Advertisement

خاتمُ الانبیاء حضرت محمدﷺ کی دو جہاں میں امامت

October 25, 2019
 

پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری

ارشادِ ربانی ہے:وہی ہے (اللہ) جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے سب دینوں پر غالب کرے اور اللہ کافی ہے گواہ ،کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔(سورۃ الفتح)یہ رسول کیسے ہیں اور ان کی رسولوں میں کیا حیثیت ہے اور کس مرتبے پر فائز ہیں، قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ،ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے۔(سورۃ الاحزاب)

اس سچے اور صادق رسولﷺ کی زبان سے نکلے ہوئے ایک ایک لفظ پر مسلمان کا ایمان ہے کہ وہ حق ہے کہ تمام کفار مکہ کے سرداروں اور عوام نے گواہی دی کہ آج تک آپ کی زبان سے ہم نے نہ کوئی بات غلط سنی اور نہ ہی آپ نے کبھی غلط بیانی فرمائی۔ سورۂ احزاب کے نزول کے بعد رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:’’انا خاتم النبیین ولانبی بعدی‘‘اسی طرح ایک موقع پر آپ ﷺنے اپنے داہنے ہاتھ کی دو انگلیوں کو صحابہؓ کو دکھاکر بتایا کہ جس طرح ان دو انگلیوں میں کوئی اور انگلی نہیں ،اسی طرح میرے اور قیامت کے درمیان اور کوئی نبی نہیں۔ یہ تمام شواہد تو آپ یقیناً سنتے رہتے ہیں کہ نبیﷺ سلسلہ نبوت کے آخری پیغمبر ہیں اور آپ کی نبوت ورسالت قیامت تک کے لیے ہے اور کوئی نیا نبی اب ممکن ہی نہیں۔ اب جو بھی جھوٹا دعویٰ کرے گا، وہ حضور ﷺکے ارشادِ حق کہ میرے بعد 30 جھوٹے نبوت کے دعوے دار ہوں گے، ان میں سے ایک جھوٹا کذاب ملعون ہوگا۔

راقم یہاں تمام عالم میں محمد رسول اللہ ﷺکی امامت بتانا چاہتا ہے اوریہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ جب یکے بعد دیگرے انبیائے کرام آتے رہے اور آخر میں جب ان سب کے امام آگئے اور انہوں نے مقتدی بن کر ان کی حتمی امامت بھی قبول کرلی تو اب کس طرح ممکن ہے کہ امام الانبیاء کے بعد بھی کوئی نبوت کا دعوےدار آجائے؟اب جو بھی نبوت کا دعویٰ کرے گا ،وہ جھوٹا اور ملعون ہی ہوگا کہ اب خاتم الانبیاءﷺقیامت تک نبوت ورسالت کی امامت فرمارہے ہیں۔

عالم ارواح میں آپ ﷺکی امامت :

ارشادِ قرآن مبین:ترجمہ: ’’اور یاد کرو جب اللہ نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا جو میں تمہیں کتاب اور حکمت دوں، پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول (خاتم النبیین) کہ تماری کتابوں کی تصدیق فرمائے تو تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا، فرمایا (اللہ عزوجل نے) کیوں تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا بھاری ذمہ لیا، سب (انبیائےکرام از آدمؑ تا حضرت عیسیٰؑ) نے عرض کی ہم نے اقرار کیا فرمایا تو ایک دوسرے پر گواہ ہوجاؤ اور میں (خود) آپ تمہارے ساتھ گواہ میں ہوں‘‘۔(سورۂ آلِ عمران)حضرت علی ؓنے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ اور ان کے بعد جس کسی کو نبوت عطا فرمائی، ان سے سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی نسبت عہد لیا (یہ عہد اسی میثاق انبیاءؑ کے وعدے کے تحت تھا جو روزِ میثاق لیاگیا تھا) اور ہر نبی نے اپنی اپنی امت سے اسی بات کا عہد لیا کہ اگر ان کی حیات میں سید عالم ﷺمبعوث ہوں تو وہ آپ پر ایمان لائیں اور آپ کی (امت میں شامل ہوکر) مدد کریں اس سے ثابت ہوا کہ حضور تمام انبیاء علیہم السلام اجمعین میں تمام انبیاء سے افضل اور ان کے امام ہیں۔‘‘(تفسیری نوٹ: از مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی)

عالم اجسام میں آپﷺ کی امامت:

سلسلہ نبوت سیدنا آدم علیہ السلام سے شروع ہوا۔ آپ ایک طرف ابوالبشر ہیں اور دوسری طرف سلسلہ نبوت کے پہلے نبی، بقول نبی کریمﷺ عمارت نبوت کی پہلی اینٹ اور یہ مسلسل جاری رہا یہاں تک کہ قبل رسول اللہ ﷺحضرت سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام بنا باپ کے اللہ کی قدرت کا ایک کرشمہ بن کر دنیا میں بی بی مریم کے یہاں پیدا ہوئے اور پیدا ہوتے ہی اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور تمام پیغمبروں کے ساتھ یک آواز وعدہ فرمانے والے اپنا وعدہ نبھاتے ہوئے فرمانے لگے:ترجمہ: ’’اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اپنے سے پہلی کتاب توریت کی تصدیق کرتا ہوں اور ان (ایک) رسول کی بشارت سناتا ہوں جو میرے بعد تشریف لائیں گے۔ ان کا (صفاتی) نام احمد ہے‘‘۔(سورۃ الصف)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوتے ہی فرمارہے ہیں اس امت سے جو ان کے سامنے تھی کہ اے بنی اسرائیل، میں تمہاری طرف رسول مبعوث ہوا ہوں یہ نہیں فرمایا کہ میں کل انسانوں کا نبی و رسول ہوں اور ساتھ ہی فرمایا کہ میرے بعد صرف ایک رسول آنے والے ہیں جن کا آسمانوں پر بہت شہرہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بہت حمد کرتے ہیں جس کے باعث دنیا میں آنے سے پہلے آسمان والوں کے درمیان احمد کہلاتے ہیں کہ وہ اللہ کی سب سے زیادہ حمد فرمانے والے ہیں۔ جب نبی کریمﷺ کی بعثت ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺکی نبوتِ عامہ کا کئی مقام پر ذکر فرمایا مثلاً:ترجمہ: ’’(اے محبوب) ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر ایسی رسالت (عامہ کے ساتھ) جو تمام آدمیوں کو گھیرنے والی ہے۔‘‘(سورۂ سَبا) ایک مقام پر فرمایا:تم فرماؤ ،اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا رسول ہوں۔ (سورۃ الاعراف)

دونوں آیات میں رسالت عامہ اور تمام انسانوں کی طرف بھیجے جانے کا ذکر ہے اور اللہ تعالیٰ نے کوئی قید نہیں رکھی کہ آپ ﷺاپنی ظاہری حیات تک سب کے نبی و رسول ہیں، بلکہ آیت صاف ظاہر کررہی ہے کہ اب آپﷺ ہی کی رسالت ونبوت قیامت تک قائم ہے ،اس کا فیصلہ اللہ عزوجل نے مندرجہ ذیل آیت میں فرمادیا:محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ،ہاں (وہ) اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے۔(سورۃ الاحزاب)

یہ کلمات سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے کلمات سے قریب تر ہیں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور ان کا نام احمد ہے یہاں اللہ عزوجل نے آپ ﷺکا اسم ذات محمد فرمایا کہ وہ اب سلسلہ نبوت کے سب سے آخری نبی ہیں اور جب سب سے آخری نبی ہیں تو ان کے بعد اب کسی نئے نبی کی ضرورت نہیں۔امام احمدرضاؒ ایک جگہ فرماتے ہیں:

فتح باب نبوت پہ بے حد درود

ختم دورِ رسالت پہ لاکھوں سلام

لاریب کہ نبی کریم ﷺ نبوت ورسالت کے آخری نبی ورسول ہیں اور چونکہ اب کوئی نبی اور رسول نہیں آئے گا، اس لیے آپﷺ ہی کی رسالتِ عامہ آج بھی قائم ہے اور آپﷺ ہی دنیا میں آج بھی مسند امام الانبیاء پر فائز ہیں، جسے اختصار کے ساتھ واقعہ معراج میں سمجھا جاسکتا ہے اسے امام احمدرضا نے اپنے ایک شعر میں مکمل بیان کردیا ؎

نمازِ اقصیٰ میں تھا یہی سر، عیاں ہوں معنیٰ اول و آخر

کہ دست بستہ ہیں پیچھے حاضر، جو سلطنت آگے کرگئے تھے

سفر معراج بیت اللہ تا بیت المقدس نص قرآنی سے ثابت ہے، اس کا انکار کرنے والا قرآن کا منکر ہوگا اب قرآن کا ارشاد ملاحظہ کیجئے:پاکی ہے اسے (اللہ کو) جو اپنے بندے (محمد رسول اللہﷺ) کو راتوں رات لے گیا (جسم و روح کے ساتھ براق پر) مسجد حرام (بیت اللہ سے) مسجد اقصیٰ تک جس کے گرد اگرد ہم نے برکت رکھی کہ ہم اسے اپنی نشانیاں دکھائیں ،بے شک وہ سنتا دیکھتا ہے۔(سورۂ بنی اسرائیل)اللہ تعالیٰ فرمارہا ہے کہ ہم نے اسے اپنی نشانیاں دکھائیں ایک بڑی نشانی یہ دکھائی گئی کہ جس طرح تمام انبیاء و رسولوں سے میثاق انبیاء کے موقع پر آپﷺ کے حوالے سے عہد لیا تھا ،وہ سارا منظر آج دنیا میں بھی دکھایا جارہا ہے کہ وہ تمام انبیائے کرام ؑجو اس میثاق کے وقت وہاں موجود تھے، سب کے سب اپنے جسموں کے ساتھ دنیا میں بیت المقدس میں جمع ہیں کہ وہ قبلۂ اوّل ہے جب سب یہاں جمع تھے ،اس وقت نبی کریمﷺ اپنی سواری پر سوار حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ مسجد اقصیٰ پہنچے، سب نے آپ کا استقبال فرمایا اور اپنا اپنا تعارف کروایا اور آخر میں حضرت محمد ﷺنے بھی اپنا تعارف فرمایا، آپﷺ فرماتے ہیں:’’تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے مجھے تمام جہانوں کے لے رحمت بناکر بھیجا اور جس نے مجھے نسل انسانیت کو بشارتیں دینے والا اور ڈرسنانے والا بناکر بھیجا اور جس نے میرے اوپر حق وباطل میں واضح فرق کرنے والی کتاب نازل فرمائی۔ اللہ نے میرا سینہ کھول دیا اور میں وہ ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے فاتح عالم بنایا۔تمام خطبات سننے کے بعدحضرت آدم علیہ السلام نے یا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ فیصلہ دیا کہ اے گروہ انبیاء، لاریب کہ محمد رسول اللہ ﷺہم سب میں افضل ہیں، لہٰذا آج ہماری امامت آپ ہی فرمائیں گے، چنانچہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپﷺ کو امامت کے لیے آگے کردیا اور نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺنے مسجد اقصیٰ میں دو رکعت نماز کی امامت فرمائی اور ایک لاکھ 24ہزار انبیائےکرامؑ نے آپ کے پیچھے مقتدی کی حیثیت میں نماز دوگانہ ادا کی اور سب نے اللہ تعالیٰ سے کئے گئے وعدے کو وفا کیا کہ آپ کی فضیلت کا اقرار زبان سے بھی کیا اور عمل سے بھی کیا اور دو رکعت آپﷺ کےپیچھے نماز پڑھ کر یہ وعدہ پورا کردیا کہ محمد رسول اللہﷺ ہم سب میں افضل اور ہمارے امام ہیں کہ:دست بستہ ہیں پیچھے حاضر جو سلطنت آگے کرگئے تھے۔اب رہتی دنیا تک کوئی اس امامت کے لائق ہونہیں سکتا اور جو اس وقت اس مجلس میں شامل نہیں تھا تمام جھوٹے دعوےدار وہ اس گروہ کا ممبر ہو نہیں سکتا جو دعویٰ کرے گا، وہ جھوٹا اور ملعون ہی ہوگا۔

عالم حشرمیں آپﷺ کی امامت:

اب رہتی دنیا تک ایک ہی کلمہ ایک انسان کو مسلمان بناتا ہے کہ وہ زبان سے اقرار کرے اور دل سے یقین جانے کہ اب محمد رسول اللہ ﷺہی نبی ہیں اور کوئی انسان اس منصب کے لائق نہیں کہ جب کتاب مبین میں یہ فرمادیا گیا :آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کیا۔ (سورۃ المائدہ)اس لیے کتاب کی تکمیل، دین اسلام کے آخری اور پسندیدہ دین ہونےاور آپﷺ کو خاتم النبیین قرار دینےاور دنیا میں تمام انبیائے کرام کا آپﷺ کو امام بنانے کے بعد کوئی گنجائش باقی نہ رہی کہ آپﷺ کے بعد کوئی دعویٰ نبوت کرے۔اس جھوٹےپر اللہ کی لعنت، تمام رسولوں کی لعنت، تمام فرشتوں کی لعنت اور تمام مسلمانوں کی لعنت، اور ہر اس مخلوق کی طرف سے لعنت جو حضور ﷺکو نبی جانتے اور پہچانتے ہیں۔

خاتم الانبیاء ﷺکی یوم حشر میں امامت:

حضور ﷺنے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھےتین سوال دئیے، میں نے دو بار عرض کی! الٰہی میری امت بخش دے، الٰہی میری امت بخش دے اور تیرا سوال اس دن کے لیے اٹھا رکھا ہے جس میں تمام خلق میری طرف نیازمند ہوگی، یہاں تک کہ ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی۔ (صحیح مسلم ،کتاب الفضائل القرآن)امام احمدرضاؒ نے کئی احادیث شفاعت کو اکٹھا کر کے حشر کے میدان کا ایک منظر پیش کیا ہے کہ کس طرح قیامت کے دن لوگ ایک نبی سے دوسرے نبی کے پاس بھیجے جارہے ہوں گے اور آخر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضورﷺ سے متعلق کیا فرمائیں گے ، انتہائی اختصار سے اس منظر کو ملاحظہ کریں۔ اس منظر کوتفصیل سے پڑھنے کے لیے فتاویٰ رضویہ جدید، جلد 30، کے صفحہ 219 تا 225 ملاحظہ کریں، یہاں صرف اس منظر کی ایک جھلک ملاحظہ کریں:’’روزِ قیامت اللہ تعالیٰ اولین و آخرین کو ایک میدانِ وسیع و ہموار میں جمع کردے گا کہ سب دیکھنے والے کے پیشِ نظر ہوں اور پکارنے والے کی آواز سنیں۔ رہ رہ کرتین گھبراہٹیں لوگوں کو اٹھیں گی۔ آپس میں کہیں گے دیکھتے نہیں تم کس آفت میں ہو، کس حال کو پہنچے، کوئی ایسا کیوں نہیں ڈھونڈتے جو رب کے پاس شفاعت کرے کہ ہمیں اس سے نجات دے، پھر خود ہی تجویز کرینگے کہ آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام ہمارے باپ ہیں، ان کے پاس چلا جائے ،پس لوگ آدم علیہ السلام کے پاس جائینگے اور عرض کرینگے، آپ ’’ابوالبشر‘‘ ہیں، آپ اپنے رب کے پاس ہماری شفاعت کیوں نہیں کرتے کہ ہمیں وہ نجات دے۔ آدم علیہ السلام فرمائیں گے،میں اس قابل نہیں ہوں مجھے آج اپنی جان کے سوا کسی کی فکر نہیں، آج میرے رب نے وہ غضب فرمایا ہے کہ نہ ایسا پہلے کبھی کیا نہ آئندہ کبھی کرے،تم کسی اور کے پاس جاؤ، حضرت آدم علیہ السلام حضرت نوحؑ کا پتہ دیںگے کہ جاؤ ان کے پاس جاؤ کہ وہ پہلے رسول ہیں، اب تمام لوگ حضرت نوحؑ کے پاس جائینگے۔ حضرت نوح علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس بھیجیں گے ،وہ سیدنا موسیٰ کلیم اللہ ؑکے پاس اور وہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجیں گے۔ تمام انبیائےکرامؑ وہی جواب دیں گے جو سیدنا آدم علیہ السلام نے دیا تھا ،جب تمام لوگ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے پاس حاضر ہوں گے اور عرض کریںگے کہ آپ ’’روح اللہ‘‘ ہیں، آپ اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت کیجئے آپ عرض کریںگے:میں اس لائق نہیں، یہ کام مجھ سے نہ نکلے گا، آج مجھے اپنی جان کے سوا کسی کا غم نہیں، میرے رب نے آج وہ غضب کیا ہے کہ نہ کبھی ایسا کیا، نہ کرے، تم کسی اور کے پاس جاؤ۔ لوگ عرض کریںگے ،اب کہاں جائیں آپ عرض کریںگے، تم اس بندے کے پاس جاؤ جس کے ہاتھ پر آج اللہ نے فتح رکھی ہے اور آج کے دن وہ بے خوف اور مطمٔن ہیں۔ اس کی طرف چلو جو تمام نبیوں کا سردار (نبی الانبیاء) ہے، تم محمد ﷺکے پاس جاؤ۔مزید فرمائیں گے،بے شک، محمد ﷺانبیاء کے خاتم ہیں اور آج وہ یہاں تشریف فرماہیں ،تم ان ہی کے پاس جاؤ ، تم ان ہی کے پاس جاؤ ،وہ تمہارے رب کے حضور تمہاری شفاعت کریںگے۔ اب سب لوگ تھکے ہارے حضور پرنور شافع یوم النشور ﷺکے حضور حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے:اے محمدﷺ، اے اللہ کےنبی آپ وہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ سے فتح باب فرمائے گا، آپ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں، اپنے رب کی بارگاہ میں ہماری شفاعت فرمائیے۔ حضور ﷺارشاد فرمائیں گے :میں شفاعت کے لیے ہوں، میں تمہارا وہ مطلوب ہوں جسے تمام موقف میں تم ڈھونڈتے پھرے ،اس کے بعد سلسلہ شفاعت شروع ہوگا۔امام احمدرضا نعتیہ انداز میں ان کیفیات کو یوں پیش کرتے ہیں:

فتح باب نبوت پہ بے حد درود

ختم دورِ رسالت پہ لاکھوں سلام

ایک جگہ فرماتے ہیں:

اب آئی شفاعت کی ساعت اب آئی

ذرا چین لے میرے گبھرانے والے

امام احمدرضا ؒکے منجھلے بھائی مولانا حسن رضا نے آپ کے اس سارے منظر کو اپنی نعت کے ایک شعر میں اس طرح عرض کیا:

فقط اتنا سبب ہے انعقاد بزم محشر کا

کہ ان کی شان دکھائی جانے والی ہے

اس سارے منظر کا یہاں بتانے کا مقصد یہ تھا کہ نبی کریم ﷺعالم اروح میں یوم میثاق انبیاء میں بھی امام الانبیاء تھے، سفرمعراج میں بھی نماز اقصیٰ کی دو رکعت میں بھی تمام انبیائے کرام کی امامت فرماتے ہوئے امام الانبیاء تھے اوریوم حشر میں بھی لوگ از آدم تا عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاتے رہیں گے، مگر بات بنے گی تو صرف اور صرف نبی الانبیاء وخاتم الانبیاء ﷺکی بارگاہ میں ۔اس موقع پر دنیا میں جھوٹے دعویٰ نبوت کرنے والے اپنا مقام جہنم میں دیکھ رہے ہوں گے اور جو دنیا میں صرف اور صرف محمد رسول اللہ ﷺپر خاتم النبیین کا عقیدہ رکھتے تھے ،وہ آج خاتم النبیینﷺ کی طرف دیکھ رہے ہوں گےاور آپﷺ رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے اور نام لے لے کر اشارہ کرتے جائیں گے کہ یہ ہمارا غلام ہے،یہ ہمارا غلام ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی بخشش کرتا جائے گا:

گنہگاروں کو ہاتف سے نوید خوش مآلی ہے

مبارک ہو شفاعت کے لیے احمد ساوالی ہے

یومِ حشر میں تمام شفاعت کا سلسلہ آپﷺ کی امامت میں ہی جاری رہے گا اور جب تک آخری امتی کو نہیں بخش والیں گے، آپﷺ جنت میں داخل نہ ہوں گے۔

آتے رہے انبیاءکَما قِیلَ لَھُم

وَالخَاتَم حَقکُم کہ خاتم ہوئے تم

یعنی جو ہوا دفتر تنزیل تمام

آخر میں ہوئی مہر کہ اَکمَلتُ لُکم

(امام احمدرضا)

(فاضل بریلویؒ…ایک نظر میں)

٭…آپ کا نام ’’محمد‘‘ رکھا گیا،دادا رضا علی خاں ؒ نے ’’احمد رضا‘‘ نام تجویز کیا،تاریخی نام ’’المختار‘‘ جب کہ ’’عبدالمصطفیٰ‘‘ اپنے نام کے ساتھ اضافہ کرتے۔٭… دس شوال 1272ھ بمطابق 1856ء کو بھارت کے شہر بریلی میں پیدا ہوئے۔٭…بنیادی دینی تعلیم اپنے والد حضرت نقی علی خاں ؒ سے حاصل کی،چودہ سال کی کم عمری میں پہلا فتویٰ دے کر مسندِ افتاء پر فائز ہوئے۔٭…آپ نسباً پٹھان، مسلکا حنفی قادری تھے۔1294ھ بمطابق 1877ء میں حضرت شاہ آل رسول کے ہاتھ پر سلسلۂ قادریہ میں بیعت فرمائی۔٭…ایک ماہ کی قلیل مدت میں قرآن کریم حفظ کیا ۔ کنزالایمان کے نام سے قرآن کریم کا اردو زبان میں ترجمہ تحریر کیا۔٭…نعتیہ کلام بنام حدائق بخشش کے ذریعے تاج دار حرمﷺ کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔٭…دو مرتبہ زیارت حرمین شریفین سے مستفیض ہوئے،سفرحرمین ہی میں تاج دار مدینہ ﷺ کی زیارت بابرکت سے فیض یاب ہونے کا شرف پایا۔٭… عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کے تحفظ کے سلسلے میں اہم کردار ادا کیا۔٭…پچاس سے زائد علوم وفنون پر دسترس حاصل تھی،دس ہزار سے زائد فتاویٰ دیے،ایک ہزار کے قریب کتابیں اور سیکڑوں کی تعداد میں رسائل تحریر فرمائے۔٭…فتاویٰ رضویہ جو کہ بلاشبہ فقہ حنفی کا انسائیکلوپیڈیا ہے،تحریر کیا،جسے رضا فاونڈیشن نے بہ تخریج حوالہ جات، عربی اور فارسی عبارتوں کے ترجمہ کے ساتھ تیس ضخیم جلدوں میں شائع کیا۔٭…متعدد اسکالرزنے فاضل بریلویؒ کی علمی اوردینی خدمات پر پی ایچ ڈی کیا، جو آپ کی کثیر الجہتی شخصیت کا آئینہ دار ہے۔ ٭…25صفرالمظفر 1340ھ بمطابق1921ء بروز جمعہ جب موذن نے ’’حی علیٰ الفلاح‘‘ کی صدا بلند کی،امام احمد رضا بریلویؒ کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی۔


مکمل خبر پڑھیں