چینی اسکینڈل رپورٹ: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان فاصلوں کو مزید بڑھادے گی؟

May 28, 2020

کورونا لاک ڈاؤن میں رمضان المبارک گزارنے والے پاکستانیوں نے عید الفطر بھی کورونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ کے خوف کے ساتھ لاہور سے کراچی جانے والے پی آئی اے کے طیارہ حادثہ میں 97افراد جاں بحق ہونے کے افسوس ناک واقعہ پر غم اور افسوس کے ساتھ منائی۔وفاقی حکومت کی اجازت سے ملک بھر میں ٹرینیں اورپبلک ٹرانسپورٹ کو چلانے کی بھی اجازت دے دی گئی مگر یہ پبلک ٹرانسپورٹ موٹر وے پر نہ چل سکی،ٹرانسپورٹروں نے موٹر وے پولیس کی پابندیوں میں گاڑیاں چلانے سے انکار کر دیاجس کی وجہ سے عید الفطر پر لوگ اپنے آبائی گھروں کو جانے کے لئے کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے ایس او پیز کی خلاف ورزی کرتے رہے۔

ایس او پیز کی خلاف ورزی کے اثرات تو عید الفطر سے قبل ہی نظر آنا شروع ہو گئے تھے تاہم طبی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ عید الفطر پر لوگو کی ملک گیر ٹرانسپوٹیشن کے نتیجہ میں وائرس کو کھل کر کھیلنے کا موقع ملے گا جس سے بڑی تعداد میں کورونا سے متاثرہ لوگ ملیں گے۔ وزیر اعظم عمران خان نے جمعۃ الوداع کے موقع پر طیارہ حادثے کی تحقیقات کے لیے چار رکنی کمیٹی قائم کرکے ایک ماہ میں تفصیلی رپورٹ طلب کرنے کا حکم دے دیا،حادثہ میں جاں بحق افراد کی تدفین کا عمل عید کے بعد تک جاری رہا۔طیارہ حادثے صرف ایک روز قبل ہی شوگر اسکینڈل کی انکوائری پر مامور جوائنٹ انکوائری کمیشن نے ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاء کی سربراہی میں انکوائری فرانزک رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کی تھی جس پر عمران خان نے کابینہ کا اجلاس طلب کرکے کابینہ کو رپورٹ پر بریفنگ دلوائی۔

اس موقع پر یہ فیصلہ تو سامنے نہ آسکا کہ کمیشن رپورٹ میں اربوں روپے کی ہیر پھیر کے مرتکب چینی مل مالکان کے چھ مخصوص گروپوں کے خلاف فوجداری مقدمات کے لئے نیب کو ذمہ داری سونپی جائے گی یا ایف آئی اے کو کردار ادا کرنے کا ٹاسک دیا جائے گا۔ وزیر اعظم عمران خان نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور اپنے سیاسی ساتھیوں کی کرپشن اور بدعنوانی کو چھپانے کے بجائے ان کے خلاف رپورٹ پبلک کر دی، رپورٹ میں جہانگیر ترین، عمر شہر یار،اومنی گروپ، شریف گروپ اور چودھری برادران کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ انکوائری فرانزک رپورٹ کی تفصیلات منظرعام پر لاتے ہوئے وزیر اعظم کے معاون خصوصی بیرسٹر شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ،صوبائی محکمے، وفاقی ریگولیٹر،ایس ای سی بی،مسابقتی کمیشن، شوگر ایڈوائزری بورڈ اور سٹیٹ بینک سمیت کسی بھی انتظامی ادارے نے اپنا فرض ادا نہیں کیا،88 شوگر ملموں نے پانچ برسوں میں صرف 10 ارب روپے ٹیکس دیا بظاہر تو 22 ارب ٹیکس دیا مگر 12 ارب ریفنڈ لے لیا، کمیشن رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد جہانگیر ترین نے تو الزامات کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا اور دعویٰ کیا کہ ہمیشہ شفاف کاروبار کرتا ہوں جبکہ دوسری طرف اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کے صاحبزادے رکن قومی اسمبلی مونس الٰہی نے قانون سازی کے لئے کمیشن کی سفارشات کی حمایت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کی وہ کسی سوگر ملز کی انتظامیہ میں شامل نہیں، حکومت کمیشن فرانزک رپورٹ سے کیاسیاسی نتائج حاصل کرتی ہے یہ کہنا کچھ قبل از وقت ہے، تاہم سیاسی مبصرین کا دعویٰ ہے کہ کمیشن رپورٹ نے حکومت اور اپوزیشن میں مزید فاصلے بڑھا دیئے ہیں جس سے ملکی سیاست میں نئی کشمکش شروع ہو گئی۔مقدموں سے حکومتی اتحادی ساتھ نہیں چل پائیں گے مفادات کا ٹکراؤ ہوگا تو پی ٹی آئی میں موجود دڑار مزید وسیع ہو گی۔

حکومت جو پہلے ہی پارلیمنٹ کو نظر انداز کرکے غیر منتخب مشیروں اور معاونین کے ذریعے بڑے بڑے فیصلے کر رہی ہے ۔یوں تو حکومتی عہدیدار پریس کانفرنسوں میں اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کا عندیہ دیتے ہیں مگر عملاًاسپیکر قومی اسمبلی کو ہی اپوزیشن سے رابطوں کے لئے استعمال کرت یہیں، اپوزیشن کے دباؤ پر حکومت نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کا جو اجلاس بلایا اس میں صرف تقریریں ہی ہو سکیں، قومی امور پر پارلیمنٹ ایک پیج پر نظر نہیں آئی،اپوزیشن کی خواہش ہے کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کے حکومتی اقدامات پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے 500 ارب روپے بجٹ فنانس بم کی شکل میں قومی اسمبلی سے منظور کر دیا جائے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاسوں میں گرما گرمی کی شدت زیادہ ہو گی، حکومت نے ایک طرف لاک ڈاؤن کو موثر بنانے پر توجہ نہیں دی دوسری طرف چاروں صوبوں کے لئے 500 ارب روپے کی جو ادویات ماسک،سینی ٹائزر،حفاظتی لباس اور کووڈ19جو ماسک خریدے گئے ہیں اس پر بھی قومی اسمبلی یا سینیٹ کی کوئی کمیٹی بنانے کی ضرورت محسوس نہیں کی، صرف ایک چینی کمپنی کو ٹھیکہ دینے پر اکتفا کیا گیا،اب تو سپریم کورٹ نے بھی کورونا علاج معالجے اور قرنطینہ کے بارے میں اخراجات کی تفصیل مانگ لی ہے۔

بعض حکومتی مخالفین کا الزام ہے کہ مریضوں کے تناسب سے 25 لاکھ فی کس اخراجات ہو چکے ہیں پہلے صرف پیسوں میں رشوت لینے دینے کا نظام چلتا تھا اب عمارتیں رشوت میں دی جا رہی ہیں، حکومت کی خریداری میں شفافیت پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں، مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے محسوس ہو رہا ہے کہ بیشتر سرکاری ادارے کام نہیں کر رہے پہلے بھی بند تھے مگر اب تو نظر آرہا ہے جب ادارے کام نہیں کرتے تو لوگ انصاف کے لئے اعلیٰ عدلیہ اور مسائل کے حل کے لئے فوج کی طرف دیکھتے ہیں مگر اقتدار پر ڈکٹیٹرشپ مسلط ہو یا سیاسی آمریت مسائل حل نہیں ہوتے۔

احتساب کا نظام موجودہ ہونے کے باوجود خرابیاں تسلسل سے جاری ہیں، موجودہ حکمران جن کو اقتدار میں لانے کے الزام بھی لگے مگر چیئرمین سینیٹ کے خلاف اپوزیشن اکثریت رکھنے کے باوجود تحریک عدم اعتماد کامیاب کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی تو یہ تاثر ملنا شروع ہو گیا ہے کہ یہ حکومت موجود رہے گی، ان کی کارکردگی پر سوال تو اٹھتے رہیں گے حکومت کے خلاف بولنے والے جیلوں میں تو جاتے رہیں گے مگر کوئی تحریک نہ چل سکے گی، اپوزیشن نہ چاہتے ہوئے بھی پارلیمنٹ میں حکومت کا ساتھ دینے پر مجبور رہے گی، مبصرین کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے ساتھ ہی سندھ حکومت کے اقدامات پر وفاق شور مچا رہا ہے جس کی وجہ سے سندھ میں گورنر راج کی باتیں بھی افواہوں کی شکل میں اٹھتی رہتی ہیں اور سندھ کارڈ کھیلنے کی دھمکیوں میں بھی اکثر سننے میں آجاتی ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی 2008ء سے سندھ میں بر سر اقتدار ہے مگر کراچی کے باشندے ابھی تک پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے کردار بھی مطمئن نظر نہیں آتے، ن لیگ کے دور اقتدار میں نواز شریف نے رینجرز بھیج کر کراچی میں جو امن قائم کیا تھا، اس میں تو لوگ خوش ہیں مگر روز گار کے مواقع بڑھانے اور روشنیوں کے شہر میں بنیادی انسانی سہولتوں کی فراہمی کو آبادی کے تناسب سے مہیا کرنے پر زور دیتے ہیں، پاکستان کی معیشت اس بات کی متقاضی ہے کہ جمہوریت جمہوریت کا راگ الاپنے والوں کو جمہوری پلیٹ فارم پارلیمنٹ ہاؤس کو اہمیت دینی چاہئے اور قومی امور کو مل بلا صوبائی اور لسانی تعصب کے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔