• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کہتے ہیں ، نام میں کیا رکھا ہے لیکن ایسا بھی نہیں ۔ ’’نام‘‘ سے بہت کچھ پتا چلتا ہے۔ عام و خاص ناموں میں بالکل ایسے ہی فرق ہوتا ہے جیسے ایک نکمے اور محنتی شخص میں۔ اگر کسی مشہور شخصیت کو تاریخ سے ہٹا دیا جائے تو لوگوںکو اُس کے بارے میں کیسے پتا چلے گا کہ اُس نے کیا کار ہائے نمایاں انجام دیئے۔ یہ خیال ہمیں اُن سڑکوں کو دیکھ کر آیاجو اپنے ناموں سے مشہور تھیں۔ مشہور تو اب بھی بیش تر سڑکیں اُن ہی ناموں سے ہیں لیکن اُن پر نئی چھاپ لگ گئی ہے۔ آج بھی بیش تر لوگ ان سڑکوں کو ماضی کے نام سے ہی جانتے ہیں۔ جیسے برنس روڈ، میکلوڈ روڈ، مشن روڈ وغیرہ۔ ذیل میں مختصراََ اُن چند سڑکوں کے بارے میں پڑھیں جن کے نام اب تبدیل ہوگئے ہیں۔ یعنی ماضی کے محسن حال میں غائب ہوگئے۔

کراچی کے اولڈ ایریا میں چہل قدمی کریں توکئی پچھتاوے تڑ پاتے ہیں یہاں ماضی کے ہیولے صاف صاف دکھائی دیتے ہیں۔ سونے جیسی دمک لیے قدیم عمارتوں کا حسن، تنگ بازاروں کا شور اور میمنی، مارواڑی، گجراتی زبان کا جادو بولنے لگتا ہے۔ قدیم کراچی کے گرد ایک دائرہ نما فصیل تھی، جسے انگریزوں نے توڑ کر ایک گول سڑک بنا دی تھی جو ’’ ہر چند رائے‘‘ روڈ کہلائی۔ یہ دھوبی گھاٹ اور عثمان آباد کے علاقوں سے گزرتی ہے۔ ہر چند رائے کی کراچی کے حوالے سے خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ 

وہ بلدیہ کراچی کے صدر تھے، اس کے علاوہ انہوں نےسندھ کو بمبئی سے علیحدہ کرنے کی تحریک میں بھی بھر پورحصہ لیا تھا۔ ان کی شخصیت غیر متعصب اور بے لوث سماجی رہنما کی تھی۔ لیکن سڑک کنارے ان کے نام کی تختی نظر نہیں آتی۔ عثمان آباد کے اس علاقے میں ملی جلی آبادی ہے کچھی اور گجراتی دکاندار بھائو تائو کرتے دکھائی دیتے ہیں ایک بڑا فرنیچر بازار بھی ہے۔ ایک اسپنسر آئی اسپتال بھی ہے۔ 

اس کی تاریخ کچھ اس طرح ہے کہ کراچی میں جب آنکھوں کی وبا پھیلی تو ڈاکٹر اسپنسر نے بہت بڑا کردار ادا کیا اور یہاں ایک ڈسپنسری کھولی۔ بعد ازاں 1938میں ایک عمارت تعمیر کر کے اسے اسپتال بنا دیا گیا۔ یہاں ایک تختی لگی تھی، جس میں آر کے سدھوا، ڈاکٹر انکل سریا ،حاتم علوی اور حاجی امام بخش چانڈو کے نام لکھے ہوئے تھے۔ لیکن پتے کےذیل میں سڑک کانام درج نہیں تھا یعنی ہر چند رائے کی خدمات کے عوض یہ سڑک جو ان کے نام سے موسوم تھی، اس کا نام بدل کر ’’صدیق وہاب‘‘ رکھ دیا گیا۔ 

ہر چند رائے کے دور میں ہی کراچی میں بجلی کی فراہمی ممکن ہوئی تھی۔ یہ شہر جو کسی زمانے میں روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا، اس میں ہر چند رائے کی کوششوں کا عمل دخل تھا، یہی نہیں بلکہ ان کے دور میں سڑکیں، اسپتال اور کئی رفاہی تعمیرات بھی ہوئیں۔ 1911سے 1921 تک وہ کراچی مونسپلٹی کے صدر رہے۔ 

انہوں نے کراچی کی ترقی کے لئے بے حد کام کیے اور اسے ایک جدید شہر بنا دیا۔ آج بھی رامسوامی کی ایک بلڈنگ کے نیچےلگی تختی کو بغور دیکھا جائے تو اس پر ان کا نام دھندلا دھندلا سا لکھا ہے۔ گل حسن کلمتی کی کتاب ’’کراچی جالافانی کردار‘‘ میں لکھا ہے، ہر چند رائے نے کچی سڑکوں کے بجائے ڈامبر متعارف کروائی اور ان کے کنارے فٹ پاتھ بنائے۔

کراچی کی ایک اور سڑک شاہراہ لیاقت کے نام سے ہے،جس پر اہم عمارات ، اسپتال اور بازار واقع ہیں۔ یہ شاہراہ ایوان تجارت کی محل نما عمارت سے شروع ہوتی ہے۔ تقسیم سے قبل یہ انڈین مرچنٹ ایسوسی ایشن بلڈنگ کہلاتی تھی۔ اس کے مقابل سندھ مدرسہ یونیورسٹی ہے ۔ مذکورہ سڑک پر مختلف اقسام کے جنریٹرز کی دکانیں ہیں۔ ماضی میں اس سڑک کا نام فیریئر روڈ رکھا گیا تھا، اگرچہ اس کا نام کر شاہراہ لیاقت رکھ دیا گیا ہے، مگر لوگ اسے فریئر روڈ ہی کہتےہیں۔ 

سر بارٹل فریئر کی خدمات پر سڑک کا نام رکھا گیا،سر بارٹل نے 1851میں کراچی میں پہلی عوامی لائبریری قائم کی، ان ہی کے دور میں کیماڑی سے کراچی کینٹ اسٹیشن تک ریلوے لائن بچھائی گئی تھی۔ کراچی سے ڈاک کا پہلا ٹکٹ جاری کیا، انہوں نے ہی کراچی میں میونسپل سسٹم کی ابتداء کی ، سندھ کے مختلف شہروں میں اسکول کھولے۔ وہ 1859تک سندھ کے کمشنر رہے۔ ان کے نام سے منسوب فرئیر روڈ کو اب شاہراہ لیاقت لکھا جاتا ہے، مگرعام بول چال اور پتہ بتانے کے لئے لوگ اسے فریئر روڈ ہی کہتے ہیں۔

رنچھوڑ لائن کا علاقہ ایک ہندو کے نام سے منسوب تھا ۔کہتے ہیں یہ علاقہ انگریزوں کے ابتدائی دور میں آباد ہوا تھا،ہندوؤں کے ساتھ ساتھ یہاں مارواڑی مسلمان بھی رہتے تھے، جن کا تعلق سلاوٹ برادری سے تھا، یہ سنگتراش تھے۔ اسی برادری کے ایک رہنما ہاشم گزدر 1941میں کراچی کے میئر منتخب ہوئے، اس سے قبل وہ مرکزی قانون ساز اسمبلی کے ممبر بھی رہے۔ ہاشم گزدر کے دور میں انڈس واٹر سپلائی کی اسکیم کی منظوری ہوئی ،جس کے تحت کراچی کو دریائے سندھ کا پانی مہیا کرنے کا کام شروع ہوا ۔ آج بھی رنچھوڑ لائن کے اس محلے کو گزدر آباد کے بجائے مارواڑی لین کہتے ہیں۔

نیپئر روڈ ایک بارونق علاقہ ہے۔ ایک زمانے میں یہاں ناچ گانے کی محفلیں سجتی تھیں۔ سڑک پر چائے خانوں اور موسیقی کے آلات فروخت کرنے والی دکانوں میں بھیڑ لگی رہتی تھی۔ یہ گہما گہمی تقسیم کے بعد بھی قائم رہی، مگر آج یہاں موبائل بنانے والوں کی دکانیں اور دندان ساز بیٹھے دکھائی دیتے ہیں۔ حلوے، کھیر اور سموسوں کے اسٹال بھی ہیں، جبکہ نگار اور کمار سینما اپنی گرد میں آپ چھپ چکے ۔ 

نیپئر روڈ
نیپئر روڈ

اب یہ نیپئر روڈ نہیں بلکہ ’’ میر کرم علی تالپور روڈ‘‘ کہلاتا ہے۔ساؤتھ نیپئر روڈ کا نام’’ الطاف حسین‘‘ روڈ رکھ دیا گیا ۔تختی سے کمشنر سندھ ہنری نیپئر کے نام کو مٹا دیا گیا، آج کی نسل کو یہ معلوم نہیں ہوگا کہ ان کے دور میں کراچی کی مشہور زمانہ ٹرام چلائی گئی تھی، ان ہی کے دور میں سندھ مدرستہ اسلام قائم ہوا تھا۔ انہوں نے ہی کراچی کو ایمپریس مارکیٹ کا تحفہ دیاتھا ۔ آج بھی مقامی رہائشی اپنا پتہ لکھتے ہیں تو سڑک کے نام کے آگے نیپئر روڈ ہی لکھتےہیں۔

ماضی کا لارنس روڈ
ماضی کا لارنس روڈ

ماضی کا لارنس روڈ اب نشتر روڈ ہے۔ اس پوری سڑک پر لکڑی اور سریے کے گودام ہیں، اس کے آس پاس بہت پرانی آبادی ہے، جہاں آج بھی لوگ ’’چال‘‘ میں رہتے ہیں۔ یہ ’’چال‘‘ اس بلڈنگ کو کہتے ہیں، جس کے ہر فلور پر ترتیب سے ایک ایک کمرے کے گھروں میں لوگ رہائش پذیر ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں کی ٹمبر مارکیٹ بہت مشہور ہے جو لی مارکیٹ پر جا کرختم ہوتی ہے۔ بزرگ اسےآج بھی لارنس روڈ ہی کہتے ہیں۔ یہ سڑک سندھ کے کمشنر اٹینلی ہنری لارنس کے نام سے تھی ،انہوں نے شہر میں صفائی ، روشنی اور تعمیراتی کاموں کے حوالے سے بہت کام کیا ان کے دور میں عوام کو سکون،چین نصیب تھا۔ لیکن پھر اس کا نام نشتر روڈ رکھ دیا گیا ، جو سردار عبدالرب نشتر کے نام پر رکھا گیا۔

جیمز اسٹریچن ایک انجینئر تھا، جس کی خدمات کو کبھی بھلایا نہیں جاسکتا۔جیمز کا خواب تھا کہ کراچی کو لندن جیسا بنا دیا جائے اور دیکھتے ہی دیکھتےانہوں نے اپنی ذہانت سے کراچی کی کایا پلٹ دی۔ پہلے لوگ کنوئوں سے پانی بھرتے تھے، جیمز کو ان کی مشکلات کا احساس تھا ۔اس کے لیے ایک اسکیم بنائی جس کے تحت شہر میں عوامی نلکے لگائے گئے، مختلف گلیوں میں ہینڈ پمپ کی تنصیب ہوئی ،طویل سڑکوں پر بتیاں لگائی گئیں، جس سے شہر جگ مگ کرنے لگا۔ شہری خوش ہوگئے کہ ان کے مسائل حل ہورہے تھے۔ ان کے دور میں شہر کے گندے پانی کے نکاسی کی اسکیم پر بھی عملدرآمد ہوا ،اس کے علاوہ بے شمار باغات، اسپتال اور تعلیمی ادارے قائم ہوئے، سو ان کی خدمات کے پیش نظر پاکستان چوک سےآرٹس کونسل چورنگی تک کی سڑک کو ان کے نام سے منسوب کیا گیا تھا، مگر آج وہی سڑک ایک صحافی’’ مولانادین محمد وفائی ‘‘کے نام سے موسوم ہے۔

کراچی کے محسنوں کے نام سڑکوں پر نصب تختیوں سے کھرچ دیے گئے۔ یہ نام رکھنے والے شائد کراچی کی تاریخ سے ناواقف تھے ۔ انہوں نے جو نام زبان زد عام تھے، جن میں مشن روڈ کو بابائے اردو، برنس روڈ کو فاطمہ جناح روڈ، وکٹوریہ روڈ کو عبداللہ ہارون، کوئنز روڈ کو مولوی تمیزالدین روڈ، میکلوڈ روڈ کو آئی آئی چندردیگر روڈ کر دیا۔ اسی طرح سمرسٹ اسٹریٹ کوتالپور روڈ، الفنسن کو زیب النساء، رمپارٹ روڈ کو آدم جی روڈ ،فریئر اسٹریٹ کو دائود روڈ اور گرانٹ روڈ کو حسرت موہانی کر دیا۔ جنہوں نے کراچی کو اپنے خون سے سینچا ان کے ناموں کو مٹا دینا، بھلا دینا بھی ناانصافی ہے۔