• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سینیٹری نیپکن پر ٹیکس کا خاتمہ کیا جائے،تحریم آفتاب

پشاور ( لیڈی رپورٹر) لڑکیوں کی حفظان صحت کے لیے استعمال ہونے والے سینیٹری نیپکن پر ٹیکس کا خاتمہ کیا جائےیہ مطالبہ خواتین کی حفظان صحت کے لیے کام کرنے والے جنڈر جسٹس نیٹورک سے وابستہ خواتین نے پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حفظان صحت کے لیے استعمال ہونے والے سینیٹری نیپکن پر آئندہ بجٹ مالی سال میں ٹیکس ختم کیا جائے تاکہ خواتین تک اس کی رسائی کو آسان بنایا جا سکے. نیٹ ورک کی ممبر تحریم آفتاب ، ماہر نفسیات عمارہ اقبال اور ثناء احمد نے کہا کہ خواتین کی تولیدی صحت اور صنفی برابری کے لیے قائم کردہ جنڈر جسٹس نیٹورک خیبر پختونخوا سے وابستہ لڑکیوں کا ایک گروپ ہے جو نوجوان خواتین میں حفظان صحت سے آگاہی پیدا کرنے کی غرض سے قائم کیا گیا ہے. حکومت کی جانب سے سینیٹری نیپکن کو پرتعیش اشیاء میں شمار کیا گیا ہے حالانکہ یہ خواتین میں حفظان صحت کو برقرار رکھنے کے لئے استعمال کی جانے والی بنیادی ضرورت ہے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے اس پر 12 فیصد ٹیکس کا نفاذ غیر منصفانہ ہے پاکستان بھر میں صرف 21 فیصد خواتین کی سینیٹری نیپکن تک رسائی ہے جب کہ خواتین کی ایک بڑی تعداد اس حوالے سے حفظان صحت کے اصولوں کو پورا نہیں کر پاتی جس سے ان کی صحت اور آئندہ آنے والی زندگی پر نہایت منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں سینیٹری نیپکن تک نارسائی ن کے محفوظ استعمال اور صحت کے بیشتر اصولوں سے ناواقفی کی وجہ سے بچیوں اور خواتین کی تعلیمی اور معاشی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں اور معاشرے میں وہ کردار ادا نہیں کر پاتی جس کی وہ مستحق ہیں اور جس کی وجہ سے معاشرے میں صنفی تفریق مزید بڑھتی ہے.
پشاور سے مزید