میں رومانوی تحریک سے بھی پیوستہ رہا، جس کے عملی اثرات، اس کی ذاتی زندگی میں مختلف خواتین کی آمدورفت کی صورت میں دکھائی دیتے ہیں، لیکن سب سے بڑھ کر اس مزاج کی عکاسی، اس کے اپنے ناولوں میں تخلیق کیے ہوئے کرداروں کی شکل میں ملتی ہے۔

تقریباً ڈیڑھ سو برس قبل لکھے گئے اس ناول کی تخلیقی کہانی بھی بے حد دلچسپ ہے۔ وکٹر ہیوگو نے 1845 میں یہ ناول لکھنا شروع کیا اور 1861 میں یہ اختتام پذیر ہوا۔ دنیا کے عظیم ناولوں میں شمار ہونے والے اس ناول کو ہمیشہ مقبول رہنے والے 25 بڑے ناولوں میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔ انگریزی زبان میں اس کے متعدد ترجمے ہوئے، جس میں پہلا ترجمہ اکتوبر 1862 میں شائع ہوا۔ اردو زبان میں پہلی بار یہ عظیم ناول’’مضراب‘‘ کے نام سے دو جلدوں میں اشاعت پذیر ہوا، جس کو اکادمی بازیافت ، کراچی نے شائع کیا ہے۔

وکٹر ہیوگو کے اس ناول کا اردو ترجمہ جب کتابی صورت میں شائع ہوا تو اردو زبان کے مترجم باقر نقوی اردو ترجمے کے دیباچے میں اس ناول کے بارے میں مزید معلومات فراہم کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ’’اس ناول کے پانچ جز ہیں جبکہ 365 ابواب میں لگ بھگ 570,000 الفاظ پر مشتمل ہے۔ قدیم ناول ہونے کے باوجود وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یورپ کے قارئین کی اس ناول میں دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے۔

اس پر اب تک 10,000 تبصرے اور 412,000 کے قریب مضامین لکھے جاچکے ہیں۔ اس ناول پر مبنی 22 زبانوں میں لکھے گئے کھیل 42 ملکوں کے 219شہروں میں پیش کیے جاچکے ہیں اور سات کروڑ سے زیادہ افراد اِن سے محظوظ ہوچکے ہیں۔ جنوری 2010 میں اسی ناول پر مبنی دس ہزار واں کھیل پیش کیا گیا تھا۔ اب تک اس کو ایک سو سے زیادہ ایوارڈز مل چکے ہیں جبکہ کئی بار فلمیں بھی بن چکی ہیں۔‘‘

باقر نقوی اس شاہکار کے بارے میں مزید لکھتے ہیں’’یہ تصنیف بدلتے ہوئے فرانس کی بدحالی کے زمانے کی بہترین عکاس ہے۔ اس پر مستزاد ہیوگو کی باریک بینی نے اس میں چار چاند لگادیے ہیں، اگر چہ ناول بدنصیبی، خستہ حالی، ظلم، بدامنی، بغاوت، سرکشی، سازش،مکاری، لوٹ مار، قتل و خون وغیرہ سے عبارت ہے۔

اس میں جنگ بھی ہے، مذہب بھی ہے اور محبت بھی۔ تاہم اس میں ایسے کردار بھی ہیں جو بے انتہا فیاض ہیں، مذہبی ہیں، نیک نیت والے اور عام شہری ہیں، جنہوں نے اُس دورِ اِبتلا میں پریشاں حال لوگوں کے لیے بھلائی کے کام بھی کیے تھے۔ اپنے زمانے میں ہیوگو کو وہی درجہ حاصل تھا جیسا کہ جرمن زبان میں گوئٹے کو اور اردو میں غالب ومیر کوہواہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ مصنف موضوع میں اتناڈوب کر اور اتنی بار یک تفصیلات کے ساتھ تحریر کرتا ہے گویا وہ فکشن نہیں، تاریخ لکھ رہا ہو۔‘‘

عالمی ادب میں بے پناہ شہرت کے حامل اس ناول پر تازہ ترین فلم 2012 میں ہالی ووڈ میں بنائی گئی، جس کے ہدایت کار برطانوی نژاد آسڑیلین فلم ساز ’’ٹام ہوپر‘‘ تھے۔ اس فلم کے حتمی اسکرپٹ میں پانچ مختلف قلم کاروں نے حصہ لیا جبکہ آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکا سے تعلق رکھنے والے فنکاروں نے اس فلم میں کام کیا، جس میں ہیگ جیک مین، رسل کرو، اینی ہیتھ وے اور دیگر شامل ہیں۔ موسیقار کلائوڈ مائیکل سچون برگ‘‘ تھے۔ فلم کی مجموعی موسیقی میں تقریباً 50 دھنیں شامل کی گئیں۔ 85 ویں اکادمی ایوارڈز میں اس نے تین اعزازات اپنے نام کرنے کے علاوہ دنیا کے بہت سارے مقبول ایوارڈز بھی حاصل کیے۔

61ملین ڈالرز سے بننے والی فلم نے اپنی لاگت سے آٹھ نو گنا زیادہ منافع کمایا اور یہ ثابت کیا کہ اس ناول کی مقبولیت آج بھی فلم بینوں اور قارئین میں برقرار ہے۔ ماضی میں بھی اس ناول پر مبنی بہت ساری فلمیں بنائی گئی ہیں۔ وکٹر ہیوگو کے اسی ناول سے متاثرہونے کے بعد1977کو پاکستان میں ’’سلاخیں‘‘ نامی فلم بھی بنائی گئی، جس کے ہدایت کار حسن عسکری تھے جبکہ اداکاروں میں محمد علی، بابرہ شریف، غلام محی الدین، افضال احمد، قوی، طالش، ننھا اور دیگر تھے۔

فلم کے موسیقار کمال احمد تھے، آوازوں کا جادو جگانے والوں میں مہناز، مہدی حسن، اے نیئر اور اسد امانت علی خاں شامل تھے۔ اس فلم کا ایک گیت’’تیرے میرے پیار کا ایسا ناطہ ہے‘‘ کو بہت مقبولیت ملی، اس کے نغمہ نگار ریاض ارشد تھے۔ باکس آفس پر اس فلم کو شاندار کامیابی حاصل ہوئی تھی۔

دنیا کے بہت سارے ایسے ناول ہیں، جن کو ابھی تک اردو زبان میں منتقل نہیں کیا گیا اور نہ ہی فلمی صنعت نے ان سے کوئی استفادہ کیا ہے۔ اس تناظر میں اگر تراجم کیے جائیں اور فلمیں بنائی جائیں تو ہمارے ہاں ادبی معیار اور شعور کو فروغ ملے گا، قارئین بھی کتاب کی طرف واپس لوٹیں گے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے عالمی ادب کو تراجم اور فلم کی صورت میں مقامی طورپر ڈھالنے کی اشد ضرورت ہے۔