• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر:سید منور حسین جماعتی۔۔۔برمنگھم
( گزشتہ سے پیوستہ)
نبی آخرالزماںﷺ کی ولادت باسعادت تاریخ انسانی کا سب سے اہم واقعہ ہے، جسے پہلی امتوں کے ہر دور میں بھی سب سے زیادہ شہرت و مقبولیت حاصل رہی ہے۔ خواص و عام اپنی محفلوں میں بڑی دلچسپی اور محبت سے اس بات کا ذکر کرتے اور ایمان کی حرارت سے اپنے دلوں کو گرماتے۔اسی طرح حضور نبی اکرمﷺ کی آمد سے قبل حضرات انبیاء کرام اور رسولان عظام علیہم السلام نے بھی  بڑی محبت اور وارفتگی کے ساتھ اس کو اپنے پیروکاروں میں عام کیا، تسلسل سے اس کی تشہیر کی وجہ سے ہر قوم کو ہر دور میں یہ معلوم تھا کہ آخری زمانے میں ایک عظیم نبی تشریف لانے والے ہیں جو تمام انبیاء کے سردار، خاتم اور کائنات کے تاجدار ہوں گے، وہ سب سے برگزیدہ اور آخری رسولل ہوں گے جن کی کوئی مثل نہ ہوگا، قدرت نے انہیں اپنی تخلیق کا شاہکار بنایا ہے جس کی مثل نہ کوئی پیدا ہوا ہے اور نہ کبھی پیدا ہوگا۔ اسی بات کو حضرت خواجہ گولڑوی پیر سید مہر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے ان الفاظ میں پرویا۔کوئی مثل نہ ڈھولن دی چپ کر مہر علی ایتھے جاہ نیہوں بولن دی۔ نبیﷺنے فرمایا کہ ’’ایکم مثلی‘‘ یعنی تم میں سے کون ہے میری مثل،معلوم یہ ہوا کہ حضور نبی کریمﷺ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کائنات کا ایک عظیم ترین واقعہ ہے جس دن حضورﷺ کی اس جہان رنگ وبو میں تشریف آوری ہوئی، فرحت و انبساط کے اظہار کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی دن نہیں ہوسکتا۔ غم ہو یا خوشی، ہر انسان کا خاصہ ہے کہ وہ ان کیفیات کو اپنے اوپر طاری کرلیتا ہے، اسی طرح ہدایت ہو یا گمراہی، ان کا تعلق انسان کے نفسیاتی حقائق سے ہے، جب تک دل کے اندر حسن نیت کا پھول نہ کھلے اور انسان کے وجود میں کیفیت کی خوشبو نہ مہکے، اس وقت تک عمل کا گلشن بے بہار رہتا ہے، یہ کیفیت انسان کے دل و دماغ میں جاگزیں ہوجائے تو انسان صاحب حال ہوجاتا ہے اور افکار ہدایت اور انوار رضا کا نزول اس کے دل و دماغ میں ہونے لگتا ہے اور اسے پھر وہ نور عطا ہوتا ہے جس کے تتبع میں انسان زندگی کا سفر طے کرتا ہے۔ اس لحاظ سے ماہ ربیع الاول شریف خصوصی اہمیت و عظمت کا حامل ہے کیونکہ اس ماہ مبارکہ میں اس عظیم ہستی کا ظہور ہوا جو وجہ تخلیق کائنات ہیں، میلاد النبیﷺ کے پُرمسرت موقع پر محافل نعت، مجالس ذکر مصطفیﷺ اور خصوصی اجتماعات منعقد کیے جاتے ہیں اور جلوس میلاد نکالے جاتے ہیں جن میں لوگ انتہائی عقیدت و احترام اور جوش و خروش سے شریک ہوکر اپنے قلوب و اذہان کو محبوب خداﷺ کے ذکر جمیل سے معطر و منور کرتے ہیں۔ محافل میلاد کے اجتماعات میں آپﷺ کی سیرت و فضائل کا ذکر ہوتا ہے، آپﷺ کے خصائل و شمائل کی سیرت و صورت اور خلق عظیم کا پرتو جھلکتا دکھائی دیتا ہے، ان تذکار کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہم اس کے ذریعے اپنی زندگیوں کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر آقا کریم ﷺ کی تعلیمات اور متعین کردہ اقدار سے سنواریں اور اپنے شب و روز آپﷺ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت و سنت کے مطابق بسر کریں۔ محافل میلاد میں تذکار رسالتﷺ کے سلسلے میں آپ ﷺ کے شمائل بھی بیان کیے جاتے ہیں، آپﷺکے حسن و جمال اور خوبصورتی و رعنائی کے تذکرے بھی کیے جاتے ہیں، آپﷺ کے حسن سراپا کا ذکر جمیل قرآن و حدیث اور آثار صحابہؓ کی روشنی میں کیا جاتا ہے۔حضرت سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ ’’جب اندھیری رات میں آپﷺکی پیشانی  نمایاں ہوتی  تو روشن چراغ کی طرح چمکا کرتی۔‘‘اسی طرح جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ ’’چاندنی رات تھی اور 14ویں کا چاند چمک رہا تھا، حضورﷺ سرخ دھاری دھار چادر اوڑھے لیٹے تھے میں کبھی چاند کو دیکھتا اور کبھی آقا کریمﷺکے چہرہ انور کو تکتا کہ دونوں میں سے کون حسین ہے، بالآخر میرا یہی فیصلہ تھا کہ آپﷺ یقیناً چاند سے حسین تر ہیں۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضیٰ اللہ عنہافرماتی ہیں کہ ’’ایک مرتبہ میں رات کو سلائی کا کام کر رہی تھی کہ سوئی میرے ہاتھ سے گر گئی، بڑی تلاش کے باوجود نہ ملی، اسی اثناء میں حضور نبی کریمﷺ تشریف فرما ہوئے تو آپ ﷺکے چہرہ انور کے نور کی شعاعوں سے سوئی ظاہر ہو گئی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنا مشاہدہ یوں بیان کرتے ہیں کہ میں نے آپﷺ  سے زیادہ حسین و جمیل اور خوبصورت اور کسی کو نہیں دیکھا، یوں معلوم ہوتا ہے کہ آفتاب آپﷺ کے چہرہ انور میں چمک رہا ہے۔ اعلیٰ حضرت امام رضاؒ فرماتےہیں کہ اللہ کریم نے حضور انورﷺ کو ستر ہزار پردوںمیں مستور فرما کر بھیجا ورنہ کسی کو دیکھنے کی تاب نہ ہوتی۔ ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں،زلیخا پرانگشت طعن دراز کرنے والی عورتیں اگر اللہ کے حبیب ﷺ کا حسن و جمال دیکھ لیتیں تو انگلیاں کاٹنے کی بجائے اپنے دل چیر لیتیں۔یہی وہ حسن و جمال ہے جس کے ایک اشارہ ابرو پر مشاقان دید اپنی جانیں تک فدا کرنے کو تیار ہیں۔  اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام اہل جہاں پر شرف و فضیلت عطا فرمائی اور تمام اولین و آخرین کا سید اور سردار بنایا۔ آپﷺ کو اپنے قرب خاص سے نوازا اور شب معراج عرش پر بلا کر اپنا دیدار عطا فرمایا، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں آپﷺ کی اطاعت کو اپنی اطاعت، آپﷺ کی رضا کو اپنی رضا، آپﷺ کی بیعت  کو اپنی بیعت، آپﷺ کے فعل کو اپنا فعل، آپﷺکی نافرمانی کو اپنی نافرمانی ، آپﷺ کی مخالفت کو اپنی مخالفت اورآپﷺکی عطا کو اپنی عطا قرار دیا۔الغرض آپﷺ کی ولادت با سعادت کے احوال و واقعات کا تذکرہ پاکیزہ محافل و مجالس میں قلب و روح کو منور کر دیتا ہے،   حضور نبی کریمﷺ پوری دنیائے انسانیت کیلئے ایک ایسا انقلاب لے کر آئے جس کی عالمگیریت اور آفاقیت پر کبھی دو آراء نہیں ہو سکتیں، اس وجہ سے آپ کے پیروکاروں نے اپنے عظیم ہادی کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر انسانی تہذیب و تمدن کے ایسے مینار روشن کئے اور ہمہ گیر معاشی و معاشرتی ترقی کی وہ مثالیں قائم کیں جس کی نظیر پوری تاریخ عالم پیش نہیں کرسکتی ،اس لئے امت مسلمہ پر بدرجہ اولیٰ لازم ہے کہ وہ حضور نبی کریم ﷺ کا میلاد منانے میں اقوام عالم میں کسی سے پیچھے نہ رہے۔ آج کے دور میں اس امر  ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے کہ اپنی اولاد کو رسول کریمﷺ کی محبت کی تعلیم دیں اور ان کی تربیت اس نہج پر کریں کہ ان میں آقائے دوجہاںﷺ سے حبی و قلبی تعلق پختہ تر ہوتا چلا جائے، ان کے اندر یہ تعلق پیدا کرنے کے لیے میلاد النبی ﷺ منانے کی ترغیب موثر ترین ذریعہ ہے کیونکہ حدیث مبارکہ میں میرے آقاﷺ کے ارشاد گرامی کا مفہوم ہے۔ ’’اپنی اولاد کو تین باتیں سکھائو، اپنے نبیﷺ کی محبت، میرے اہل بیتؓ کی محبت اور قرآن کی محبت یعنی کثرت سے قرآن کریم کی تلاوت۔‘‘فی زمانہ اولاد کو حضور نبی کریمﷺکی محبت سکھانے کا اس سے موثر اور نتیجہ خیز طریقہ اور کوئی نہیں کہ جب وہ شعور کی عمر کو پہنچیں تو انہیں حضور ﷺ کا میلاد منانے کی ترغیب دی جائے اور زیادہ سے زیادہ ایسی محافل کا انعقاد کیا جائے جس میں حضورﷺ کی سیرت و کردار، اسوۂ حسنہ اور حضورﷺکے خلق عظیم کے تذکرے ہوں۔ بحیثیت والدین ہماری یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ ایمان کی دولت کو اگلی نسلوں کو منتقل کرتے رہیں کیونکہ ہمارے والدین نے ایمان کی عظیم دولت نہایت امانت و دیانت سے ہمیں منتقل کی، اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ایمان اور حب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ وراثت اپنی اولاد میں منتقل کردیں تاکہ محبت رسولﷺ کا پیغام اگلی نسلوں تک پہنچتا رہے۔آج مسلم دنیا کی صورت حال انتہائی پریشان کن ہے، عالم کفر و الحاد اور باطل کی یلغار مسلم نسلوں کو ایمان کی دولت سے محروم کرنے کی انتہائی کوششیں کررہی ہے، اس صورت حال سے نکلنے اور ایمان کی دولت کو محفوظ بنانے کے لیے حضور نبی کریمﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنا اور سیرت طیبہ کی پیروی کرنا ازبس ضروری ہے تاکہ اگلی نسلوں کو محبت رسول ﷺ کی لازوال دولت منتقل کرسکیں۔ربیع الاول ہمارے ظاہر و باطن کو بدلنے، ہمارے اندر باہر کو بدلنے، ہماری سوچوں اور جذبات کو بدلنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ربیع الاول کا پیغام ہے کہ ہم نے اس ماہ میں اپنے آپ کو بدلنا ہے، اپنی سوچوں اور انداز فکر کو بدلنا ہے، اپنے اٹھنے بیٹھنے کو، اپنے چلنے پھرنے کو، اپنی چاہتوں کو، اپنی سوچوں کو، اپنے جذبوں، اپنے رسم و رواج کو، اپنے خیالات کو بدلنا ہے تاکہ جب آقا کریم ﷺ سے ملاقات ہو تو وہ اپنے غلام کو دیکھ کر خوشی کا اظہار فرمائیں۔ انشاء اللہ
یورپ سے سے مزید